کاسہِ تضحیک اور بونا قد  جب معاشرہ ٹانگ کھینچنے کو فن بنا لے

 




--- روما محمود---




انسانی جبلت کے عجائب خانے میں اگر سب سے بدصورت نمائش لگائی جائے، تو اس میں "دوسرے کو نیچا دکھانے" کے جذبے کو پہلا انعام ملے گا۔


یہ وہ زہر ہے جو شہد جیسی باتوں میں گھول کر پلایا جاتا ہے اور وہ خنجر ہے جو مصلحت کے غلاف میں لپیٹ کر سینے میں اتارا جاتا ہے۔



آج کے معاشرے میں کسی کی حوصلہ شکنی کرنا یا اسے سرِ عام شرمندہ کرنا محض ایک غلطی نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ "سماجی مشغلہ" بن چکا ہے۔

کیکڑا سوچ اور نفسیاتی گرہیں
نفسیات کی اصطلاح میں اسے "Crab Mentality" کہا جاتا ہے یعنی ٹوکری میں بند وہ کیکڑے جو خود تو باہر نہیں نکل سکتے، لیکن اگر کوئی دوسرا نکلنے کی کوشش کرے تو اسے ٹانگ سے پکڑ کر واپس کھینچ لیتے ہیں۔

جو شخص کسی دوسرے کی چھوٹی سی لکیر کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اپنی لکیر لمبی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ یہ رویہ اس احساسِ کمتری کا شاخسانہ ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

جب ایک فرد اپنی ناکامیوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا، تو وہ دوسروں کی کامیابیوں پر طنز کے نشتر چلا کر اپنے انا کی تسکین کرتا ہے۔

تہذیب کے لبادے میں چھپی ہوئی  درندگی نمایاں ہے ۔

مجھے یاد آتا ہے کہ جب میں نے ڈیکومینٹری کے لئے وڈیو کیمرہ لیا تو کس کس کی حسد نے میرے اردگرد آگ نہیں  لگائی ۔

پھر بھی جب آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تو میرے سارے کیمرے چوری کر لئے ۔

کیسے میرے مستقبل کو آگ لگا دی گئی ۔کیسے ہماری زندگیوں کو آگ میں جھونکا گیا ۔


جدید دور نے جہاں ہمیں ٹیکنالوجی دی، وہیں ہمیں "نفیس بدتمیزی" کے ہنر بھی سکھا دیے۔ اب کسی کو نیچا دکھانے کے لیے گالی گلوچ کی ضرورت نہیں رہی؛ اب یہ کام ایک طنزیہ مسکراہٹ، "محفل میں اڑائی گئی ایک جگت" یا سوشل میڈیا پر کی گئی ایک معنی خیز پوسٹ سے لیا جاتا ہے۔

: "میں تو بس مذاق کر رہا تھا" کا جملہ کہہ کر سامنے والے کی عزتِ نفس کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔

"مجھے تمہاری فکر ہے، اس لیے کہہ رہا ہوں" جیسے زہریلے جملے کسی کی خود اعتمادی کو اپاہج کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی اداروں سے لے کر ڈرائنگ رومز تک، ہر جگہ ایک دوڑ لگی ہے کہ کون کس کو لفظوں کے جال میں پھنسا کر چھوٹا ثابت کرتا ہے

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کے عیب اچھالنے سے ہمارے اپنے عیب نہیں چھپتے۔

قران میں لوگوں کے عیب چھپانے کا حکم ہے بتانے کا نہیں۔

انسان وہ ہے  جو گرے ہوئے کو اٹھائے، نہ کہ اٹھنے والے کو گرا دے۔

وہ معاشرے کبھی ترقی نہیں کرتے جہاں لوگ ایک دوسرے کے راستے کا پتھر بن جائیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ قد کاٹھ لباس یا عہدے سے نہیں، بلکہ ظرف سے ناپا جاتا تھا۔ کسی کو نیچا دکھا کر آپ لمحاتی طور پر خود کو بلند محسوس کر سکتے ہیں، لیکن ضمیر کے ترازو میں آپ کا وزن کم ہی رہتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مٹی کے ان پتلے بدنوں میں تھوڑی سی انسانیت اور تھوڑا سا لحاظ بھی بھر لیں۔ دوسروں کے لیے سیڑھی بننا سیکھیں، دیوار نہیں۔

آسمان کی بلندیوں پر وہی پرندے اڑتے ہیں جن کے پروں میں دوسروں کو گرانے کا بوجھ نہیں ہوتا۔




Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔