ایک بھلی بسری یاد ۔سر مفتی ۔

 



----روما محمود----




آج رات کو  جب پی ٹی وی پر سر مفتی کی وفات کی خبر سنی تو
ذہن میں مہینہ پہلے کی بات یاد آ گئی۔

سر مفتی ہمارے استاد تھے ۔ سخت سے سخت بات بھی باتوں میں کہہ دیتے تھے۔

جب بندہ سٹوڈنٹ لائف میں ہوتا ہے وہ کچھ ناسمجھ ، بے وقوف اور لا پروا سا ہوتا ہے ۔

بہت سی باتیں سر کے اوپر نکل جاتی ہیں ۔
میرا بھی یہی حال تھا۔

کوئی کوئی بات پلے پڑتی تھی ۔

وہ بھی مجھ جیسا انسان جو ظاہری طور پر وہاں موجود ہو اور انکھیں اور کان کہیں اور کسی اور وقت میں ہوں ۔

جو لوگ سر مفتی کو  جانتے ہیں۔
وہ ان کے مزاج سے خوب واقف ہوں گے۔



مفتی جمیل الدین احمد پاکستان کے ممتاز ادیب، صحافی، دانشور اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سابق سینئر بیوروکریٹ تھے۔

وہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔


 انفارمیشن گروپ کے سینئر افسر، ڈائریکٹر جنرل APP۔ وہ ایک ممتاز ادیب، دانشور اور تدریسی شعبے سے بھی وابستہ رہے۔

ایک نظم پیاز پر ہمیں سنائی تھی ۔
کہ انسان بھی پیاز کی طرح layers میں چھپا ہوتا ہے ۔

میری یادوں میں جب پہلا سمسٹر تھا ۔میرے 25 نمبر آئے ۔
بہت کم تھے ۔

مجھے کہا ۔
Answer to the point .
Detail answers will not be entertained.

پھر میں نے اس پر ہی عمل کیا ۔اگلی دفعہ 52 نمبر آئے۔

ایک بار کلاس میں پوچھا 
De  cad.
کیا مطلب ہے ۔

میں سوچ میں پڑ گئی ۔
Decade

تلفظ امریکن انگلش میں تھا ۔

ایک دن کافی دیر غصے میں بولتے رہے ۔

کسی ٹیچر نے مجھ ناچیز کی تعریف کر دی تھی کہ بہت اچھی رائیٹر ہے شاعرہ ہے ۔

بعد میں انہیں احساس ہوا پھر مجھ سے میری book# مانگی۔

آخری بار جب ملاقات ہوئی تھی تو خاموش شاعرہ کہا تھا ۔

میری یادوں کئ پوٹلی میں بس یہئ  کچھ ہے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔