بلوچستان کے خون آلود صبح — 31 جنوری 2026 کا ایک دردناک دن
31 جنوری 2026 ایک ایسے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے ایک منظم، وسیع اور خونریز حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ صبح سویرے سے ہی کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر اور دیگر 12 مقامات پر مسلح افراد نے پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی تنصیبات پر حملے کیے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 10 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ شدت پسندوں کے متعدد گروہ بھی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 37 سے لے کر 58 تک دہشت گرد مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
یہ حملے بلوچ علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے “Herof 2.0” جیسے آپریشنز سے منسوب کیے جا رہے ہیں—جو نہ صرف سیکیورٹی چوکیوں بلکہ قیدیوں کی رہائی، انفراسٹرکچر تباہی اور عوامی خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں بھی شامل تھے۔
حملوں کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے سخت ردعمل دیا اور کئی مقامات پر شدت پسندوں کو ناکام بنا دیا۔ حکام نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی اور عوامی تحفظ پر زور دیا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
پیچھے کیا ہے ؟ کیا پرانی چوٹیں کھل گئیں
بلوچستان میں یہ تشدد کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ سال بھی دہشت گردی کے کئی واقعات پیش آئے، مثلاً مستونگ بس بم دھماکہ جیسا واقعہ جس میں متعدد سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔
یہ طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسندی، علاقائی تنازعات اور سماجی اور معاشی محرومیوں کا نتیجہ ہے، جس نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
آج کے واقعات نے صرف فوجی اور پولیس اہلکاروں کو نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ عام لوگ خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، تعلیمی ادارے متاثر ہوئے اور کاروبار سست پڑ گیا۔ ہر بار جب کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے، بلوچستان میں رہنے والے عام لوگ اپنی روزمرہ زندگی کو سہارا دینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں—یہ معاشی بدحالی اور امن کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ہے اور سیکیورٹی فورسز کو پورا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے شدت پسندی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم دہرایا اور کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر قیمت پر ثابت قدم رہے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آیا صرف عسکری ردعمل کافی ہے؟ بلوچستان جیسے حصے میں مستقل امن تبھی ممکن ہے جب سیاسی شمولیت، مقامی نمائندوں کو بااختیار بنانے، معاشی ترقیاتی پیکیجز، اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ وہ تقاضے ہیں جو فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پورے سرکاری اور عوامی نظام میں شامل ہونے چاہیے۔
31 جنوری 2026 نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ بلوچستان میں امن کا محور صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ سائنس، سماج، سیاست اور معاشی انصاف کا متوازن امتزاج ہونا چاہیے۔
آج کی خونریز صبح نے ثابت کیا ہے کہ جب تک بلوچستان کے عوام کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر بااختیار نہیں بنایا جائے گا، تب تک دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ رُکنا مشکل ہے۔

Comments