ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں
میں نے زندگی کے تجربے سے یہی سیکھا
ہے کہ جس درخت کو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھا ہو، اگر وہ درخت زمین سے کاٹ دیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہاں سے صرف ایک درخت نہیں، بلکہ آپ کی اپنی جڑیں اکھڑ گئی ہوں۔ وہ محض ایک درخت نہیں ہوتا، بلکہ ایک پورا گزرا ہوا زمانہ ہوتا ہے۔ اس نے نہ جانے کتنے لوگوں کے عروج و زوال دیکھے ہوتے ہیں، وہ ایک خاموش مگر عظیم قصہ گو ہوتا ہے، کئی ادوار کا چشم دید گواہ۔ اس کے سینے میں ان گنت راز دفن ہوتے ہیں۔ کتنے ہی مسافر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں سستا چکے ہوتے ہیں اور کتنے ہی پرندوں نے اس کی شاخوں میں اپنے گھونسلے بسائے ہوتے ہیں۔
ابو کے لاہور والے گھر میں ایک بہت بڑا اور گھنا ربڑ پلانٹ کا درخت ہوا کرتا تھا۔ جب بھی میں لاہور جاتی، خاص طور پر گھر کے پچھلے حصے ضرور جا کر اس کا حال پوچھتی۔
وہ درخت ہمارے گھر کا حصہ تھا، مگر پھر بدقسمتی سے مخالفین نے اسے کٹوا دیا۔
مجھے اس کا بے حد دکھ ہوا، کیونکہ وہ محض ایک درخت نہیں تھا۔ اس کے ساتھ دادی، نانی، امی، ابو اور بے شمار لوگوں کی یادیں جڑی ہوئی تھیں۔
اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہمارا کوئی بہت پیارا ہم سے بچھڑ گیا ہو، جیسے کسی نے ہماری جڑیں کاٹ دی ہوں۔
پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ چند ہی مہینوں بعد وہ رونقیں ماند پڑ گئیں، امی کی وفات ہو گی اور ہم لاہور والے گھر میں ایک دو دن سے زیادہ کبھی نہ ٹھہر سکے۔
یہ بات آج بھی دل کو بے حد تکلیف دیتی ہے۔
جب پنڈی کے گھر کو چھوڑا تو اس وقت بھی میں نے ایک ایک پودے درخت کو خدا حافظ کہا تھا ۔
پودوں میں موتیا ، گلاب ، نیازبو اور ان گنت پودے تھے ۔
اور درختوں میں آم ، امرود ، انار اور تریک کے بے شمار درخت تھے۔
پھر جب زمینوں پر مزارع نے کیکر کے تقریباً بیس سے تیس درخت جڑ سے کاٹ دیے گئے تو میں اس لمحے چیخ اٹھی۔
ابو، بہن اور بھائی تو مزارع بی کو چاچا کہہ کراس کی وضاحت سننے لگ گے، مگر میں کچھ سننے کے قابل ہی نہ رہئ۔
میں خاموشی سے گھر کے ایک کمرے میں جا بیٹھی، کیونکہ میں یہ بات سمجھ چکی تھی کہ اب ہمارا یہاں سے کوچ کرنے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔
وہ صرف درخت نہیں تھے، بلکہ ایک پورا زمانہ، ایک طویل داستان تھے۔
میری امی ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ اگر درختوں کی زبان ہوتی تو وہ ہمیں ہر دور اور ہر انسان کی کہانی سنا دیتے۔
وہ اس جگہ کے واحد گواہ ہوتے ہیں، جو نہ صرف وہاں ہونے والے ہر واقعے کے امین ہوتے ہیں بلکہ اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔
میں نے اپنے موجودہ گھر میں ہر پھول کو اداس مسکراتے کر کلکلا کر ہنستے دیکھا ہے۔ ابو کی وفات سے چند مہینے پہلے چار درخت سوکھ گئے۔
آج بھی کوئ بغض آ کر پودوں کو خراب کر دیتا ہے تو ایک دکھی کر دینے والا واقعہ ہوتا ہے ۔
کچھ عرصے پہلے احتجاج کے نام پر بلیو ایریا کے درختوں کو آگ لگائی گئی تھی یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہم زندہ تاریخ؛ داستان گو کو آگ لگا رہے ہیں۔
کہاں ہیں وہ جنہوں نے اپنے اچھے وقت کو آگ لگا دی۔
کہاں گئے وہ لوگ جنہوں نے زمانے جاہلیت کی تازہ کر دی تھی۔
آج بھی
درختوں کے ساتھ دشمنی کرنے والے جان لیں یہ درخت نہیں، یہ ایک وقت ہے یہ ایک زمانہ ہے ، یہ داستان گو ہیں یہ خوش رو ہیں ۔
درخت اپنا بدلہ لے کر رہتے ہیں ۔
ابو اکثر کہا کرتے تھے اگر کسی نے آج ایک ٹہنی توڑی ہے اگر اس کو نہ روکا گیا ۔
تو کل وہ پورا درخت کاٹ لے گا اور اپنے نانا ابو غلام نبی کا قصہ سناتے تھے۔
وہاں ایک آدمی نے جب مسواک توڑی تو مزارع کو حکم دیا اس سے مسواکے لے کر اسے میرے پاس لے کر آؤ۔
جب وہ اسے لے کر نانا ابو کے پاس پہنچا تو پوچھا مسواک کس کی اجازت سے توڑی ہے۔
آدمی نے جواب دیا گزر رہا تھا اچھی پہلائ کی ٹہنی نظر آئی تو توڑ لی ۔
نانا ابو نے اسے ڈانٹا اور کہا آئندہ یہاں نظر نہ آنا ورنہ سخت سزا ملے گی۔
اس کے جانے کے بعد ابو کہتے ہیں میں نے نانا ابو کو کہا صرف وہ مسواک تھی دے دیتے ۔
کہنے لگے بیٹا تم نہیں جانتے کہ اگر آج مسواک دے دیتا تو کل اس کا حوصلہ بڑھ جاتا۔
وہ ٹہنی ٹوٹ لیتا۔
پھر چند دن بعد اس نے درخت کاٹ لینا تھا اس لیے اسے شروع سے ہی روکنا ضروری تھا۔
اس کے برعکس میں نے ابو کی عادت بالکل مختلف دیکھی انہیں ہمیشہ دینے والا پایا اگر کسی نے 100 روپے مانگے تو اسے 500 روپے دے دیے۔
اگر کسی نے ایک ہاتھ مانگنے کے لیے اگے کیا تو اس کے دونوں ہاتھوں میں دے دیا ابو دادی کی باتیں سناتے ہوئے اکثر کہتے ہوتے تھے کہ میں ساری تنخواہ آپی کے ہاتھ میں دے دیتا تو دو گھنٹے میں بالکل کنگال ہو کر بیٹھ جاتی تھی۔
پوچھتا تھا پیسے کہاں گئے۔
تو جوب ملتا فلاں کا بچہ بیمار تھا فلاں نے مجھ سے پیسے مانگے میں نے دے دیے ۔
تو میں آگے سے کہتا اچھا کیا۔

Comments