کل کی بے خبری انسان، تقدیر اور سرابِ مسلسل

 



---روما محمود---


لمحہِ موجود اور کل کا دھندلا خاکہ

​انسان کی پوری تاریخ دراصل ایک مسلسل جدوجہد ہے—ایک ایسی جدوجہد جو اس نے وقت کے بے رحم دھارے اور مستقبل کے اندھیروں کے خلاف لڑ رکھی ہے۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کی آخری سانس تک، ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، اس کے پیچھے ایک مفروضہ ہوتا ہے کہ "کل" بھی ویسا ہی ہوگا جیسا "آج" تھا، یا شاید اس سے بہتر ہوگا۔ لیکن حقیقت کی بے رحم عدالت میں جب اس مفروضے کا ٹرائل ہوتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا سب سے بڑا سچ یہی ہے: "کوئی نہیں جانتا کہ کل اس کے ساتھ کیا ہوگا!"




​یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر بہت سادہ، شاید کچھ حد تک روایتی یا فلسفیانہ لگتا ہے، لیکن جب اس کی گہرائی میں اترا جائے تو یہ انسانی تکبر کی دیواروں کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ انسان نے زمین کے سینے کو چاک کیا، سمندروں کی گہرائیوں کو ناپا، اور ستاروں پر کمندیں ڈالیں، لیکن وہ وقت کی اس باریک لکیر کو عبور کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا جو ’آج‘ کو ’کل‘ سے جدا کرتی ہے۔

​ہم سب ایک ایسے سفر کے مسافر ہیں جہاں راستے دھندلے ہیں، منزل کا نقشہ ادھورا ہے اور اگلا موڑ کس سرپرائز (یا جھٹکے) کا حامل ہے، اس کا علم کسی کو نہیں۔

​مستقبل بینی کی تاریخ اور انسانی ناکامی

​اگر ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ سے مستقبل کا سراغ لگانے کے لیے بے چین رہا ہے۔ پرانے وقتوں کے بادشاہوں کے درباروں میں نجومیوں، رمالوں اور جادوگروں کی فوج ظفر موج اسی لیے رکھی جاتی تھی کہ وہ کسی طرح آنے والے کل کے پردے کو سرکا کر اندر کا حال بتا سکیں۔ ستاروں کی چال دیکھی جاتی تھی، لکیروں کو پڑھا جاتا تھا، طوطوں سے فال نکلوائی جاتی تھی—صرف اس ایک خوف کی وجہ سے کہ "کل کیا ہوگا؟"

​لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے نجومی اپنے ہی انجام سے بے خبر رہے۔ وہ بادشاہ جو کل کی فتوحات کے خواب دیکھ رہے تھے، اگلے ہی دن کسی معمولی بیماری یا اچانک بغاوت کا شکار ہو کر مٹی میں مل گئے۔

"تدبیر کند بندہ، تقدیر خندد"

(انسان تدبیر کرتا ہے اور تقدیر اس پر ہنستی ہے۔)


​یہ مقولہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ انسانی عقل اپنی تمام تر رعنائیوں اور وسعتوں کے باوجود، وقت کے اس خفیہ اسکرپٹ کو پڑھنے سے قاصر ہے جو لوحِ ایام پر لکھا جا چکا ہے۔

​ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور ’کل‘ کا جدید سراب

​آج کے 2026ء کے دور میں، جب ہم مصنوعی ذہانت (AI)، بگ ڈیٹا (Big Data) اور پریڈیکٹو اینالیٹکس (Predictive Analytics) کے دور میں جی رہے ہیں، تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم نے مستقبل کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ موسم کی پیشگوئی ہو، اسٹاک مارکیٹ کے رجحانات ہوں یا کسی ملک کی معیشت کا گراف—ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے الگورتھمز سب کچھ جانتے ہیں۔

​لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

  • معاشی بحران: دنیا کے بہترین ماہرینِ معاشیات مل کر بھی کسی اچانک آنے والے معاشی کریش کی درست تاریخ نہیں بتا سکتے۔
  • قدرتی آفات: زلزلے، طوفان اور وبائیں آج بھی انسانی بستیوں کو اس وقت جکڑتی ہیں جب وہ پوری طرح غافل ہوتی ہیں۔
  • انفرادی زندگی: ایک شخص رات کو دنیا بھر کی سرمایہ کاری کے منصوبے بنا کر سوتا ہے، اور صبح اس کی آنکھ ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) میں کھلتی ہے، یا پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔

​جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں ڈیٹا تو دے دیا ہے، لیکن وہ ہمیں "یقین" نہیں دے سکی۔ وہ صرف امکانات (Probabilities) بتاتی ہے، قطبیت (Certainty) نہیں۔ چنانچہ، انسان آج بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا پتھر کے دور کا انسان مستقبل کے سامنے بے بس تھا۔

​خوف یا امید، بے یقینی کی نفسیاتی کشمکش

​یہ بے خبری انسانی نفسیات پر دو طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ایک دوراہا ہے جہاں سے دو مختلف راستے نکلتے ہیں: ایک راستہ خوف اور مایوسی کا ہے، اور دوسرا امید اور تحرک کا۔

خوف کا پہلو (The Psychological Anxiety)

​اگر انسان ہر وقت اس سوچ میں متبلا رہے کہ کل کچھ برا ہونے والا ہے، تو وہ "آج" کی زندگی سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ مستقبل کا یہی خوف انسان کو حریص، خود غرض اور نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ وہ دولت جمع کرنے کی اندھی دوڑ میں لگ جاتا ہے تاکہ اپنے "کل" کو محفوظ کر سکے، حالانکہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جس کل کے لیے وہ آج کا سکون برباد کر رہا ہے، وہ کل اس کی قسمت میں ہے بھی یا نہیں۔


 امید کا پہلو (The Beauty of the Unknown)

​دوسری طرف، اگر کل کا علم سب کو ہو جائے، تو زندگی کا سارا حسن، سارا سسپنس اور ساری کشش ختم ہو جائے۔ ذرا سوچیے اگر آپ کو معلوم ہو کہ اگلے سال فلاں دن آپ کا ایک بڑا نقصان ہونے والا ہے، یا آپ کو کوئی بیماری لگنے والی ہے، تو کیا آپ اس دوران ایک دن بھی خوشی سے جی پائیں گے؟

​کل کی بے خبری دراصل قدرت کا ایک بہت بڑا تحفہ ہے، جو انسان کو ہر روز ایک نئے عزم اور نئی امید کے ساتھ بستر سے اٹھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔


​روحانیت اور توکل، بے یقینی میں سکون کی تلاش

​جب فلسفہ اور سائنس انسان کو مستقبل کے خوف سے نجات دلانے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو وہاں سے روحانیت اور مذہب کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ اسلام نے اس بے یقینی کا حل "توکل" (Trust in God) اور "ایمان بالغیب" (Belief in the Unseen) کی صورت میں پیش کیا ہے۔

​قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد ہے۔

وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا

"اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی (یا اس کے ساتھ کیا ہوگا)۔" (سورہ لقمان: 34)


​یہ آیت انسانی علم کی حد کو متعین کرتی ہے۔ جب ایک مومن یا ایک روحانی انسان اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیتا ہے کہ کائنات کی باگ ڈور کسی ایسی برتر طاقت کے ہاتھ میں ہے جو رحیم اور کریم ہے، تو اس کے دل سے کل کا خوف نکل جاتا ہے۔

​توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے اور تدبیر چھوڑ دے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی بساط کے مطابق بہترین تدبیر کرے، اپنا "آج" پوری دیانت داری سے جئے، اور پھر "کل" کے فیصلے کو اس ذات پر چھوڑ دے جو کل کی مالک ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں بے یقینی، سکونِ قلب میں بدل جاتی ہے۔

​عملی زندگی پر اس حقیقت کے اثرات

​اگر ہم اس فلسفے کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں لاگو کریں، تو ہماری معاشرتی اور انفرادی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

​تکبر کا خاتمہ

​جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اگلے ہی لمحے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، اس کا اسے علم نہیں، تو اس کے اندر کا فرعون مر جاتا ہے۔ اقتدار، دولت اور طاقت کا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ سکندرِ اعظم ہو یا کوئی عام مزدور، وقت کی ایک کروٹ سب کا کھیل ختم کر سکتی ہے۔

​رشتوں کی قدر

​ہم اکثر اپنے پیاروں سے ناراض ہو جاتے ہیں، یہ سوچ کر کہ "کل" منا لیں گے۔ لیکن اگر ہمیں یہ یقین ہو کہ شاید کل کا سورج ہمیں یا انہیں دیکھنے کو نہ ملے، تو ہم نفرتوں کو طول دینا چھوڑ دیں گے۔ ہم آج ہی معاف کرنا اور محبت کرنا سیکھ لیں گے۔

​لمحہِ موجود کی اہمیت (Living in the Present)

​اکثر لوگ یا تو ماضی کے پچھتاووں میں جیتے ہیں یا مستقبل کے خدشات میں۔ کل کی بے خبری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جو لمحہ ہمارے پاس ہے، وہی اصل دولت ہے۔ اسے بھرپور طریقے سے جینا، اچھے کام کرنا اور دوسروں کے کام آنا ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔


 کل کی بے خبری ایک نعمت

​آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "کوئی نہیں جانتا کہ کل اس کے ساتھ کیا ہوگا"—یہ جملہ کوئی مایوسی کا نوحہ نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کی خوبصورتی کا اعتراف ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی ایک کینوس ہے جس پر ہر روز ایک نیا رنگ بکھرتا ہے۔ اگر یہ رنگ پہلے سے طے شدہ اور ہمیں معلوم ہوتے، تو زندگی کسی فیکٹری کی مشین کی طرح بے روح ہو جاتی۔

​ہمیں مستقبل کی فکر ضرور کرنی چاہیے، منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے، لیکن اس فکر کو خود پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ جو کل آج تک کسی کا نہیں ہوا، وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پاس صرف "آج" ہے، اور اس آج کو بہترین بنانا ہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

​چنانچہ، کل کے اندھیروں یا اجالوں سے بے خوف ہو کر، ہمیں ہر صبح کا استقبال اس امید کے ساتھ کرنا چاہیے کہ

"جو کچھ بھی ہوگا، وہ اس کائنات کے مالک کے رحم و کرم کے سائے میں ہوگا، اور جو اس کے فیصلے ہیں، وہی بہترین ہیں۔"


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔