کراچی سے لاہور تک: ایک ہی کہانی، قومی ناکامی۔

 




حالیہ بارش کے بعد لاہور اور کراچی میں جو کچھ ہوا، وہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح انتظامی ناکامی تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عمومی جملوں سے نکل کر نام لے کر بات کی جائے۔

سب سے پہلے بات لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) اور واسا لاہور (WASA) کی۔ ہر مون سون سے قبل یہی ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ نالے صاف ہیں، مشینری تیار ہے اور فیلڈ اسٹاف الرٹ ہے۔ مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ مال روڈ، نشتر ٹاؤن، سبزہ زار اور نشیبی علاقوں میں گٹر اُبلتے رہے۔ 

سوال یہ ہے کہ اگر نالے صاف تھے تو پانی کہاں سے آیا؟ یا صفائی صرف کاغذوں میں ہوتی ہے؟

کراچی میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC)، کے ایم سی (KMC)، ڈی ایم سی اور سندھ حکومت سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیاری ندی اور ملیر ندی برسوں سے تجاوزات کی زد میں ہیں، مگر نہ بلدیہ حرکت میں آتی ہے، نہ صوبائی حکومت۔ نتیجہ یہ کہ ہر بارش میں یہی ادارے ایک دوسرے کی نااہلی چھپانے کے لیے بیانات جاری کرتے ہیں۔


اہم سوال پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) سے بھی بنتا ہے۔ بارش کی پیشگی وارننگ دی جاتی ہے، مگر متعلقہ ادارے سنجیدگی اختیار نہیں کرتے۔ وارننگ اگر مؤثر حکمتِ عملی میں نہ بدلی جائے تو وہ محض ایک اطلاع رہ جاتی ہے، حل نہیں۔

پھر آتے ہیں منتخب نمائندے—ایم این ایز، ایم پی ایز اور بلدیاتی قیادت۔ انتخابی مہم میں یہی گٹر مسئلہ بنتے ہیں، مگر اقتدار میں آتے ہی یہ گٹر عوام کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ نہ فنڈز کی شفاف تقسیم، نہ نگرانی، نہ جواب دہی۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے صرف اس وقت متحرک نظر آتے ہیں جب پانی سڑکوں پر آ چکا ہوتا ہے۔ پیشگی اقدامات کا فقدان ہر سال ایک ہی سوال کھڑا کرتا ہے: کیا ہمارا نظام صرف بحران کے بعد جاگتا ہے؟

حالیہ واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ

لاہور میں WASA اور LWMC

کراچی میں KWSC، KMC اور سندھ حکومت

اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام رہے ہیں۔


یہ محض تنقید نہیں، احتساب کا مطالبہ ہے۔ کیونکہ جب گٹر اُبلتے ہیں تو صرف سڑکیں نہیں بھرتیں، عوام کا صبر بھی لبریز ہو جاتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ بارش کیوں ہوئی،

سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کب جواب دیں گے؟


کراچی کے گٹر میں گرتی جانیں — ایک بچہ اور ہمارا نظام

کراچی میں حالیہ واقعہ—جہاں ایک خاتون کا ایک اور بچہ گٹر میں جا گرا—کو محض حادثہ کہہ کر فائل بند کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ یہ حادثات نہیں، ریاستی غفلت کے ثبوت ہیں۔

یہ شہر برسوں سے کھلے گٹروں کے ساتھ جینے پر مجبور ہے۔ سڑکوں کے کنارے بغیر ڈھکن کے مین ہول، بارش میں نظر نہ آنے والے گڑھے، اور نالوں پر قائم تجاوزات—یہ سب کسی ایک دن میں نہیں ہوئے۔ یہ وہ ماحول ہے جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC)، کے ایم سی (KMC)، متعلقہ ڈی ایم سیز اور سندھ حکومت کی مسلسل لاپروائی نے پیدا کیا۔


سوال سادہ ہے:

اگر مین ہول ڈھکن کے بغیر ہے تو ذمہ دار کون؟


اگر بارش میں گٹر ابلتا ہے تو منصوبہ بندی کہاں؟


اگر شہری سڑک پر چلتے ہوئے جان سے جائے تو احتساب کس کا؟


ہر بار سانحے کے بعد رسمی بیانات آتے ہیں—انکوائری ہوگی، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی—مگر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، سوائے اُن گھروں کے جہاں ماتم رہ جاتا ہے۔ بچے کی ماں کے لیے یہ خبر نہیں، زندگی بھر کا زخم ہے۔


یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ بارش کی پیشگی اطلاع محکمہ موسمیات دیتا ہے، مگر بلدیاتی ادارے الرٹ نہیں ہوتے۔ نالے صاف کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر گٹر پھر بھی کھلے رہتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ بارش کیوں ہوئی، سوال یہ ہے کہ مین ہول ڈھکن کیوں غائب تھے؟




کراچی میں گٹر صرف پانی نہیں اُگلتے، انسانی جانیں نگل رہے ہیں۔ اور جب ایک بچہ گرا تو دراصل پورا نظام گر جاتا ہے—مگر افسوس، اگلے دن پھر وہی خاموشی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ نام لے کر کہا جائے:

KWSC گٹروں کی مرمت اور ڈھکن لگانے میں ناکام ہے۔

KMC اور ڈی ایم سیز نگرانی اور عملدرآمد میں ناکام ہیں۔

سندھ حکومت ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہے۔

یہ کالم کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں، انسانی جانوں کے لیے ہے۔

اگر آج بھی ہم نے گٹر ڈھانپے نہیں، ذمہ داروں کو جواب دہ نہیں بنایا،

تو کل پھر کوئی بچہ گرے گا—اور ہم پھر اسے حادثہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے۔

سوال باقی ہے:

کراچی میں انسان پہلے آئیں گے، یا گٹر؟


اور لاہور میں بھی—عورت اور بچہ، ایک اور گٹر

کراچی کے بعد اب لاہور میں پیش آنے والا واقعہ—جہاں ایک عورت اپنے بچے سمیت کھلے گٹر میں جا گری—اس تلخ حقیقت پر آخری مہر ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔

 یہ ایک قومی ناکامی بن چکا ہے۔


لاہور جسے بہتر نظم و نسق کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں بھی سڑک کنارے بغیر ڈھکن کے مین ہول، بارش میں غائب ہو جانے والے گٹر، اور ناقص نگرانی نے ایک ماں اور بچے کو زندگی اور موت کی کشمکش میں دھکیل دیا۔


 سوال یہ نہیں کہ خاتون وہاں کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ گٹر کھلا کیوں تھا؟

یہاں ذمہ داری صاف طور پر واسا لاہور (WASA)، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اگر مون سون سے پہلے نالوں اور گٹروں کی صفائی مکمل تھی تو یہ گٹر کھلا کیسے رہ گیا؟ اگر فیلڈ اسٹاف موجود تھا تو نگرانی کہاں تھی؟ یا پھر صفائی اور مرمت صرف رپورٹوں تک محدود تھی؟

یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لاہور اور کراچی میں فرق صرف انتظامی دعوؤں کا ہے، حقیقت دونوں جگہ ایک جیسی ہے۔ کراچی میں گٹر برسوں سے جانیں لے رہے ہیں، اور اب لاہور میں بھی یہی المیہ دہرایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اور اگر احتساب نہ ہوا تو آخری بھی نہیں ہوگا۔

بارش کے دوران سڑکوں پر جمع پانی میں کھلا گٹر دکھائی نہیں دیتا۔ ایک عام شہری، ایک ماں، ایک بچہ—یہ سب شہری منصوبہ بندی کے ماہر نہیں ہوتے، وہ صرف محفوظ راستہ چاہتے ہیں۔ جب ریاست یہ بنیادی تحفظ بھی فراہم نہ کر سکے تو پھر ترقی کے دعوے کھوکھلے لگتے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہر واقعے کے بعد وہی رسمی جملے سننے کو ملتے ہیں:

“انکوائری ہوگی”، “ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی”

مگر چند دن بعد فائل بند، اور گٹر پھر کھلا۔

کراچی میں گٹر انسان نگل رہے ہیں،

اور اب لاہور میں بھی گٹر ماں اور بچے کے لیے موت کا جال بن چکے ہیں۔

یہ وقت بیانات کا نہیں، جوابدہی کا ہے۔

WASA لاہور گٹر ڈھانپنے میں ناکام ہے۔

LWMC فیلڈ نگرانی میں ناکام ہے۔

ضلعی انتظامیہ بروقت اقدام میں ناکام ہے۔

اگر آج بھی ان واقعات کو محض حادثہ کہہ کر نظر انداز کیا گیا،

تو کل کسی اور ماں کا بچہ، کسی اور شہر کا گٹر—

اور ہم پھر یہی کالم لکھ رہے ہوں گے۔

سوال اب بہت سادہ ہے:

کیا پاکستان کے شہروں میں عورت اور بچہ محفوظ نہیں؟ 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔