پانی: آنکھ سے ٹپکتا سوال
کبھی شبنم بنی، کبھی صدف میں ڈھل گیا
پانی آنکھ سے ٹپکا تو آنسو کہا گیا۔
پانی کی کہانی صرف دریا اور نہروں تک محدود نہیں۔ یہ کہانی آنکھ سے ٹپکتے آنسو تک پھیلی ہوئی ہے۔ جو پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، وہی جب آنکھ میں جمع ہو جائے تو دکھ بن جاتا ہے۔ شاید یہی فرق ہے ضرورت اور محرومی کا۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پانی کی قلت صرف اعداد و شمار نہیں رہی، بلکہ احساس بن چکی ہے۔ کہیں پیاس ہے، کہیں سیلاب—اور دونوں صورتوں میں پانی انسان سے سوال کرتا ہے۔ کبھی شبنم کی طرح نرمی سے اترتا ہے، اور کبھی آنسو بن کر آنکھوں سے بہہ جاتا ہے۔
پاکستان میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا، یہ معاشرتی ناانصافی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امیر کے لیے بوتل میں بند، غریب کے لیے خواب میں۔ وہی پانی جو زندگی دیتا ہے، غلط تقسیم اور بدانتظامی کے باعث زندگی چھیننے لگتا ہے۔
ہم نے پانی کو صرف استعمال کی شے سمجھا، امانت نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دریا کمزور ہو گئے اور آنکھیں نم۔ اگر شبنم کو صدف میں قید کر دیا جائے تو موتی بنتا ہے، مگر اگر پانی کو بے دردی سے بہنے دیا جائے تو آنسو۔
اب وقت ہے کہ ہم پانی کو آنکھ سے پہلے زمین تک محدود کریں۔ اسے ضائع نہیں، محفوظ کریں۔ کیونکہ اگر پانی آنکھ سے ٹپکنے لگا تو سمجھ لیجیے کہ زمین بہت پہلے پیاس سے مر چکی ہوگی۔
پانی بحران نہیں، ہمارا کردار
ہم پانی کو بحران کہتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ یہ بحران سے زیادہ ہمارے رویّوں کی سزا ہے۔ وہ ملک جس کے نام کے ساتھ کبھی دریاؤں کی شناخت جڑی تھی، آج وہاں پانی ٹینکروں میں بکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پانی کم کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اب تک سنجیدہ کیوں نہیں ہوئے؟
شہروں میں بلند عمارتیں کھڑی ہیں مگر بارش کے پانی کو سنبھالنے کا کوئی نظام نہیں۔ دیہات میں زراعت صدیوں پرانے طریقوں سے چل رہی ہے، جہاں ایک فصل کے لیے سینکڑوں گیلن پانی بہا دیا جاتا ہے۔ ہم ترقی کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر پانی کے معاملے میں آج بھی غیر ذمہ دار ہیں۔
ریاستی سطح پر پالیسیاں کاغذوں تک محدود ہیں۔ ڈیموں پر سیاست، پانی پر صوبائیت، اور مسئلے پر خاموشی—یہ سب مل کر ایک قومی بحران کو جنم دے چکے ہیں۔ دوسری طرف عوامی سطح پر یہ سوچ عام ہے کہ “پانی تو آتا ہی رہے گا”۔ یہی سوچ سب سے بڑا خطرہ ہے۔
آلودگی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ دریا نالوں میں بدل رہے ہیں، اور نالے زہر میں۔ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کے مستقبل میں بیماری، قلت اور جھگڑے لکھ رہے ہیں۔ اگر یہی روش رہی تو آنے والے دنوں میں پانی صرف ضرورت نہیں، طاقت کی علامت ہوگا۔
اصلاح کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانا ہوگی، اور ہر فرد کو اپنی سطح پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔ نل بند کرنا، بارش کا پانی محفوظ کرنا، اور سوال اٹھانا—یہی چھوٹے قدم بڑے فرق کی بنیاد بنتے ہیں۔
پانی خاموش ہے، مگر اس کی سزا خاموش نہیں ہوگی۔ فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے، کیونکہ کل شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو۔

Comments