سیاستدانوں کے کرائے کے غنڈے طاقت کا کالا سایہ

 



---روما محمود---




پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی سیاست میں "کرائے کے غنڈے" ایک ایسا عنصر ہیں جو جمہوریت کی خوبصورت شکل کو مسخ کر دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سیاستدانوں کی طرف سے مخصوص کاموں کے لیے بھرتی کیے جاتے ہیں—انتخابی دھاندلی، مخالفین کو دبانا، جلسوں کی حفاظت، اور طاقت کے مظاہرے۔ یہ غنڈے عام طور پر بے روزگار نوجوان، مجرموں کی تاریخ رکھنے والے، یا علاقائی گینگ لیڈر ہوتے ہیں جنہیں ماہانہ تنخواہ، اسلحہ، اور سیاسی تحفظ کا لالچ دیا جاتا ہے۔ آج میں اس کالم میں ان کے کردار، طریقہ کار، نفسیاتی پس منظر، سماجی اثرات اور جمہوری نظام پر ان کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالوں  گی۔




یہ موضوع حساس ہے، لیکن حقیقت سے منہ موڑنا ممکن نہیں۔
کرائے کے غنڈوں کی بھرتی اور ساخت
سیاستدانوں کے لیے کرائے کے غنڈے ایک "سکیورٹی نیٹ ورک" کی طرح کام کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ مقامی سطح پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔ شہروں کے غریب محلات، دیہی علاقوں کے جاگیردارانہ نظام یا نوجوانوں کے بے سروسامان گروپوں سے۔ بھرتی کا عمل سادہ ہوتا ہے: ایک واسطہ دار (جو اکثر مقامی ایم پی اے یا ایم این اے کا قریبی ہوتا ہے) نوجوانوں کو بلاتا ہے، انہیں "خدمت" کا موقع دیتا ہے، اور پہلے مرحلے میں چھوٹے کام سونپتا ہے جیسے پوسٹر چپکانا یا جلسہ جلوس میں نعرے لگانا۔
ایک بار وفاداری ثابت ہونے کے بعد تنخواہ شروع ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ایسے غنڈوں کی ماہانہ تنخواہ 30 ہزار سے لے کر 1 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے، علاوہ اسلحہ، موٹر سائیکل، اور "کام" کے دوران ہونے والے اخراجات۔ کچھ تو پارٹی کے "ونگ" کا حصہ بن جاتے ہیں، جیسے طلبہ یا youth wings، لیکن زیادہ تر "انفارمل" رہتے ہیں تاکہ پارٹی پر براہ راست الزام نہ لگے۔
یہ غنڈے اکثر ایک ہی علاقے یا برادری سے ہوتے ہیں، جس سے وفاداری مضبوط ہوتی ہے۔ ان کی ٹیموں میں لیڈر، فائرر، اور فالوورز کی تقسیم ہوتی ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو براہ راست سیاستدان سے رابطے میں رہتا ہے، جبکہ فالوورز سادہ کام کرتے ہیں۔ جدید دور میں سوشل میڈیا بھی ان کا ہتھیار بن گیا ہے—فیک اکاؤنٹس سے مخالفین کی تذلیل، ہیش ٹیگز چلانا، اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ۔
روزمرہ کے کام: دھمکی، تشدد اور دھاندلی
کرائے کے غنڈوں کے کام متعدد ہیں۔ سب سے عام ہے انتخابی دھاندلی۔ ووٹنگ کے دن یہ پولنگ سٹیشنوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔ مخالف امیدوار کے ایجنٹس کو مار پیٹ کر بھگاتے ہیں، بوٹھ کیپچر کرتے ہیں، اور جعلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں متعدد حلقوں میں ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جہاں مسلح جوان ووٹروں کو دھمکی دے رہے تھے۔ یہ صرف ووٹ نہیں چھینتے، بلکہ عوام میں خوف پیدا کرتے ہیں کہ اگر مخالف کو ووٹ دیا تو بدلہ لیا جائے گا۔

سیاست دان ان کرائے کے غنڈوں کو لڑکیوں کے پیچھے لگا دیتے ہیں ۔

پھر وہ لوگ ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ۔

حالیہ واقعہ اس بات کی مضبوط دلیل ہے ۔

جس سے لڑکیاں معاشرے سے کترانے لگتی ہیں ۔

چوری کروانا ، قتل کروانا اور ذہنی طور پر تباہ کرنا ان کا بایئں ہاتھ کا کھیل ہے ۔

مخالفین کی دہشت ان کا دوسرا بڑا کام ہے۔ کوئی صحافی، سوشل ایکٹیوسٹ یا مخالف سیاستدان اگر آواز اٹھائے تو یہ غنڈے اس کے گھر کے باہر جمع ہو جاتے ہیں، گاڑی توڑتے ہیں، یا رات کے وقت فائرنگ کرتے ہیں۔ خواتین صحافیوں اور کارکنوں کے ساتھ ہراسمنٹ خاص طور پر بڑھتا ہے۔

آن لائن ٹرولنگ سے لے کر جسمانی حملے تک۔ کچھ کیسز میں اغوا، تشدد اور جبری طور پر "معافی" نامہ لکھوانا بھی شامل ہوتا ہے۔
جلسوں اور ریلیوں میں یہ غنڈے "سیکورٹی" کا کردار ادا کرتے ہیں۔ مخالف پارٹی کے جلسے میں گھس کر افراتفری پھیلاتے ہیں، پتھراؤ کرتے ہیں، یا فائرنگ کرتے ہیں۔ نتیجہ؟ ایک جلسہ ختم، مخالف کا مورال گرا، اور میڈیا پر "دونوں طرف سے تشدد" کی کہانی چلتی ہے جو اصل ذمہ دار کو چھپا دیتی ہے۔
زمینوں اور اثاثوں پر قبضہ بھی ان کا کام ہے۔ سیاستدان اگر کسی کا پلاٹ یا کاروبار چاہتے ہیں تو یہ غنڈے "نوٹس" بھیجتے ہیں، دھمکی دیتے ہیں، اور اگر نہ مانا تو فورس استعمال کرتے ہیں۔ کراچی، لاہور، ملتان اور پشاور جیسے شہروں میں ایسے کیسز کی بھرمار ہے جہاں سیاستدانوں کے حامیوں نے صنعتی یونٹس یا رہائشی پلاٹس پر قبضہ کیا۔
سوشل میڈیا اور سائبر غنڈہ گردی نئی شکل ہے۔ یہ لوگ فیک پروفائلز سے ٹرینڈ چلاتے ہیں، مخالف لیڈرز کے خلاف جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں، اور عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بڑی پارٹیوں کے پاس dedicated "سوشل میڈیا سیلز" ہیں جو غنڈوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔
نفسیاتی اور معاشی پس منظر
یہ غنڈے کیوں کام کرتے ہیں؟ معاشی مجبوری سب سے بڑی وجہ ہے۔ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، اور سماجی عدم مساوات انہیں آسان شکار بناتی ہے۔ ایک نوجوان جو روزگار نہیں پا رہا، اسے "طاقت" اور "پیسہ" کا لالچ دیا جاتا ہے۔ وہ خود کو "بڑے آدمی" کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔
نفسیاتی طور پر یہ لوگ "ماشوازم" (ماسٹر-سرونٹ رشتہ) میں پھنس جاتے ہیں۔ سیاستدان انہیں "میرے بیٹے" کہہ کر بلاتا ہے، تحفظ دیتا ہے، اور عدالتوں میں کیس ختم کرا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ غنڈے قانون سے بالاتر محسوس کرتے ہیں۔ کچھ تو نشے کا عادی ہو جاتے ہیں، جو ان کی جارحیت بڑھاتا ہے۔
سماجی طور پر یہ برادری اور قبائلی نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک برادری کا غنڈہ دوسری برادری کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، جس سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکتا ہے۔
سماجی اور جمہوری اثرات
کرائے کے غنڈوں کا سب سے بڑا نقصان جمہوریت پر ہے۔ جب ووٹ طاقت سے خریدا یا چھینا جائے تو عوامی نمائندگی کا مفہوم ختم ہو جاتا ہے۔ اچھے لوگ سیاست سے دور رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بغیر "بازو" کے کچھ نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ؟ کرپٹ، طاقتور اور مسلح لوگوں کی حکومت۔
معاشرے میں خوف پھیلتا ہے۔ عام شہری احتجاج کرنے سے ڈرتا ہے۔ میڈیا خود سنسر شپ کرتا ہے۔ عدالتیں کمزور پڑ جاتی ہیں کیونکہ گواہ ڈرتے ہیں۔ معاشی ترقی رک جاتی ہے—سرمایہ کار غیر محفوظ ماحول میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔
خواتین اور اقلیتوں پر اثرات زیادہ شدید ہیں۔ غنڈوں کی موجودگی سے خواتین سیاستدان اور کارکن گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ اقلیتی برادریاں خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
طویل مدت میں یہ "اسٹیٹ ویڈن طاقت" پیدا کرتا ہے۔ غنڈے اتنی طاقت پا جاتے ہیں کہ وہ اپنے آقاؤں کو بھی کنٹرول کرنے لگتے ہیں۔ کئی سیاستدان بعد میں انہی کے ہاتھوں پھنس جاتے ہیں۔
تاریخی اور علاقائی تناظر
پاکستان کی تاریخ میں یہ رجحان 80 کی دہائی سے شدت اختیار کر گیا جب سیاسی جماعتوں نے "آرگنائزڈ" ونگز بنائے۔ کراچی میں MQM اور دیگر گروپس، پنجاب میں پٹواری اور مخالف گروپس، کے پی میں طلبہ تنظیموں کا تشدد—سب اسی کا حصہ ہیں۔ بھارت میں بھی "گونڈے" اور "باہوبیلی" سیاست مشہور ہے جہاں سیاستدان کھلے عام مجرموں کو ٹکٹ دیتے ہیں۔
عالمی سطح پر لاطینی امریکہ اور فلپائنز میں "وار لارڈز" اور "پرائیویٹ ملشیا" اسی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی کمزوری کی علامت ہے۔
ممکنہ حل اور نتیجہ
اس مسئلے کا حل آسان نہیں۔ سب سے پہلے انتخابی اصلاحات: سخت نگرانی، الیکٹرانک ووٹنگ، اور غنڈوں کی شناخت کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیز کا استعمال۔ سیاسی جماعتوں کو اندرونی طور پر "غنڈہ عناصر" کو نکالنے کا پابند کرنا چاہیے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آزاد ہونا چاہیے۔ عدالتیں تیزی سے کیس نمٹائیں۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھائیں تاکہ وہ غنڈہ گردی کی طرف نہ جائیں۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کو سیاسی ٹرولنگ روکنی چاہیے۔
آخر میں، کرائے کے غنڈے طاقت کے اس نظام کی علامت ہیں جو عوام کی خدمت کی بجائے قبضے پر مبنی ہے۔ جب تک سیاستدان خود "طاقت" کے بجائے "عوامی حمایت" پر انحصار نہیں کریں گے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ عوام کو جاگنا ہوگا—ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہوگا اور ایسے عناصر کو مسترد کرنا ہوگا۔
یہ غنڈے صرف جسم نہیں، ضمیر بھی مارتے ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔