سفید پوشی کا بھرمرکھنا آسان کام نہیں ، سب سے بڑی جنگ
---روما محمود---
ایک دینے والا جب لینے والا بنتا ہے، تو یہ صرف ایک مالی تبدیلی نہیں، بلکہ پوری شخصیت کی ایک ایسی ہجرت ہوتی ہے جس میں انسان کو اپنی ذات کے بہت سے حصوں کو مسمار کرنا پڑتا ہے۔
جو شخص کبھی دوسروں کی دستگیری کرتا رہا ہو، اس کے لیے سب سے مشکل کام "مانگنا" نہیں، بلکہ "ظاہر کرنا" ہے۔ وہ معاشرے میں اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اب حقیقت میں باقی نہیں رہی۔ اسے ہم "سفید پوشی کا بھرم" کہتے ہیں۔ہمارا رویہ اس معاشرے کی اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس میں وقت کا پہیہ کسی کی عزتِ نفس کو کیسے آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔دینے والے کا مانگنے والا بننا وقت کا ایک تلخ امتحاناسلامی تعلیمات اور معاشرتی روایات میں ہمیشہ یہ سکھایا گیا کہ "اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔" دینے والا ہاتھ ہمیشہ عزت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن زندگی کے کچھ موڑ ایسے بھی آتے ہیں جہاں حالات کا پہیہ ایسا گھومتا ہے کہ جو ہاتھ کل تک دوسروں کی جھولیاں بھر رہا تھا، آج اسے وہی ہاتھ کسی کے سامنے پھیلانا پڑ جاتا ہے۔یہ محض مالی نقصان نہیں ہے، یہ ایک انسان کی انا، اس کے اعتماد اور اس کی عزتِ نفس کا خون ہے۔
جو شخص ساری زندگی اپنے زورِ بازو پر جیتا ہے اور دوسروں کو سہارا دیتا ہے، اس کے اندر ایک خاص قسم کی خود داری پنپتی ہے۔ جب حالات کی ستم ظریفی، مہنگائی کی چکی یا کاروبار میں اچانک نقصان اسے اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ اسے کسی سے مدد مانگنی پڑے، تو وہ لمحہ اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔
اسے مانگنے کی شرمندگی سے زیادہ اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ وہ اپنی نظروں میں کیسے گرے گا؟ وہ سوچتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ کیا وہی لوگ جو کل اس کے دروازے پر آتے تھے، آج اسے حقارت کی نظر سے تو نہیں دیکھیں گے؟
بدقسمتی سے، ہمارا معاشرہ اکثر 'دینے والے' کی تو بہت عزت کرتا ہے، لیکن جیسے ہی وہی شخص 'مانگنے والا' بن جاتا ہے، لوگوں کے رویے بدلنے لگتے ہیں۔ وہی لوگ جو کل اس کے سامنے بچھے جاتے تھے، آج اس کا فون اٹھانے سے کتراتے ہیں۔
یہ رویہ اس شخص کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی کسی ایک حالت پر قائم نہیں رہتی۔ آج جو دینے والا ہے، کل اس کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا فانی ہے اور اس کی رونقیں عارضی ہیں۔
جو شخص کل تک صاحبِ ثروت تھا، آج اگر وہ کسی مشکل میں ہے، تو اس کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اس کا مذاق اڑائیں یا اس سے نظریں چرائیں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر اس کی مدد کریں۔ اسے احساس دلائیں کہ یہ صرف وقت کی ایک تبدیلی ہے، اس کی شخصیت کی نہیں۔
اصل انسان وہ ہے جو گرتے ہوئے کو دیکھ کر مسکرائے نہیں، بلکہ اسے سہارا دے کر دوبارہ کھڑا کرے۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ہے جو کبھی بہت کامیاب تھا اور آج کسی مشکل میں ہے، تو یاد رکھیں۔
ہم سب حالات کے قیدی ہیں۔ آج جس کے ہاتھ میں دینے کی طاقت ہے، کل وہی ہاتھ خالی بھی ہو سکتے ہیں۔ لہذا، دوسروں کی مجبوری کا احترام کریں، کیونکہ عزت دینے سے ہی عزت ملتی ہے، چاہے آپ دینے والے ہوں یا حالات کے مارے ہوئے۔
خاموشی سے اپنی تکلیف سہتا ہے، کسی سے گلہ نہیں کرتا، لیکن اس کی خاموشی میں معاشرے کی بے حسی کا ماتم ہوتا ہے۔ وہ مانگنا نہیں چاہتا، وہ مجبور ہے، لیکن معاشرہ اسے 'بوجھ' سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
وہ شخص اپنی پرانی وضع قطع، پرانے لباس اور پرانے لہجے کو برقرار رکھتا ہے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ یہ اداکاری اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
وہ محفلوں میں جانا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں کسی کو اس کی حالت کا اندازہ نہ ہو جائے۔ تنہائی اس کی مجبوری بن جاتی ہے کیونکہ وہ 'سوال' کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
ایک دینے والا جب مانگنے والا بنتا ہے، تو اس کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ اب اسے سمجھ آتا ہے کہ
اس نے سیکھا کہ جب وہ کسی کو دیتا تھا، تو اکثر وہ صرف رقم دیتا تھا، احساس نہیں۔ اب اسے احساس ہوا کہ کسی کی مشکل میں اس کا ساتھ دینا، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، اور اس کے سامنے احسان نہ جتلانا کتنی بڑی نعمت تھی۔
اب اسے سمجھ آتا ہے کہ گلیوں میں بھیک مانگنے والوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی خاموشیاں چیخ چیخ کر اپنی مدد آپ کے تحت خودداری کا اعلان کر رہی ہیں۔
جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کبھی آسودہ حال تھا، اب گر چکا ہے، تو ہمارا رویہ ہی اس کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ
ہمدردی وہ ہے جو خاموشی سے کی جائے، دکھاوا وہ ہے جس کے چرچے محفلوں میں ہوں۔ ایک انسان جب گرتا ہے، تو اسے مالی امداد سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اس کا وقار بحال کرے۔
ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ سوچیں کہ "اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟" یا "اس نے کہاں غلطی کی ہوگی؟"۔ آج کے دور میں معاشی حالات کسی بھی پل کسی کو بھی زمین پر لا سکتے ہیں۔
آخر میں، ایک دینے والا جب مانگنے والا بن جائے، تو اسے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ "رزق اور حالات کا تعلق انسان کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ وقت کے گردِش میں ہے۔"
اگر آپ کو کبھی کسی ایسے شخص کا سامنا ہو، تو اسے مدد دیتے ہوئے اپنے آپ کو اس جگہ رکھیں جہاں وہ کھڑا ہے۔ اسے یوں دیں جیسے وہ آپ کا حق ہے جو آپ اسے واپس لوٹا رہے ہیں، نہ کہ کوئی احسان۔
"سچ پوچھیں تو اصل دینے والا تو اللہ ہے، ہم تو محض ایک ذریعہ ہیں۔ آج وہ ذریعہ ہے، کل کوئی اور ہوگا۔"

Comments