---روما محمود---
آج 21 جون ہے۔ کیلنڈر پر یہ محض ایک عام سی تاریخ ہو سکتی ہے، لیکن کائنات کے عظیم نظام میں یہ ایک انتہائی خوبصورت اور اہم سنگِ میل ہے۔ آج سال کا سب سے لمبا دن اور مختصر ترین رات ہے۔ سورج آج زمین کے شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، جیسے وہ زمین کو الوداع کہنے میں بالکل جلدی میں نہ ہو۔
سائنسی زبان میں اسے 'سمر سولسٹس' (Summer Solstice) یا انقلابِ صیف کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زمین کا اپنے محور پر جھکاؤ سورج کو ہمارے سب سے زیادہ قریب لے آتا ہے۔ لیکن سائنس کے خشک اعداد و شمار سے ہٹ کر، اگر ہم ایک عام انسان کی نظر سے دیکھیں، تو یہ دن کائنات کے حسن اور وقت کی رفتار پر غور کرنے کا ایک بہترین بہانہ ہے۔
گرمی، یادیں اور طویل دوپہریں ماضی کی بھولی بھٹکی یاد
ہمارے ہاں، خاص طور پر پاکستان میں، طویل دن کا ذکر آتے ہی ذہن میں تپتی ہوئی دھوپ، شدید گرمی اور سستانے کی خواہش ابھرتی ہے۔ لیکن اس دن کا ایک رومانوی پہلو بھی ہے۔ یہ دن ہمیں بچپن کی ان گرمیوں کی چھٹیوں کی یاد دلاتا ہے جب دن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا، جب دوپہریں طویل اور شامیں سحر انگیز ہوا کرتی تھیں، اور رات گئے تک گلیوں میں بچوں کی رونق لگی رہتی تھی۔
آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں انسان ہمیشہ "وقت کی کمی" کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے، یہ طویل ترین دن جیسے قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ یہ ہمیں چند اضافی گھنٹے فراہم کرتا ہے—کچھ مزید کام کرنے کے لیے، اپنوں کے ساتھ تھوڑا اور وقت گزارنے کے لیے، یا پھر صرف خاموشی سے ڈوبتے سورج کی شفق کو دیکھنے کے لیے۔
عروج کے بعد زوال وقت کا ایک خوبصورت فلسفہ
اس دن میں ایک گہرا فلسفہ بھی چھپا ہے۔ آج سورج اپنے عروج کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔ روشنی کا یہ سفر آج اپنے نقطہِ کمال پر ہے، لیکن کائنات کا اصول ہے کہ عروج کے بعد تبدیلی ناگزیر ہے۔ کل سے دن کا دورانیہ چند سیکنڈز یا منٹس کے حساب سے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا، اور راتیں اپنا کھویا ہوا وقت واپس لینا شروع کر دیں گی۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کا کوئی بھی موسم، چاہے وہ کامیابی کی تیز روشنی ہو یا آزمائش کی طویل دوپہر، ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ تغیر ہی اس کائنات کا اصل حسن ہے۔
آج جب سورج غروب ہونے میں معمول سے تھوڑی زیادہ دیر لگائے، تو روزمرہ کی بھاگ دوڑ سے چند لمحے نکال کر کھڑکی سے باہر ضرور دیکھیے گا۔ اس طویل ترین دن کی آخری چمکتی ہوئی کرنوں کو الوداع کہیں، کیونکہ یہ روشنی پھر اگلے سال ہی اتنی دیر کے لیے ہمارا آنگن سجائے گی۔

Comments