محبت کا کرشمہ پیار سے تو جانور بھی سدھر جاتا ہے

 


---روما محمود---




​یہ ایک پرانی کہاوت ہے جسے ہم سب نے اپنی زندگی میں بارہا سنا ہے: "پیار سے تو جانور بھی سدھر جاتا ہے، انسان کیا چیز ہے۔" یہ جملہ بظاہر تو بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اندر انسانی نفسیات اور کائنات کے سب سے طاقتور جذبے، یعنی 'محبت'، کا ایک گہرا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔


 غور کریں تو قدرت نے ہر جاندار کے اندر محبت اور شفقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھی ہے۔ ایک خونخوار جانور بھی اگر اسے مسلسل پیار اور اپنائیت ملے، تو اپنی درندگی چھوڑ کر وفادار بن جاتا ہے۔ تو پھر انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، جذبات اور احساسات کا ایک سمندر رکھتا ہے، وہ کیوں اس پیار کی زبان کو نہیں سمجھ پائے گا؟

​ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'سختی' اور 'تنقید' کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم کسی پر چیخیں گے، اسے نیچا دکھائیں گے یا اس پر دباؤ ڈالیں گے، تو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سختی سے انسان کے اندر 'انا' (Ego) بیدار ہوتی ہے۔ جب آپ کسی کو ڈراتے یا دباتے ہیں، تو وہ اندر سے ٹوٹتا نہیں، بلکہ باغی ہو جاتا ہے۔

​اس کے برعکس، محبت اور نرمی انسان کی انا کی دیواروں کو گرا دیتی ہے۔ جب آپ کسی سے پیار سے بات کرتے ہیں، اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور اسے احساس دلاتے ہیں کہ وہ آپ کے لیے اہم ہے، تو وہ شخص خود ہی اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ محبت انسان کو شرمندہ کرتی ہے، اور یہ شرمندگی اس کی بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔

محبت کیوں طاقتور ہے؟

​محبت صرف پیار کے اظہار کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ احترام، صبر اور درگزر کا مجموعہ ہے۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں، تو ہم اس کی ذات کو قبول کرتے ہیں۔

  • احترام: کسی کو اس کے خامیوں سمیت قبول کرنا۔
  • صبر: کسی کے بدلنے کا انتظار کرنا۔
  • درگزر: اس کی غلطیوں کو معاف کر کے آگے بڑھنا۔

​جب کوئی انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے کوئی غیر مشروط طور پر چاہتا ہے، تو اس کے اندر کا خود غرض انسان مر جاتا ہے اور ایک ذمہ دار اور بہتر انسان جنم لیتا ہے۔

​آج کے پرفتن اور مصروف دور میں ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم ہر بات پر بحث کرنا، تنقید کرنا اور الزام تراشی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے انسانوں کو 'ٹھیک' کرنے کے لیے 'سزا' کا انتخاب کیا ہے، جبکہ ہمیں 'علاج' کی ضرورت ہے۔

​یاد رکھیے، آپ کسی کو طاقت کے زور پر جھکا تو سکتے ہیں، مگر اسے اپنے دل میں جگہ نہیں دے سکتے۔ لوگوں کے دل جیتنے کا واحد راستہ محبت اور ہمدردی ہی ہے۔ اگر آپ کسی کے رویے سے پریشان ہیں، تو اسے بدلنے کی کوشش میں اس سے لڑیں مت، بلکہ اسے محبت کا تحفہ دیں۔ کبھی کبھی ایک مسکراہٹ، ایک چھوٹا سا تحفہ یا ایک ہمدردانہ جملہ سالوں کی دوریوں کو ختم کر دیتا ہے۔

​انسان کا دل مٹی کا برتن نہیں کہ ٹوٹ جائے، بلکہ یہ ایک زمین ہے جس میں آپ جیسا بیج بوئیں گے، ویسی ہی فصل کاٹیں گے۔ اگر آپ نفرت بوئیں گے تو کانٹے ملیں گے، اور اگر آپ محبت بوئیں گے تو آپ کو محبت ہی ملے گی۔

​آئیے، آج سے نفرت، تکبر اور سختی کو ایک طرف رکھ کر محبت اور نرمی کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر ہم جانوروں کو سدھارنے کے لیے پیار استعمال کر سکتے ہیں، تو اپنے پیاروں کے دل جیتنے کے لیے یہ کیوں ممکن نہیں؟ محبت ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس سے پوری دنیا کو جیتا جا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔