ماں کی جدائی اور وقت کا منجمد لمحہ"
15 دسمبر کا دن ہمیشہ میرے لیے ایک
انتہائی اداس دن ہوتا ہے۔"ماں کے بغیر ایک اور 15 دسمبر"۔
ایسا دن جو صرف مجھے دکھی کر دیتا ہے ۔
15 دسمبر کا دن امی کی وفات کا دن ہے۔
"یادوں میں ٹھہرا ایک دن ہے ۔
15 دسمبر 2001 کے صبح نو بجے امی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں ۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 15 دسمبر کی صبح میں نے فجر کی نماز پڑھی ، دن کافی روشن تھا نیلا اسمان اور گولڈن سورج چمک رہا تھا اود سردی کی شدت کافی حد تک کم تھی۔
سرد دھوپ کا زخم"
نیلا آسمان، خالی آغوش لیے ہوئے تھا ۔
رمضان کا مہینہ تھا 29 روزہ تھا میں نے کچن میں جا کر چائے بنائی اور امی کے لیے یخنی بنائی اور اسے تھرمس میں بھر لیا۔
خاموش تھرمس میں قید ماں کی خوشبو بس گی اس دن ۔
امی پچھلے تین مہینے سے ہسپتال میں تھیں۔
ٹیسٹ پر ٹیسٹ ہو رہے تھے اور بیماری کا پتہ نہیں چل رہا تھا ویسے تو چھ مہینے سے بیمار تھی ہیضہ وغیرہ کا مسئلہ تھا۔
پھر آخر میں برین کا اپریشن کروایا تھا ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے تھے گردن اکڑ جاتی تھی اور یہ سب کچھ دوائی کھانے کے بعد ہوتا تھا ، دوائی اور انجیکشن کی کثرت کی وجہ سے نظر بھی بھینگی ہو گئی تھی۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں کا رویہ انتہائی برا ہوتا تھا نوچ کھانے کو پڑتے تھے۔
بہن اور مامی امی کے پاس ہسپتال میں تھیں ۔
جب میں ابو اور بھائی کے ساتھ ہسپتال پہنچی تو امی کی وفات ہو چکی تھی ڈاکٹر ہارٹ بیٹ کی مشین لگا کر دیکھ رہے تھے۔
"وہ دن جو کبھی نہیں گزرا۔
بس پھر لے کر ان کو گھر آ گئے اور اسی دن لوگوں کے زور دینے پر دفنا دیا کہ کل عید ہو جائے گی، اس لیے آج ہی دفنا دیں۔۔
پھر آزمائش کا طویل دور شروع ہو گیا لوگوں کی پرتیں آہستہ آہستہ اترنے لگی۔
لوگوں نے تو یہاں تک کر دیا کہ جب بھی اپنی کسی اولاد کی شادی کرنی ہوتی تو 15 دسمبر کو بارات رکھتے اور پھر ہمیں خاص طور پر بلاتے اور سب سے پہلے انکار میرا ہی ہوتا۔
گھر والے تو ان کی شادیوں پر چلے جاتے ہیں مگر میرا دل مزید دکھی ہو جاتا۔
زندگی کا دیکھا میں نے یہ بھی روپ
جب سر پہ پڑی میرے گہری دھوپ۔

Comments