کچنار, وہ شاہی سوغات جو ملکہ برطانیہ کے دسترخوان کی زینت بنی

 





--- روما محمود---




موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی جہاں گلاب  کی خوشبوئیں فضاؤں میں بکھرتی ہیں، وہیں پاکستان کے روایتی کچن میں ایک ایسی نایاب سبزی کی خوشبو مہکنے لگتی ہے جس کا انتظار سال بھر کیا جاتا ہے۔

یہ 'کچنار' ہے۔ایک ایسی نزاکت جو صرف چند ہفتوں کے لیے نمودار ہوتی ہے اور پھر ایک سال کے لیے روٹھ جاتی ہے۔ 

ہمارے گھر میں کچنار ہمیشہ سے  بنتی آئی ہے ۔

امی کچنار پکاتی تھیں  اور ابو شوق سے کھاتے تھے ۔



لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچنار محض ایک عام سبزی نہیں، بلکہ یہ وہ "شاہی سوغات" ہے جس نے برطانوی راج کے ایوانوں اور بالخصوص ملکہ برطانیہ (ایلزبتھ دوم) کے ذائقے کو بھی مسخر کر رکھا تھا؟

روایات بتاتی ہیں کہ ملکہ برطانیہ جب بھی پاکستان کے دورے پر تشریف لائیں یا لندن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کسی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، تو ان کے مینو (Menu) میں کچنار کو ایک خاص "ایگزوٹک" ڈش کے طور پر پیش کیا گیا۔ ملکہ، جو اپنی متوازن غذا اور نفیس انتخاب کے لیے جانی جاتی تھیں، کچنار کی ہلکی سی منفرد کڑواہٹ اور قیمے کے ساتھ اس کے سنگم کی مداح تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کے شاہی باورچی خانے میں جب پہلی بار کچنار کو متعارف کرایا گیا، تو اسے برصغیر کی "موسمی کلیوں" (Seasonal Buds) کا نام دیا گیا۔

ملکہ کے لیے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ قدرت نے ایک درخت کی ان بن کھلی کلیوں میں ایسا ذائقہ چھپا رکھا ہے جو گوشت کے ساتھ مل کر ایک شاہکار بن جاتا ہے۔

یہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ سفارتی حلقوں میں مشہور ہے کہ بہار کے مختصر سے موسم میں پاکستان سے خاص طور پر کچنار کے تحائف لندن بھیجے جاتے تھے۔ پاکستانی ہائی کمشنرز اور معززین اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ اگر ملکہ کے دسترخوان پر دیسی پکوان سجائے جا رہے ہیں، تو اس میں کچنار قیمہ لازمی شامل ہو۔

اس سبزی کی نایابی اور اس کا بہت کم وقت کے لیے دستیاب ہونا ہی اسے "شاہی" بناتا ہے۔

غذائیت اور شاہی صحت کا راز
ملکہ برطانیہ کی طویل العمری اور صحت مندی کا ایک راز ان کی سادہ اور قدرتی غذاؤں میں چھپا تھا۔ کچنار، جو اپنی طبی خصوصیات کے لحاظ سے خون صاف کرنے اور نظامِ ہضم کو درست رکھنے میں بے مثال ہے، شاہی طبی ماہرین کی نظر میں بھی ایک بہترین انتخاب تھا۔

آج جب ہم اپنے گھروں میں کچنار پکاتے ہیں، تو ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ کڑاہی میں موجود محض چند کلیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہماری تاریخ، ثقافت اور اس بین الاقوامی پسندیدگی کی علامت ہیں جس نے سمندر پار بیٹھی ایک ملکہ کو بھی اپنا اسیر بنا لیا تھا۔

کچنار کا ہر نوالہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زمین کتنی زرخیز اور اس کے ذائقے کتنے معتبر ہیں۔

کچنار کا درخت (Bauhinia variegata) کسی خاص دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں قدرت کا ایک انمول تحفہ بن کر اگتا ہے۔

فروری کے اواخر میں جب درختوں پر پتوں سے پہلے گلابی اور سفید کلیاں نمودار ہوتی ہیں، تو یہ منظر دیدنی ہوتا ہے۔ کچنار کی کاشت میں سب سے بڑی نزاکت اس کا "وقتِ چناؤ" ہے۔

اگر کلی تھوڑی سی بھی کھل کر پھول بن جائے تو اس کا ذائقہ تلخ اور ساخت سخت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہر مالی اور کسان سورج نکلنے سے پہلے ہی ان کلیوں کو شاخوں سے جدا کر لیتے ہیں تاکہ ان کی تروتازگی اور غذائیت برقرار رہے۔

شاہی طبیبوں سے لے کر جدید ماہرینِ خوراک تک، سبھی کچنار کی شفا بخش خصوصیات کے قائل ہیں۔ یہ سبزی خون کو صاف کرنے (Blood Purifier) کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے، جس سے نہ صرف جلد نکھرتی ہے بلکہ اندرونی فاسد مادوں کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کچنار ایک قدرتی نعمت ہے کیونکہ یہ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ، اس میں موجود فائبر نظامِ ہضم کو فعال رکھتا ہے اور موسم کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے۔

کچنار کا درخت محض لکڑی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ہماری مٹی کی زرخیزی اور قدیم حکمت کا استعارہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس "شاہی سوغات" کی کاشت اور اس کے طبی فوائد سے روشناس کرائیں، تاکہ یہ روایتی ذائقہ صرف کتابوں یا قصوں تک محدود نہ رہ جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔