تاریخ کے کٹہرے میں آج کی دنیا

  


آج کی دنیا ایک عجیب اور خوفناک کیفیت سے گزر رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنگوں کا موسم لوٹ آیا ہو۔ ہر ملک، ہر خطہ اور ہر انسان بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ اندیشہ دل میں گھر کر چکا ہے کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ کل کسی بڑے سانحے کی شکل اختیار نہ کر لے، اور کہیں کوئی بھیانک لمحہ اچانک ہمارے سامنے آ کھڑا نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بہترین شخصیت کے باعث عالمی سیاست میں مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ وہ عمدہ لباس پہنتے ہیں، طویل گفتگو کرتے ہیں اور اکثر جہاز میں سفر کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیانات میں وہ ایک طرف ایران سے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہیں، تو دوسری جانب فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت کے ترجمان منیر خادے کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات، دونوں کے لیے تیار ہے۔
ادھر آیت اللہ خامنہ ای نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے انجام کو یاد رکھنا چاہیے۔ ایران میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں اب تک 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی بیانات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے اور ملاقات کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات یہاں تک محدود نہیں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بیک وقت دو ملکوں کے صدر کی طرح کردار ادا کر رہے ہیں—ایک امریکہ اور دوسرا وینزویلا۔ مارکو روبیو کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ کیوبا کی موجودہ صورتحال پر سخت مؤقف رکھتے ہیں اور کیوبا کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایک اور انقلاب اس کا منتظر ہو سکتا ہے۔
روما محمود کے مطابق 1958 میں آمر بتیستا کیوبا چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا، مگر اس بار موجودہ قیادت کے لیے حالات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے ضد کے بجائے دانش مندی کا راستہ اپنانا ہی بہتر ہے۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں بھی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اسے ہر قیمت پر اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے، ورنہ روس اور چین اس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کو ایک بار پھر سائنسی میدان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں راکٹ لانچ کا تجربہ ناکام ہو گیا اور16  سیٹلائٹ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

چار مراحل پر مشتمل یہ مشن تیسرے مرحلے میں ہی راستے سے بھٹک گیا۔

یہی ٹیکنالوجی اگنی میزائل میں بھی استعمال ہوتی ہے، جو یقیناً ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
افریقہ میں بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ صومالیہ کی کابینہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کے تمام معاہدے منسوخ کر دیے ہیں، ساتھ ہی تین اہم بندرگاہوں سے متعلق معاہدے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف حال ہی میں مراکش پہنچے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ بھی مراکش کا دورہ کر چکے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان اور مراکش کے درمیان محض دفاعی مشاورت ہوتی ہے یا کوئی عملی معاہدہ بھی طے پاتا ہے۔

ادھر سوڈان کے وزیرِاعظم کامل ادریس نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً تین سال بعد حکومت نے دوبارہ دارالحکومت خرطوم سے کام شروع کر دیا ہے۔

اپریل 2023 میں فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ کے آغاز پر حکومت خرطوم چھوڑ کر منتقل ہو گئی تھی۔ دو سال تک دریائے نیل کے اطراف شدید گولہ باری ہوتی رہی اور خرطوم مسلسل جنگی میدان بنا رہا، تاہم بالآخر سرکاری افواج کو کامیابی حاصل ہوئی۔
یہ تمام واقعات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ ایسے میں طاقت کے بجائے تدبر، جنگ کے بجائے مذاکرات، اور انا کے بجائے دانش مندی ہی واحد راستہ ہے۔

دنیا اس وقت جس موڑ پر کھڑی ہے، وہ محض طاقت کے مظاہروں، دھمکیوں اور بیانات کا نہیں بلکہ انسانیت کے صبر، عقل اور فہم کا امتحان ہے۔

ہر خطے میں جنگ کی بازگشت، ہر قوم میں بے یقینی، اور ہر انسان کے دل میں انجانا خوف اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ امن اب صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دھراتی ہے کہ بندوق، میزائل اور دھمکی وقتی برتری تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار حل کبھی نہیں۔ طاقت کے نشے میں دیے گئے فیصلے اکثر قوموں کو ایسی آگ میں جھونک دیتے ہیں جس کی تپش نسلوں تک محسوس کی جاتی ہے۔ آج امریکہ ہو یا ایران، مشرق وسطیٰ ہو یا لاطینی امریکہ، افریقہ ہو یا جنوبی ایشیا—ہر جگہ اصل سوال جنگ یا مذاکرات کا نہیں بلکہ دانش مندانہ انتخاب کا ہے۔
قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو اکڑ کے بجائے حکمت، انتقام کے بجائے تدبر، اور تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتی ہیں۔ جو قیادتیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، تاریخ انہیں عبرت بنا دیتی ہے۔ جبکہ وہ ممالک جو مشکل ترین حالات میں بھی ریاست، عوام اور خطے کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں، آخرکار سرخرو ٹھہرتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے تمام ذمہ دار ممالک کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے کہ وہ آگ بھڑکانے والوں میں شامل ہوں یا اسے بجھانے والوں میں۔ کیونکہ جنگ میں جیت کوئی نہیں جاتا، ہار صرف انسانیت کی ہوتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج عقل خاموش رہی تو کل چیخیں بولیں گی، اور اگر آج مکالمہ نہ ہوا تو کل تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔