اسلام آباد کے کٹتے درخت اور بدلتے وقت کی علامت

 اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پورے زور و شور سے جاری ہے۔ جب دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا تو یہ درخت اسی وقت لگائے گئے تھے۔

 باقاعدہ جنگل اُگائے گئے تھے تاکہ یہ شہر فطرت کے قریب، پُرسکون اور متوازن رہے۔ آج انہی درختوں کا یوں یک دم کٹ جانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ وقت کے بدل جانے کی ایک واضح علامت ہے۔

درختوں کے ساتھ صرف لکڑی نہیں کٹتی، بلکہ پرندے ہجرت کرتے ہیں، جانور بے گھر ہوتے ہیں اور کیڑے مکوڑے بھی اپنا مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا۔ 

فطرت میں مداخلت کا اثر انسان تک بھی پہنچتا ہے۔ جب ماحول بگڑتا ہے تو انسانوں کا سکون، رویے اور طرزِ زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔

میں گزشتہ چھ برس سے اسلام آباد نہیں گئی۔ اسلام آباد کے قریب رہتی ہوں، مگر اس عرصے میں ہمارا وہاں جانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ 

چند گنتی کے مواقع کے سوا ہمارا داخلہ بند رہا۔ جو جگہیں کبھی سب کے لیے کھلی تھیں، آج وہاں رکاوٹیں ہیں، پابندیاں ہیں، اور خاموشی ہے۔

سننے میں آ رہا ہے کہ شکر پڑیاں اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل درختوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔ 

درختوں کی یہ بے دریغ کٹائی شہر کے سکون کو ہنگامہ خیزی میں بدل دے گی۔ جو شہر کبھی پرندوں کی آوازوں سے گونجتا تھا، وہ اب شور، دھوئیں اور بے چینی کا مرکز بننے جا رہا ہے۔

وقت واقعی بدل رہا ہے۔ آہٹیں سنائی دے رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ان  درختوں کو آخری بار دیکھا جا رہا ہو۔ 

شہر کی ترتیب بدلی جا رہی ہے، ہر شے ہجرت کر رہی ہے—قدرت، سکون، توازن، سب کچھ۔ 

قدرت ہمیں اشاروں میں بہت کچھ سمجھا دیتی ہے، مگر ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔

کیا ہونے والا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا، مگر درختوں کا یوں اچانک کٹ جانا شہر کو ویران کرنے کے مترادف ہے۔

 اب یہ وقت ہمیں دوبارہ سنبھلنے اور خود کو پرکھنے دے گا۔ یہ امتحان صرف شہر کا نہیں، ہمارے شعور اور ہمارے ضمیر کا بھی ہے۔

جب  چک شہزاد فارم ہاؤس اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، جب سب کچھ چند ہاتھوں میں بانٹ دیا جاتا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام شہریوں کی خوراک، ان کے پانی، ان کے دودھ اور ان کے مستقبل کا بندوبست کہاں ہے؟

 تاریخ گواہ ہے کہ لالچ میں لیے گئے فیصلے پل بھر میں سب کچھ بدل دیتے ہیں۔

اسلام آباد کے درخت صرف درخت نہیں تھے، وہ اس شہر کی روح تھے۔ اور روح کے بغیر شہر محض کنکریٹ کا ڈھانچا رہ جاتا ہے۔

روما محمود 

اسلام آباد

 8 جنوری 

2026۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔