اسلام آباد — ناموں میں چھپی کہانی، یادوں میں بسا شہر



 

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

E یعنی Excellent / Excellence،

F یعنی Fair / Fresh،

G یعنی General / Government،

اور I یعنی Industrial / Investment۔

اسلام آباد کے نام بڑی دور اندیشی، محبت اور حسنِ ذوق سے رکھے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے اس شہر کی بنیاد رکھی، انہوں نے صرف عمارتیں نہیں بنائیں بلکہ احساسات، فطرت اور خوبصورتی کو بھی ناموں میں سمو دیا۔ یہاں ہر نام اپنی مثال آپ ہے۔

دامنِ کوہ—یعنی پہاڑ کا دامن۔

آب پارہ—پانی کا قطرہ۔

شکر پڑیاں—شکر کی ڈلی۔

زیرو پوائنٹ—وہ مقام جہاں اسلام آباد کی چاروں بڑی سڑکیں آ کر ملتی ہیں۔

جاسمین گارڈن—چنبیلی کا باغ۔

یہاں سڑک کے دونوں طرف چنبیلی کے پودے لگے ہوتے تھے۔ سفید اور پیلی چنبیلی، جن کی بھینی بھینی خوشبو رات کے وقت پورے ماحول کو معطر کر دیتی تھی۔ ابو کو یہ جگہ اتنی پسند تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نام ہی یاسمین رکھ دیا۔ ہمیں بچپن میں خاص طور پر یہاں سیر کے لیے لے جایا جاتا تھا، اور وہ خوشبو آج بھی یادوں میں بسی ہوئی ہے۔

بلو ایریا—نیلا آسمان۔

یہ اسلام آباد کا کمرشل ایریا ہے، جو کبھی خاصا پُررونق ہوا کرتا تھا۔ اب وہ رونق کم ہو گئی ہے، حالانکہ پہلے یہاں زندگی کی چہل پہل نمایاں ہوتی تھی۔

چودہ اگست کو ابو ہمیں لائٹنگ دیکھنے کے لیے لے جاتے تھے۔ نوجوان گاڑیاں کھڑی کر کے خوشی سے دھمال ڈالتے تھے، چہروں پر مسکراہٹیں ہوتیں، دل مطمئن ہوتے تھے۔ آج حالات یہ ہیں کہ ہر ایک کسی نہ کسی فکر میں گھرا ہوا ہے۔

کبھی پنڈی اور اسلام آباد کے درجۂ حرارت میں دس ڈگری تک کا فرق ہوتا تھا۔ آج شہر پھیل گیا ہے، ریت اور رواج بدل گئے ہیں، چہرے بدل گئے ہیں، انداز بدل گئے ہیں۔ لوگوں کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں تو آ گئی ہیں، مگر چہروں سے خوشی کہیں کھو گئی ہے۔

نئی تبدیلی کو خوش آمدید—

مگر دل اب بھی اُس پرانے، سادہ اور خوشبودار اسلام آباد کو یاد کرتا ہے۔

روما محمود

اسلام آباد

25 دسمبر 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔