ایران کا خارگ جزیرہ اور جنگ کے ثرات
---روما محمود---
جزیرہ خارک (Kharg Island یا جزیره خارگ) ایران کے خلیج فارس (Persian Gulf) میں ایک چھوٹا سا مرجانی (coral) جزیرہ ہے۔
یہ ایران کی معیشت کا دل اور تیل کی برآمدات کا سب سے اہم مرکز ہے۔
یہ ایران کے ساحل سے تقریباً 25 سے 28 کلومیٹر (15-17 میل) دور واقع ہے۔
بوشہر (Bushehr) بندرگاہ سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔
آبنائے ہرمز سے تقریباً 660 کلومیٹر شمال مغرب میں۔
تقریباً 20 مربع کلومیٹر (8 کلومیٹر لمبا اور 4-5 کلومیٹر چوڑا) یعنی منہٹن سے تقریباً ایک تہائی سائز کا۔
گہرے پانیوں کی وجہ سے بڑے آئل ٹینکرز (supertankers) یہاں آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں، جو ایران کے دیگر کم گہرے ساحلوں کے مقابلے میں اسے منفرد بناتا ہے۔
خارک جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل برآمد ہوتا ہے، جو بنیادی طور پر چین اور دیگر ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔
یہاں بڑی پائپ لائنز mainland کے بڑے آئل فیلڈز (جیسے Ahvaz, Marun) سے تیل لاتی ہیں۔
اسٹوریج کی صلاحیت, 30 ملین بیرل تک تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
لوڈنگ کی صلاحیت, ایک وقت میں 10 سے زیادہ سپر ٹینکرز لوڈ ہو سکتے ہیں، تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ۔
ایران کی معیشت کا بڑا حصہ تیل کی آمدنی پر منحصر ہے، اس لیے یہ جزیرہ ملک کی "معاشی شہ رگ" (economic lifeline) کہلاتا ہے۔
قدیم زمانے سے یہاں انسانی بستی تھی کیونکہ خلیج فارس کے چند جزیروں میں سے ایک ہے جہاں قدرتی میٹھا پانی دستیاب ہے۔
7ویں صدی کا ممکنہ عیسائی خانقاہ (monastery) کے کھنڈرات موجود ہیں۔
ماضی میں یہ جلاوطنی کا مقام بھی رہا ہے، لیکن 20ویں صدی میں تیل کی دریافت کے بعد یہ ایران کی تیل انڈسٹری کا مرکزی حصہ بن گیا۔
تقریباً 8,000 افراد (زیادہ تر تیل کے کارکن)۔
اسے "Forbidden Island" (ممنوعہ جزیرہ) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سخت فوجی نگرانی ہے اور عام لوگوں کا داخلہ محدود ہے۔
حالیہ تنازعات (2026 کے تناظر میں)
حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں یہ جزیرہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے، اس لیے اس پر ممکنہ حملے یا قبضے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایران اسے اپنے لیے انتہائی حساس مقام سمجھتا ہے۔
یہ جزیرہ نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔
اگر اس کی تنصیبات متاثر ہوں تو ایران کی معیشت پر بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
تاریخ (History)
خارک جزیرہ قدیم زمانے سے انسانی بستی کا مقام رہا ہے کیونکہ خلیج فارس کے چند جزیروں میں سے ایک ہے جہاں قدرتی میٹھا پانی دستیاب ہے۔
یہاں آثار قدیمہ ملتے ہیں، جن میں 7ویں صدی کا ممکنہ عیسائی خانقاہ (monastery) کے کھنڈرات شامل ہیں۔ ماضی میں یہ جلاوطنی (penal colony) کا مقام بھی رہا۔
1950-60 کی دہائی میں شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں اسے بڑے پیمانے پر تیل برآمداتی ٹرمینل میں تبدیل کیا گیا۔
امریکی کمپنی Amoco کے ساتھ شراکت میں 1960 میں پہلا بڑا شپمنٹ ہوا۔
1979 کی ایرانی انقلاب کے بعد یہ ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے کنٹرول میں آ گیا۔
ایران-عراق جنگ (1980-88): عراقی فورسز نے کئی بار حملے کیے، جس سے ٹرمینل کو نقصان پہنچا اور ایران کو عارضی طور پر لاواں اور سری جزیروں کی طرف جانا پڑا۔
یہ جزیرہ تاریخی طور پر "تجارتی پوسٹ" رہا ہے، لیکن 20ویں صدی میں تیل کی وجہ سے اس کی اہمیت آسمان کو چھو گئی۔
خارک ایران کی معاشی شہ رگ ہے — یہ تقریباً 90% ایرانی خام تیل کی برآمدات سنبھالتا ہے۔
ایران کے ساحل سے صرف 25-28 کلومیٹر دور، گہرے پانیوں میں واقع۔ بڑے سپر ٹینکرز (VLCC) آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں (جو mainland کے کم گہرے ساحلوں پر ممکن نہیں)۔
روزانہ 7 ملین بیرل تک (ایک وقت میں 10 سے زیادہ سپر ٹینکرز)۔
تقریباً 28-30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے (حال ہی میں اضافی ٹینکوں کی مرمت سے 2 ملین بیرل کا اضافہ ہوا)۔
پائپ لائنز mainland کے بڑے فیلڈز (Ahvaz, Marun وغیرہ) سے تیل آتا ہے۔
مشرقی جیٹی پر 6 ٹینکرز ایک ساتھ، مختلف قسم کے تیل (لائٹ، ہیوی) لوڈ ہو سکتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں 1.4 سے 1.7 ملین بیرل یومیہ (بیشتر چین کو جاتا ہے)۔
یہ ٹرمینل ایران کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے اور عالمی تیل کی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
حالیہ خبریں (Latest News – مارچ 2026)
ابھی (مارچ 2026) خارک جزیرہ امریکہ-ایران تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔
امریکی حملے۔ 13-14 مارچ 2026 کو امریکہ نے جزیرے پر فضائی حملے کیے، جن میں 90 سے زیادہ فوجی اہداف (ایئر ڈیفنس، ریڈار، ہوور کرافٹ بیس، ایئرپورٹ) تباہ ہوئے۔
تاہم تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر بچایا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزاد آمدورفت روکتا رہا تو تیل کی تنصیبات پر بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے، ایئر ڈیفنس، راکٹس اور بارودی سرنگیں (anti-personnel اور anti-armour mines) لگا دی ہیں تاکہ ممکنہ امریکی زمینی آپریشن (amphibious landing) کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ خارک پر قبضہ یا بلاکیڈ کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران کو ہرمز آبنائے کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔ مارین ایکسپیڈیشنری یونٹس علاقے کی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔
تیل کی برآمدات اب بھی جاری ہیں (تقریباً 1.4 ملین بیرل یومیہ)، لیکن تناؤ کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ہے۔ ایران نے "بے رحمانہ جواب" کی دھمکی دی ہے۔
یہ صورتحال ابھی تیزی سے بدل رہی ہے
خارک پر کوئی بھی بڑا حملہ ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔


Comments