FBI اور کاش پٹیل کی سرگرمیاں

 





---روما محمود---



کاش پاٹیل کا مکمل نام۔ Kashyap Pramod Vinod Patel ہے

25 فروری 1980، Garden City، Long Island، نیویارک (USA) میں پیدا ہوئے۔

والدین گجراتی بھارتی اصل کے ہندوستانی مہاجر ہیں۔

ان کے والدین 1970 کی ابتداء میں یوگنڈا سے امریکہ آئے (یوگنڈا میں ان دنوں ایشیا مخالف پالیسیاں تھیں)۔

والد ایک ایوی ایشن کمپنی میں مالی افسر تھے۔

   2002 میں University of Richmond سے Bachelor’s degree (Criminal Justice اور History میں)۔


 
2005 میں Pace University School of Law سے Juris Doctor (JD) کیا۔
 
University College London سے International Law کا سرٹیفکیٹ بھی لیا۔

وہ ہاکی کے شوقین کھلاڑی اور کوچ بھی رہے ہیں۔

- 2005 سے کیریئر کا آغازPublic Defender کے طور پر Florida (Miami-Dade اور Southern District of Florida) میں کیا۔

8 سال تک وکیل رہے، جہاں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مالی جرائم، ہتھیاروں کے کیسز وغیرہ کیسز لڑے۔
- 2013-2014 میں U.S. Department of Justice (DOJ) کے National Security Division میں Terrorism Prosecutor بنے۔

اوباما دور میں ال-Qaeda، ISIS اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مقدمات چلائے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں اضافہ (2017-2021)
- 2017 میں House Intelligence Committee میں Senior Counsel بنے (Counterterrorism پر کام کیا)۔

2019 میں National Security Council (NSC) میں Deputy Assistant to the President اور Senior Director for Counterterrorism بنے۔
Acting Director of National Intelligence کے Principal Deputy بھی رہے (17 انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نگرانی)۔

- 2020 میںActing Secretary of Defense Christopher Miller کےChief of Staff بنے (Pentagon میں)۔

وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار سمجھے جاتے ہیں اور "Deep State" (گہری ریاست) کے خلاف تنقید کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے 2023 میں کتاب "Government Gangsters" بھی لکھی۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر (2025 سے اب تک)
20 فروری 2025 کو امریکی سینیٹ نے تصدیق کے بعد وہ FBI کے 9ویں ڈائریکٹر بنے (ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں)۔

یہ تقرری متنازع رہی کیونکہ وہ ٹرمپ کے قریبی ہیں اور FBI کی پرانی تحقیقات پر تنقید کرتے رہے۔

حالیہ واقعات (2026)
مارچ 2026 میں ایرانی ہیکرز (Handala Hack Team) نے ان کے ذاتی Gmail اکاؤنٹ کو ہیک کر لیا۔ پرانی ای میلز (2010-2019) اور ذاتی تصاویر لیک ہوئیں (سگار، شراب، ٹریول وغیرہ)۔ ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ سرکاری سسٹم یا حساس ڈیٹا متاثر نہیں ہوا۔
- (جیسا کہ آپ نے پہلے پوچھا تھا — ڈانس ویڈیو فیک تھی)۔

کاش پاٹیل کی کہانی امریکن ڈریم کی ایک مثال سمجھی جاتی ہے ۔
ایک ہندوستانی مہاجر کے بیٹے کا عام وکیل سے FBI ڈائریکٹر تک کا سفر۔ وہ Republican انتظامیہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور قانون کی بالادستی اور FBI میں اعتماد بحال کرنے پر زور دیتے ہیں۔


ایران سے منسلک ہیکر گروپ "ہنڈالا ہیک ٹیم" (Handala Hack Team) نے کاش پاٹیل کے ذاتی Gmail اکاؤنٹ کو ہیک کر لیا۔ انہوں نے 300 سے زائد پرانی ای میلز (2010-2019 کے درمیان) اور کچھ ذاتی تصاویر آن لائن جاری کر دیں۔

تصاویر میں کاش پاٹیل سگار پیتے، شراب کی بوتل کے پاس، پرانی کار کے پاس، ہوٹل/ریسٹورنٹ میں، اور فیملی/ٹریول سے متعلقہ دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ذاتی اکاؤنٹ تھا، ایف بی آئی کے سرکاری سسٹم کا نہیں۔ ایف بی آئی نے بھی تصدیق کر دی کہ کوئی حساس گورنمنٹ ڈیٹا یا آفیشل نیٹ ورک لیک نہیں ہوا۔

یہ واقعہ چند دن پہلے (27-28 مارچ 2026 کے آس پاس) سامنے آیا۔

"حالیہ ویڈیو" والی بات
بہت سے لوگ ایک ڈانس ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جس میں ایک شخص بالی ووڈ گانے "Sun Sahiba Sun" پر گھر میں ناچ رہا ہے، اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ کاش پاٹیل کی ہیک شدہ میل سے لیک ہوئی۔

-یہ 2022 کی پرانی ویڈیو ہے (ایک عام انڈین شخص کی، جو اپنی بیوی کے ماموں گھر جانے پر خوشی سے ناچ رہا تھا)۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔