روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟
---روما محمود---
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔
تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے تھیلے کے لیے لگنے والی لمبی قطاریں اور وہاں ہونے والی دھکم پیل دراصل ہماری معاشی ترقی کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔
روٹی کا ایک نوالہ بظاہر گندم کے آٹے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن اگر غور کریں تو اس ایک نوالے میں کائنات کے کتنے ہی فلسفے، انسانی مشقت کی داستانیں اور شکر گزاری کے اسباق پوشیدہ ہیں۔
یہ ایک نوالے کا سفر ہے۔ مٹی سے دسترخوان تک۔
ایک نوالہ ہماری زبان تک پہنچنے سے پہلے ایک طویل اور کٹھن سفر طے کرتا ہے۔ یہ سفر کسان کی اس تپتی دھوپ سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ اپنے پسینے سے زمین کو سیراب کرتا ہے۔
بیج کی ہمت، زمین کی سختی کو چیر کر باہر نکلنے کی جدوجہد۔
قدرت کی عنایت ہے بارش، دھوپ اور ہوا کا متناسب ملاپ۔
انسانی مشقت۔ کٹائی، گہائی، پسائی اور پھر تپتے ہوئے تندور یا توے کی آنچ۔
جب ہم اس نوالے کو توڑتے ہیں، تو دراصل ہم سینکڑوں ہاتھوں کی محنت اور قدرت کے ایک عظیم کارخانے کے ثمرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں "روٹی کا نوالہ" صرف غذا نہیں بلکہ عزت اور بقا کی علامت ہے۔
ایک باپ کے لیے روٹی کا نوالہ اس کے بچوں کی مسکراہٹ ہے۔
کسی کے لیے یہ نوالہ آدھی بھوک مٹانے کا ذریعہ ہے، تو کسی کے لیے یہ اتنا وافر ہے کہ وہ اسے ضائع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
"دنیا میں سب سے خوبصورت منظر وہ ہے جب ایک بھوکے کو روٹی کا نوالہ ملے، اور سب سے بدصورت منظر وہ ہے جب کوئی بھرا پیٹ ہونے کے باوجود دوسرے کا نوالہ چھین لے۔"
اج کل کی بھاگ دوڑ میں ہم اکثر نوالہ توڑتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔
دسترخوان پر گرا ہوا ایک چھوٹا سا ٹکڑا شاید ہمارے لیے بے معنی ہو، لیکن یہ ان لاکھوں لوگوں کی توہین ہے جو اسے ترستے ہیں۔
ایک نوالہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
صبر, رزق کے حصول کے لیے انتظار ضروری ہے۔
قناعت, جو میسر ہے، اس میں برکت تلاش کریں۔
اپنے آس پاس ان لوگوں کا خیال رکھنا جن کے پاس آج کا نوالہ موجود نہیں۔
روٹی کا نوالہ انسان اور رب کے درمیان ایک خاموش گفتگو ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائیں، ہماری زندگی کا دارومدار مٹی سے نکلنے والے اس چھوٹے سے ٹکڑے پر ہے۔ اگلی بار جب آپ نوالہ توڑیں، تو اس کے پیچھے چھپی محنت اور قدرت کے نظام کو ضرور سراہیں، کیونکہ یہی نوالہ زندگی کی ڈور کو تھامے ہوئے ہے۔
ہم اس تہذیب کا حصہ ہیں جہاں زمین پر گرا ہوا روٹی کا ٹکڑا دیکھ کر اسے چوم کر اونچی جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ عقیدت اس بات کی علامت ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس ایک لقمے کے پیچھے کسان کی مہینوں کی محنت، بارشوں کا انتظار اور قدرت کی مہربانی شامل ہے۔
ایک مشہور کہاوت ہے کہ "بھوکے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا"، لیکن اسلام اور انسانیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو روٹی اور ایمان کا رشتہ نہایت مضبوط ہے۔
ایمان ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن انسانی فطرت یہ ہے کہ جب پیٹ خالی ہو تو اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور انسان کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ "قریب ہے کہ فقر انسان کو کفر تک لے جائے"۔
عبادت کے لیے سکونِ قلب لازم ہے، اور سکونِ قلب کے لیے جسمانی بقا یعنی غذا ضروری ہے۔ اسلام میں نماز کی تاکید ہے، لیکن اگر سامنے کھانا آ جائے اور بھوک لگی ہو، تو حکم ہے کہ پہلے کھانا کھا لو تاکہ نماز میں دھیان روٹی کی طرف نہ رہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام انسانی ضرورتوں کو ایمان کی ادائیگی کے لیے کتنا اہم سمجھتا ہے۔
قرآنِ پاک میں جگہ جگہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔ ایمان کا ایک اہم جز یہ ہے کہ:
وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
قیامت کے دن اللہ فرمائے گا کہ "میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کیوں نہیں کھلایا؟"
یہاں روٹی صرف آٹا نہیں، بلکہ امتحان بن جاتی ہے۔ جو اپنی روٹی میں سے دوسروں کو حصہ دیتا ہے، اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے روٹی صرف دسترخوان کی زینت نہیں، یہ امن اور عدل کی ضمانت بھی ہے۔
لقمہِ حلال ایمان کو جلا بخشتا ہے اور لقمہِ حرام روحانیت کو فنا کر دیتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس معاشرے میں ایک شخص پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو، وہاں نہ تو حقیقی سکون آ سکتا ہے اور نہ ہی ایمان کی حلاوت۔
حکومتوں اور صاحبِ حیثیت افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ روٹی کو اتنا سستا اور میسر رکھیں کہ کسی کو زندہ رہنے کے لیے اپنا ایمان نہ بیچنا پڑے۔ کیونکہ جب پیٹ خالی ہو تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے، اور جب لقمہ میسر ہو تو شکر گزاری خود بخود ایمان کا حصہ بن جاتی ہے۔


Comments