ابنِ الوقت معاشرہ ضرورت کے خدا اور مفادات کے پجاری

 


---روما محمود---




​دنیا کا قدیم ترین اصول "ضرورت" ہے۔ یہ ضرورت ہی ہے جو جنگل کے اصول کو انسانی بستیوں پر نافذ کرتی ہے، اور یہ ضرورت ہی ہے جو انسان کو کبھی فرشتہ اور کبھی شیطان بنا کر پیش کرتی ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے کا ضمیر کبھی بھی مستقل اخلاقی اصولوں پر قائم نہیں رہا، بلکہ اس کی ڈوریاں ہمیشہ "مفاد" کے ہاتھوں میں رہی ہیں۔

​ایک تلخ حقیقت جس کا سامنا ہر دور میں حساس انسانوں کو کرنا پڑا، اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔


​"جب دنیا آپ سے چھیننے پر آئے تو آپ کا کیا ہوا ہر کام، نام، اور شناخت تک چھین لیتی ہے۔ لیکن جب اسی دنیا کو آپ سے کام ہو، تو آپ کی ہر بدی کو لوگوں کے سامنے ایک خوبصورت تعریف بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔"


​ اسی معاشرتی منافقت، ابن الوقتی (Opportunism)، اور مفادات کے اس بازار کا ایک تفصیلی احاطہ میں نے کیا ہے جہاں انسان کی قیمت اس کی ذات نہیں، بلکہ اس کی افادیت (Utility) طے کرتی ہے۔





اس کو چھے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

​حصہ اول: جب دنیا چھیننے پر آتی ہے — شناخت کی پامالی

​معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ایک بے رحم جج ہے۔ جب تک آپ اس کے معیارِ افادیت پر پورا اترتے ہیں، آپ کے سر پر تاج سجایا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ کی بساط الٹتی ہے، یا دنیا آپ کو مٹانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو سب سے پہلا حملہ آپ کی ساکھ اور شناخت پر ہوتا ہے۔

​ ماضی کی خدمات کا زیاں

​جب دنیا کسی شخص کو گرانا چاہتی ہے، تو اس کے سالہا سال کی محنت، قربانیاں اور کارنامے پل بھر میں خاک میں ملا دیے جاتے ہیں۔

  • تاریخی مثالیں۔ دنیا کے بڑے بڑے مصلحین، سائنسدانوں اور مفکروں کو دیکھ لیجیے۔ جب وقت بدلا، تو جن لوگوں نے معاشرے کو روشنی دی تھی، انہیں ہی اندھیروں کا مسافر کہہ کر سزائیں دی گئیں۔
  • کامیابی کا انکار۔ آپ نے چاہے کتنی ہی راتیں جاگ کر کسی ادارے، خاندان یا معاشرے کے لیے کام کیا ہو، زوال کے وقت دنیا آپ سے یہ کریڈٹ چھین لیتی ہے کہ "یہ تو اس کا فرض تھا" یا "اس میں اس کا اپنا ہی کوئی مفاد ہوگا"۔

​ نام اور شناخت کا مٹایا جانا

​شناخت انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دنیا جب دشمنی پر اترتی ہے، تو وہ صرف انسان کو جسمانی طور پر ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کا نام تک مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ آپ کی اچھائیوں کو اس طرح سنسر کر دیا جاتا ہے جیسے ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔ آپ کے نام کے ساتھ ایسے لاحقے اور سابقے جوڑ دیے جاتے ہیں کہ آنے والی نسلیں آپ کے کام سے واقف ہونے کے باوجود آپ کے نام سے نفرت کرنے لگیں۔

​ نفسیاتی قتل (Character Assassination)

​یہ عمل جسمانی قتل سے زیادہ دردناک ہے۔ اس مرحلے پر

  • ​آپ کے جائز فیصلوں کو "غلطیاں" بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
  • ​آپ کی خاموشیوں کو "جرم کا اعتراف" سمجھا لیا جاتا ہے۔
  • ​آپ کے خلوص کو "چالاکی" کا نام دے دیا جاتا ہے۔

​معاشرہ ایک ایسی بھیڑ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو صرف اپنے چرواہے کے اشارے پر چلتی ہے۔ اگر اشارہ تباہی کا ہو، تو یہ بھیڑ اپنے ہی محسن کو کچلنے میں دیر نہیں لگاتی۔

​حصہ دوم: ضرورت کی جادوگری — بدی کا نیکی میں بدلنا

​اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے، جو پہلے رخ سے کہیں زیادہ بھیانک اور منافقانہ ہے۔ جب دنیا کو، یعنی معاشرے کے بااثر طبقوں یا عام لوگوں کو آپ سے کوئی کام نکلوانا ہو، آپ کے پاس طاقت، دولت یا کوئی ایسا ہنر ہو جس کی انہیں ضرورت ہے، تو اخلاقیات کے تمام پیمانے بدل جاتے ہیں۔

​ برائیوں کا گلیمرائزیشن (Glamorization of Vices)

​اگر ایک طاقتور یا مفید شخص بدتمیز ہے، تو معاشرہ اسے "دبنگ" اور "بے باک" کا لقب دے گا۔ اگر وہ مکار اور سازشی ہے، تو اسے "سیاسی بصیرت کا حامل" اور "ذہین" کہا جائے گا۔

ذیل کے جدول میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا ضرورت کے وقت کس طرح عیوب کو ہنر کا نام دیتی ہے:

 منافقت کی اسکریننگ

​جب دنیا کو آپ سے کام ہوتا ہے، تو وہ آپ کے ماضی کے تمام گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ عدالتیں ہوں یا عوامی کونسلیں، ہر جگہ آپ کے حق میں گواہیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ کل تک آپ کے نام سے کتراتے تھے، وہ آپ کی محفلوں میں اگلی صفوں میں بیٹھنے کو اپنی سعادت سمجھنے لگتے ہیں۔

​ تعریفوں کا طوفان: "مدح سرائی" کا فن

​اس مرحلے پر جھوٹی تعریف اور خوشامد کو ایک آرٹ بنا دیا جاتا ہے۔ انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ ناگزیر ہے، اس کے بغیر یہ نظام چل ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس تعریف کے پیچھے محبت نہیں، بلکہ وہ مفاد ہوتا ہے جو اس شخص کی ذات سے جڑا ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ مفاد پورا ہوتا ہے، یا وہ شخص اس پوزیشن سے ہٹتا ہے، وہ ساری تعریفیں ایک دم غائب ہو جاتی ہیں۔

​حصہ سوم: اس منافقت کے پیچھے چھپی عمرانی اور نفسیاتی وجوہات

​یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معاشرہ اجتماعی طور پر اس طرح کا سلوک کیوں کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ عمرانیات کے مطابق اس کے پیچھے چند گہرے عوامل کارفرما ہیں:

​ افادیت پسندی (Utilitarianism) کا غلبہ

​جدید اور قدیم دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اخلاقیات کی بنیاد "حق اور سچ" پر نہیں، بلکہ "نفع اور نقصان" پر رکھی گئی ہے۔ جب تک ایک فرد سے نفع پہنچ رہا ہے، وہ معاشرے کا ہیرو ہے۔ جہاں اس سے نقصان کا اندیشہ ہوا یا اس کا نفع ختم ہوا، وہ ولن بن جاتا ہے۔

​ بھیڑ چال (Herd Mentality)

​انسانوں کی اکثریت خود سوچنے اور تجزیہ کرنے کی زحمت نہیں کرتی۔ اگر میڈیا، طاقتور طبقہ یا وقت کا دھارا کسی کے حق میں بول رہا ہو، تو سب اس کی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ اگر وہی دھارا کسی کے خلاف ہو جائے، تو سب بغیر تحقیق کیے اس پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔

​ خوف اور مصلحت پسندی

​بہت سے لوگ حقیقت کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی مغضوبِ خلائق (جس سے دنیا سب کچھ چھین رہی ہے) کا ساتھ دیا، تو کہیں ان کی اپنی شناخت اور نام بھی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ اس لیے وہ مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی کہنے والوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

​حصہ چہارم: تاریخ کے آئینے میں اس المیے کی گواہی

​اگر ہم تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھیں تو ہمیں ایسی سینکڑوں مثالیں ملیں گی جہاں دنیا نے اسی دوغلے پن کا مظاہرہ کیا۔

  • سقراط کا مقدمہ۔ ایتھنز کے لوگوں کو جب سقراط کی سچائی سے اپنے مفادات خطرے میں نظر آئے، تو انہوں نے اس کے تمام فلسفے، اس کی دانشمندی اور اس کی محبت کو ایک ہی جھٹکے میں "نوجوانوں کو بگاڑنے کا جرم" قرار دے کر اسے زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیا۔ لیکن جب بعد میں انہیں احساس ہوا، تو اسی سقراط کے نام پر لائبریریاں اور مجسمے بنائے گئے۔
  • سلاطین اور بادشاہوں کا دور۔ کتنے ہی ایسے وزراء اور سپہ سالار گزرے ہیں جنہوں نے سلطنتوں کی بنیادیں مضبوط کیں۔ لیکن جیسے ہی بادشاہ کو ان سے خطرہ محسوس ہوا یا ان کی ضرورت نہ رہی، ان کی تمام وفاداریوں کو بغاوت کا نام دے کر انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

​یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا نے کبھی بھی انسان کی قدر اس کی اصل اخلاقی حیثیت سے نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اپنی ضرورت کے ترازو میں تول کر کی۔

​حصہ پنجم: اس سراب میں اپنی شناخت کو کیسے بچایا جائے؟

​جب دنیا کا یہ روپ سامنے آتا ہے، تو ایک عام انسان شدید مایوسی اور شناخت کے بحران (Identity Crisis) کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جب اس کے اچھے کاموں کی کوئی قیمت نہیں اور برائی صرف ضرورت کے تحت اچھائی بنتی ہے، تو وہ کیوں اچھائی کے راستے پر چلے؟

​اس دلدل سے نکلنے اور اپنی روح کو بچانے کے لیے چند اصولوں پر کاربند ہونا ضروری ہے:

  • اندرونی توثیق (Internal Validation)۔اپنی قیمت کا تعین دنیا کی تعریف یا تنقید سے کرنا بند کریں۔ اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے کہ آپ نے صحیح کام کیا ہے، تو دنیا کا آپ سے آپ کا نام اور کریڈٹ چھین لینا آپ کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔
  • مفادات کے کھیل سے دوری۔ یہ جان لیں کہ دنیا کی تعریف عارضی اور ضرورت کے تابع ہے۔ جب لوگ آپ کی جھوٹی تعریف کریں، تو اسے اپنی سچی خوبی نہ سمجھیں، بلکہ اسے سامنے والے کی ضرورت کا عکاس سمجھیں۔
  • تاریخ کا طویل تناظر۔ دنیا عارضی طور پر کسی کا نام مٹا سکتی ہے، لیکن سچائی کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ دھول کو چاٹ دیتا ہے اور اصل ہیرے کو چمکنے کا موقع دیتا ہے، چاہے اس میں صدیاں ہی کیوں نہ لگ جائیں۔

​ ضمیر کی عدالت سب سے بڑی ہے

​کالم کے آخر میں، ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دنیا ایک ایسا بازار ہے جہاں اخلاق، نام، اور شناخت کی بولیاں لگتی ہیں۔ یہ دنیا جتنی جلدی آپ کو آسمان پر بٹھاتی ہے، اتنی ہی بے رحمی سے زمین پر پٹخ بھی دیتی ہے۔

​جب دنیا آپ سے سب کچھ چھیننے پر آئے، تو یاد رکھیے کہ وہ آپ کا سماجی رتبہ چھین سکتی ہے، آپ کا بینک بیلنس چھین سکتی ہے، لوگوں کی نظروں میں آپ کا مقام گرا سکتی ہے—لیکن وہ آپ کا کردار اور آپ کا خلوص آپ سے کبھی نہیں چھین سکتی، بشرطیکہ آپ خود اسے دنیا کے حوالے نہ کر دیں۔

​دوسری طرف، جب دنیا آپ کی برائیوں کو نیکی بنا کر پیش کر رہی ہو، تو اس خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے، کیونکہ دنیا کی عدالت عارضی ہے اور ضمیر کی عدالت مستقل۔ انسان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب دنیا اس کی بدی پر بھی تالیاں بجا رہی ہو اور وہ خود اپنے نفس کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی برائی کا اعتراف کرنے کی جرات رکھے۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔