وقت کا بدلنا اور وقت کو بدلنا ایک فکری کشمکش
---روما محمود---
عام طور پر معاشرے میں ایک محاورہ بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے: "وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔" ہم اکثر کسی کامیاب انسان کو دیکھ کر یا کسی کی زندگی میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلی کو دیکھ کر یہی کہتے ہیں کہ دیکھو، حالات کتنی جلدی بدل گئے۔ لیکن اگر ہم اس جملے کے دوسرے پہلو پر غور کریں، جسے آپ نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا کہ "وقت کو بدلنے میں ہی دیر لگتی ہے،" تو ہمیں زندگی کا ایک گہرا فلسفہ سمجھ آنے لگتا ہے۔
در حقیقت، "وقت کا بدلنا" اور "وقت کو بدلنا" دو بالکل الگ کیفیتیں ہیں۔
وقت کا بدلنا ایک خاموش تماشائی کا نظریہ
جب ہم کہتے ہیں کہ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی، تو ہم دراصل ایک 'خارجی' مشاہدے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم صرف اس نتیجے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو سامنے آ چکا ہے۔ ہمیں وہ طویل صبر، وہ خاموش جدوجہد، اور وہ ان گنت راتیں نظر نہیں آتیں جو اس تبدیلی کی بنیاد بنی تھیں۔ قدرت کا اصول ہے کہ وہ اچانک نہیں بدلتا، بلکہ بتدریج تبدیلی جمع ہوتے ہوتے ایک دن نمودار ہوتی ہے۔ جسے لوگ 'قسمت کا پلٹا' کہتے ہیں، وہ اکثر برسوں کی پوشیدہ محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
وقت کو بدلنا ایک فعال (Active) کوشش
دوسری جانب، جب ہم بات کرتے ہیں کہ وقت کو بدلنے میں دیر لگتی ہے، تو یہ دراصل انسان کی 'فعالیت' اور اس کی 'اندرونی جنگ' کی بات ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان محض حالات کا غلام نہیں رہتا، بلکہ حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
وقت کو بدلنے سے مراد ہے۔
- عادات کی تبدیلی: اپنی پرانی اور فرسودہ عادات کو ترک کر کے نئی اقدار اپنانا۔
- نظریاتی تبدیلی: اپنی سوچ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، جو اکثر برسوں کے مطالعے اور تجربے کے بعد ممکن ہوتا ہے۔
- سماجی اور خاندانی تبدیلی: جیسے کہ نسل در نسل چلتی آ رہی غلط روایات یا والدین اور بچوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنا۔ یہ کام دنوں کا نہیں، دہائیوں کا متقاضی ہوتا ہے۔
وقت کو بدلنے میں دیر اس لیے لگتی ہے کیونکہ اس کے لیے 'استقامت' درکار ہوتی ہے۔ فطرت کا قانون ہے کہ جو چیز جتنی دیر پا ہوتی ہے، اسے بننے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ ایک پودا کچھ ہی دنوں میں مرجھا سکتا ہے، لیکن ایک تناور درخت بننے میں اسے برسوں کی آبیاری درکار ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح، اپنی زندگی کے "وقت" کو، اپنی تقدیر کو، یا اپنے حالات کو تبدیل کرنے کے لیے صبر کی ایک لمبی فصل کاٹنی پڑتی ہے۔
ہم اکثر جلدی میں ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آج سوچا اور کل تبدیلی آ جائے۔ لیکن زندگی کا سچ یہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ خاموشی اور طویل عرصے کے صبر سے جنم لیتی ہیں۔ جب آپ اپنی زندگی میں کسی بڑی تبدیلی کے لیے کوشاں ہوں، تو یہ یاد رکھیں کہ وہ "دیر" جو لگ رہی ہے، وہ رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ وہ آپ کی تعمیر کا حصہ ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وقت کا بدلنا ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، لیکن وقت کو بدلنا یعنی اپنی ذات اور اپنے حالات کی سمت کو درست کرنا، مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہے۔ اور اس اختیار کا استعمال ہی انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتا ہے۔ وقت بدلنے کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ وقت کو بدلنے کی طویل مگر پرعزم جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔
یاد رکھیے، دیر تو لگے گی، لیکن وہی دیر آپ کی شخصیت کو کندن بنا کر نکھارے گی۔

Comments