سلام انسانیت کا پہلا اور آخری رشتہ.
---روما محمود---
انسانی تہذیب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان، لیکن اس طویل سفر میں اگر کسی ایک لفظ یا عمل نے اجنبیوں کو دوست اور دشمنوں کو ہمدرد بنایا ہے، تو وہ ہے 'سلام'۔ سلام محض ایک رسمی لفظ یا سر جھکانے کی جنبش کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل فلسفہ ہے جس کی جڑیں امن، محبت اور سلامتی میں پیوست ہیں۔
اردو اور عربی زبان میں 'سلام' کا مطلب 'سلامتی' ہے۔ جب ہم کسی کو سلام کرتے ہیں، تو ہم دراصل اسے ایک غائبانہ ضمانت دے رہے ہوتے ہیں کہ "میری زبان اور میرے ہاتھ سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا"۔ آج کے دور میں جہاں عدم برداشت اور سماجی فاصلے بڑھ رہے ہیں، سلام ایک ایسا پل ہے جو دلوں کے درمیان موجود نفرت کی خلیج کو پاٹ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا جادوئی جملہ ہے جو انا کی دیواروں کو گرا دیتا ہے اور انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی انسانی برادری کا حصہ ہیں۔
نفسیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی کو دیکھ کر مسکرانا اور اسے سلام کرنا دونوں فریقین کے دماغ میں 'ڈوپامین' جیسے خوشگوار ہارمونز پیدا کرتا ہے۔ ایک اجنبی شہر میں جب کوئی آپ کو سلام کرتا ہے، تو آپ کو بیگانگی کا احساس کم ہوتا ہے۔ سلام کرنے والا شخص دراصل اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے، اور جواب دینے والا اس کے احترام کو تسلیم کرتا ہے۔ یوں ایک ایسا مثبت دائرہ (Positive Cycle) بنتا ہے جو پورے معاشرے کے مزاج کو بہتر بنا سکتا ہے۔
دنیا کے ہر کونے میں سلام کے مختلف رنگ ملتے ہیں۔
اسلامی تہذیب۔ 'السلام علیکم' کہہ کر دوسرے کے لیے مکمل سلامتی اور دعائے خیر کی جاتی ہے۔
جاپانی ثقافت۔ یہاں جھک کر سلام (Bow) کیا جاتا ہے، جو حد درجہ عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔
ہندوستانی معاشرت۔
'نمستے' کے ذریعے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اندرونی تقدس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
مغربی دنیا۔'ہینڈ شیک' (مصافحہ) یا 'ہیلو' کے ذریعے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا ہے۔
انداز جو بھی ہو، مقصد سب کا ایک ہی ہے۔تعارف اور خیر سگالی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم نے سلام کو بھی "مفادات" اور "رتبے" کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ ہم صرف اسے سلام کرتے ہیں جسے ہم جانتے ہیں یا جس سے ہمارا کوئی کام وابستہ ہوتا ہے۔
ہم بھول گئے ہیں کہ سلام کی اصل روح تو اس اجنبی کے لیے ہے جس کا ہم سے کوئی مفاد نہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ امن کا گہوارہ بنے، تو ہمیں 'پہل' کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ چھوٹا بڑے کو سلام کرے یہ ادب ہے، لیکن بڑا چھوٹے کو سلام کرے یہ 'اعلیٰ ظرفی' ہے۔
جس گھر اور جس گلی میں سلام عام ہوتا ہے، وہاں کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کا سکون رچ بس جاتا ہے۔
سلام ایک چھوٹی سی چابی ہے جو بڑے بڑے بند دلوں کے تالے کھول دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس میں جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوتا، لیکن اس کا منافع بے حساب ہے
آپ کا ایک چھوٹا سا "سلام" کسی کے پورے دن کی اداسی کو خوشی میں بدل سکتا ہے۔
لفظ "سلام" قرآن مجید میں مختلف صورتوں (اسم اور صفت وغیرہ) میں متعدد بار آیا ہے۔ اگر ہم صرف خاص لفظ "سلام" (بغیر کسی سابقہ یا لاحقہ کے) کی بات کریں تو اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
لفظ "سلام" کی تکرار۔ قرآن مجید میں لفظ "سلام" (السلام یا سلاماً) مجموعی طور پر 40 سے زائد مرتبہ آیا ہے۔
مختلف سیاق و سباق۔ یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثلاً۔
اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام۔ سورہ الحشر (آیت 23) میں اللہ تعالیٰ کو "السلام" (سلامتی دینے والا) کہا گیا ہے۔
جنت کی پکار۔ اہل جنت ایک دوسرے کو "سلام" کہیں گے اور فرشتے بھی انہیں "سلام" کہہ کر خوش آمدید کہیں گے۔
انبیاء پر سلام۔ قرآن میں مختلف انبیاء پر سلام بھیجا گیا ہے (مثلاً: سلامٌ علیٰ نوحٍ، سلامٌ علیٰ ابراہیم)۔
لیلۃ القدر۔ سورہ القدر میں اس رات کو "سلام" (سراسر سلامتی) قرار دیا گیا ہے۔
قرآن کی چند اہم آیات جہاں "سلام" کا ذکر ہے۔
سورہ یٰسین (آیت 58): "سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ" (مہربان رب کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا)۔
سورہ الرعد (آیت 24): "سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ" (تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے)۔
سورہ الفرقان (آیت 63): جب جاہل لوگ رحمان کے بندوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ جواب میں "قالوا سلاماً" (سلام کہتے ہیں)۔
اگر ہم مادہ "س-ل-م" (S-L-M) سے نکلنے والے تمام الفاظ (جیسے اسلام، مسلم، تسلیم، استسلام وغیرہ) کو شمار کریں تو یہ تعداد 140 سے زیادہ بنتی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ قرآن کا پورا پیغام ہی امن اور سلامتی پر مبنی ہے۔

Comments