تضادات کا اسیر سورج کی روشنی بمقابلہ برقی چراغاں اور انقلاب کی دوڑ۔ ۔
---روما محمود---
ایک طرف قومی معیشت اور توانائی کے بحران کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معمولات بدلیں، تو دوسری طرف سماجی ڈھانچہ اور گھریلو مجبوریاں ایک الگ تصویر پیش کرتی ہیں۔
وطنِ عزیز عجیب تضادات کا مجموعہ بن چکا ہے۔ قدرت نے ہمیں بارہ مہینے سورج کی بھرپور روشنی اور توانائی سے نوازا ہے، لیکن ہم شاید دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو سورج کی روشنی سے بھاگتے ہیں اور مصنوعی روشنیوں میں رزق تلاش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
ہمارے بازار دوپہر ڈھلے انگڑائی لے کر جاگتے ہیں اور اس وقت جوبن پر ہوتے ہیں جب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اگلے دن کی تیاری کے لیے بستروں میں جا چکے ہوتے ہیں۔
سال ہا سال سے ہم بجلی کی کمی اور مہنگی قیمت کا رونا روتے ہیں۔
حکمران کفایت شعاری کے وعظ کرتے نہیں تھکتے، یہاں تک کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی بتیاں گل کر کے "بچت" کا تاثر دیا جاتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یعنی "مارکیٹ ٹائمنگز" پر بات کرتے ہوئے سب کے پر جلتے ہیں۔
تاجر برادری کا سیاسی اثر و رسوخ اور حکومتوں کی مصلحت پسندی نے اس ملک کو ایک ایسے چکر میں پھنسا دیا ہے جہاں رات گئے تک دکانیں کھلی رکھنا "حق" سمجھ لیا گیا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کئی مارکیٹوں میں رزقِ حلال کی بنیاد "بجلی چوری" جیسے سنگین گناہ اور جرم پر رکھی جا رہی ہے۔
IMF بار بار بجلی چوری کے سنگین مسلئے کی نشان دہی کر چکا ہے ۔
دوسرا پہلو، سماجی ڈھانچہ اور خواتین کی مجبوریاں بھی اڑے آتی ہیں ۔
لیکن کیا یہ صرف تاجروں کی ہٹ دھرمی ہے؟
۔ ہمارے معاشرے میں خریداری کا بڑا دارومدار خواتین پر ہے، جن کا دن گھر کی ذمہ داریوں، بچوں کی دیکھ بھال اور باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔
"اگر دکانیں صبح کھل بھی جائیں، تو خریدار کہاں سے آئے گا؟"
یہ دلیل اپنی جگہ وزنی ہے کہ صدیوں سے رائج اس نظام نے خواتین کے لیے شام کے وقت کو ہی خریداری کا واحد موقع بنا دیا ہے۔
اور کچھ دیر کے لئے گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے باہر ہوا خوری ہو جاتی ہے اور دن بھر کی بیزار طبیعت کا بوجھل پن کم ہو جاتا ہے ۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس "روایت" کی قیمت اپنے ملک کے روشن مستقبل اور معیشت کی تباہی سے ادا کریں گے؟
میڈیا کی خاموشی اور وقت کی نزاکت جیسے سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔
ہمارا میڈیا ہر چھوٹے بڑے سیاسی ایشو پر گھنٹوں بحث کرتا ہے، مگر اس بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی پر خاموش رہتا ہے۔
حل کیا ہے؟
یہ تضاد اب ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہمیں واقعی ایک قوم بننا ہے تو ہمیں چند کڑوے فیصلے کرنے ہوں گے۔
بجلی چوری کا خاتمہ ، تجارتی مراکز میں بجلی کے ضیاع اور چوری کے خلاف زیرو ٹولرنس پالیسی۔
شعور کی بیداری عوام اور بالخصوص خواتین اعر مردوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ " شاپنگ" کو صرف شاپنگ نہ سمجھیں ۔ بلکہ یہ نہ صرف معیشت بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔
Outing بھی ہو جاتی ہے اور واک بھی جو لوگ دن بھر بیٹھے رہتے ہیں ان لوگوں کے لیے واک بہترین ہے ۔
اور خواتین دکانداروں سے قیمتوں پر بحث مباحثہ کر کے کم آمدنی اور گھر کا غصہ نکال لیتی ہیں۔
اور دکاندار بھی سیاست اور ملکی حالات کو برا بھلا کہہ کر غصہ نکال لیتے ہیں ۔
اسی لیے یہاں کوئی بہت بڑا انقلاب نہیں آتا ۔
ویسے تو آج کل online shopping بھی آسانی سے ہو جاتی ہے ۔
مگر بات پھر وہی بحث مباحثے کی نوبت نہیں آتی اور غصہ لوگوں کے اندر ہی اندر پروان چڑھتا ہے ۔
اس لیے ان معملات کو زیادہ نہ ہی چھیڑا جائے تو بہتر ہے ۔
اندھیروں میں چراغ جلا کر ہم سورج کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
اگر آج ہم نے لوگوں کی سوچ اور وقت کی نزاکت کو نہ پہچانا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی
جس نے دیے کی روشنی کے ہوتے ہوئے اندھیروں کا سودا کیا۔

Comments