MIT کا پرندوں سے متاثر فلائیںگ-ونگ ایریل-ایکواٹک روبوٹ پیشہ ورانہ رپورٹ

 

---روما محمود---


MIT کے AURA Lab (پروفessor رافیل زفری کی قیادت میں) اور EPFL کے انجینئرز نے ایک ہلکا پھلکا فلائیںگ-ونگ ایریل-ایکواٹک روبوٹ (FAAV) تیار کیا ہے جو غوطہ خور پرندوں (جیسے پفنز) کی نقل کرتا ہے۔ یہ روبوٹ پانی کے اندر تیر سکتا ہے، پھر اپنے پروں کو پھڑپھڑا کر ہوا میں اڑ سکتا ہے ۔

 سب ایک ہی لچکدار پروں کے ذریعے




وزن 300 گرام سے کم، پروں کا پھیلاؤ تقریباً 80 سینٹی میٹر۔ یہ نازک سمندری ماحولیاتی نظام کی نگرانی، نمونے جمع کرنے، جنگلی حیات کا مشاہدہ اور دور دراز علاقوں کی تلاش کے لیے ایک سستی اور غیر مداخلت آمیز آلہ ہے۔

یہ تحقیق جولائی 2026 میں Science جریدے میں شائع ہوئی اور Lake Geneva میں کامیابی سے آزمائی گئی۔

اہم تکنیکی خصوصیات (Key Technical Highlights)

ڈیزائن: مرکزی جسم، لچکدار نایلون پروں (پانی سے بچاؤ والی کوٹنگ)، کاربن فائبر سپورٹ، سمت تبدیل کرنے والا دم۔ کھلا جسم جو غیر جانبدار تیراؤ (neutral buoyancy) کے لیے بنایا گیا۔

کارکردگی:

پانی میں تیرنا: ~1 میٹر/سیکنڈ (~5 Hz پروں کی حرکت)۔

ہوا میں اڑنا: ~6 میٹر/سیکنڈ۔

پانی سے ہوا میں منتقلی: 1 سیکنڈ سے کم وقت (8-10 پروں کی حرکت)۔

فائدہ: پرندوں کی طرح پاؤں کی ضرورت نہیں — صرف پروں اور دم سے کام چلتا ہے۔

استعمال کے شعبے (Applications)

سمندری حیاتیات اور سمندری تحقیق (غیر مداخلت آمیز مشاہدہ، پانی کے نمونے)۔

ماحولیاتی نگرانی (الجی کی نشوونما، ساحل کی تبدیلیاں، خطرے سے دوچار جانور)۔

ساحلی اور دور دراز علاقوں کی تلاش جہاں عام ڈرونز یا کشتیاں محدود ہوں۔

یہ پیش رفت سائنس اور تحفظ کے لیے ورسٹائل ایریل-ایکواٹک ڈرونز کی نئی نسل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔