ایم اے اور میں

 


---روما محمود---


آج سے بیس سال پہلے میرا ایم اے مکمل آج کی تاریخ میں ہوا تھا ۔

رزلٹ آ گیا تھا ۔
جب یاد کرتی ہوں تو یاد آتا ہے یونیقرسٹی کے پچھلے گیٹ سے اندر گئی تھی ۔

کوئی نہیں مل رہا تھا تو تھک کر تیز دھوپ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی تھی ۔

کافی دیر بعد سہیلی آئی تو کہا دھوپ میں کیوں بیٹھی ہو ۔ تو یاد آیا شدید گرمی کی تپتی دوپہر ہے ۔

میری یہ بےنیازی ۔

خیر اس وقت کسے پروا تھی ۔

پھر زرلٹ کا شور مچا ۔
نوٹس بورڈ کے پاس رش تھا صرف اتنا پتہ چلا کہ پاس ہو گی ہوں ۔

طویل جدوجہد کے بعد ایم اے کر ہی لیا ۔


گھر آ کر ابو کو بتایا کہ پاس ہو گی ہوں۔  

ان بیس سالوں میں کیا کیا نہیں ہوا ۔

کیا کیا نہیں سہا ۔

جو چاہا نہیں ہوا ۔

جو مانگا نہیں ملا ۔

ابو بھی دنیا سے رخصت ہو گے۔

مگر وقت رکا نہیں ۔

چلتا ہی گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔