مون سون رحمت کی رم جھم اور نظم و نسق کا امتحان
---روما محمود---
برسات کا پہلا قطرہ جب تپتی زمین کو چھوتا ہے تو کائنات کا منظر بدل جاتا ہے۔ مون سون کی آمد محض موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ ایک کیف و سرور کا نام ہے جو خشک شاخوں میں جان ڈال دیتا ہے اور گرمی کی شدت سے جھلسے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ اردو ادب اور شاعری میں تو ساون کو ہمیشہ وصل اور خوشیوں کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جب بادل گرجتے ہیں اور آسمان سے موتیوں کی طرح بارش برسنا شروع ہوتی ہے، تو پاکستان کے میدانی اور پہاڑی علاقے ایک نئی نویلی دلہن کی طرح نکھر جاتے ہیں۔ ہر سو ہریالی، ٹھنڈی ہوائیں اور مٹی کی وہ سوندھی خوشبو جو پہلی بارش کے ساتھ اٹھتی ہے، روح کو تازگی بخش دیتی ہے۔ یہ وہ موسم ہے جو ہمیں فطرت کے قریب لاتا ہے اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہمیں پل بھر کے لیے رک کر اس حسن کو دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
لیکن سکے کا دوسرا رخ اتنا ہی تلخ ہے۔ جیسے ہی بارش کی شدت بڑھتی ہے، ہمارے شہروں کا مصنوعی حسن بکھر جاتا ہے۔ نکاسی آب کا ناکارہ نظام، کھدائی زدہ سڑکیں اور کچے مکانات مون سون کو ایک نعمت سے زحمت میں بدل دیتے ہیں۔ ہر سال ہم انہی مسائل کو دہراتے ہوئے دیکھتے ہیں:
- معمولی بارش بھی سڑکوں کو دریا بنا دیتی ہے، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
-
- بارش شروع ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے۔
- اربن فلڈنگ یا شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان ہمیں ہر سال ایک نئے بحران سے دوچار کرتا ہے۔
مون سون کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے محض ایک موسمی کیفیت نہ سمجھیں۔ شہروں کے گندے پانی کی نکاسی کے نظام کو اپ گریڈ کرنا، کچرے سے بند نالوں کی بروقت صفائی، اور شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کو مدنظر رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اگر ہم اپنے انفراسٹرکچر کو جدید اور مضبوط بنا لیں، تو مون سون واقعی ہمارے لیے ایک رحمت ہی ثابت ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس موسم کے شعری اور جمالیاتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کے زمینی حقائق کو بھی بہتر کرنے کی کوشش کریں، تاکہ بارش کی آمد پر ہمیں ڈر نہیں، بلکہ سکون اور خوشی کا احساس ہو۔
اس ساون کو محض بادلوں کے گرجنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے شہروں کو بھی اس قابل بنائیں کہ وہ اس برساتی موسم کے ہر قطرے کو خوش آئند کہہ سکیں۔
مون سون ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تبدیلی ضروری ہے، چاہے وہ گرمی کے بعد بارش کی صورت میں ہو یا مشکلات کے بعد آسانی کی۔ جس طرح یہ موسم زمین کی پیاس بجھاتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اندر کے تخلیقی اور مثبت پہلوؤں کو اس بارش میں نکھاریں۔
اگلی بار جب آسمان پر بادل چھائیں، تو اسے صرف ایک موسم مت سمجھیے گا، بلکہ اسے قدرت کا ایک پیغام سمجھیے گا کہ "ہر تاریکی کے بعد روشنی، اور ہر خشک سالی کے بعد ساون ضرور آتا ہے۔"

Comments