اونٹ کا کینہ اور انسانی دل کا بوجھ

 


---روما محمود---



عربوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ "اونٹ کینہ پرور ہوتا ہے۔" کہا جاتا ہے کہ اگر آپ اونٹ پر بلاوجہ سختی کریں یا اسے ماریں، تو وہ اس وقت تو خاموش رہ سکتا ہے، لیکن وہ اس زیادتی کو اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔ وہ موقع ڈھونڈتا ہے، کئی سال انتظار کرتا ہے، اور جب اسے لگتا ہے کہ اب اسے بدلہ لینے کا بہترین موقع ملا ہے، تو وہ اپنی انتقامی کارروائی کر گزرتا ہے۔


​سنا ہے کہ اونٹ صحرا کا وہ باوقار اور صبر کرنے والا جانور ہے جو بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی اس کے ساتھ زیادتی کرے تو وہ اسے کبھی نہیں بھولتا۔ وہ اپنی یادداشت کے صندوقچے میں اس زیادتی کو بند کر لیتا ہے اور برسوں تک موقع کا منتظر رہتا ہے۔ اسے ہم 'کینہ' کہتے ہیں۔


​یہ محض ایک جانور کی فطرت کا ذکر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی انسانی فطرت کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

کیا ہم اونٹ سے بھی گئے گزرے ہیں؟

​انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اسے عقل و شعور کی دولت دی گئی ہے تاکہ وہ جذباتی ردعمل سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اکثر ہم اپنے اندر 'کینہ' کو پال کر اس اونٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ اونٹ کا کینہ تو ایک دفاعی ردعمل ہو سکتا ہے، لیکن انسان کا کینہ تو اکثر انا، تکبر اور حسد کی پیداوار ہوتا ہے۔

​جب ہم کسی کے برے رویے کو دل میں بٹھا لیتے ہیں، تو ہم درحقیقت اس شخص کو نہیں، بلکہ اپنے آپ کو سزا دے رہے ہوتے ہیں۔ کینہ دل پر جم جانے والی وہ کائی ہے جو انسان کی خوشیوں، سکون اور ذہنی صلاحیتوں کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔

​کسی نے کیا خوب کہا ہے: "کینا رکھنا ایسے ہی ہے جیسے آپ زہر خود پئیں اور امید کریں کہ دوسرا مر جائے۔"

​جو انسان کینہ پالتا ہے، اس کا پورا وجود اس منفی جذبے کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اسے ہر وقت بدلے کی فکر رہتی ہے، ہر وقت اس کا دماغ اسی سازش میں مصروف رہتا ہے کہ کیسے سامنے والے کو نیچا دکھائے۔ اس عمل میں وہ شخص اپنی زندگی کے قیمتی لمحات، اپنا چین اور اپنا سکون برباد کر دیتا ہے۔ سامنے والا تو شاید اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا ہو، لیکن ہم اسی 'بدلے' کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی کو جہنم بنا لیتے ہیں۔



​بدلہ لینا انسان کی ایک وقتی جبلت ہو سکتی ہے، لیکن درگزر کرنا انسان کی عظمت کی نشانی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں اور افراد نے انتقام کو اپنا شعار بنایا، وہ خود بھی تباہ ہو گئے اور اپنے اردگرد بھی نفرت کی آگ پھیلائی۔ اس کے برعکس، جس نے معاف کرنا سیکھا، اس نے نہ صرف اپنے دل کو سکون دیا بلکہ معاشرے میں عزت اور وقار بھی پایا۔

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے

​اونٹ کے پاس شعور نہیں، وہ اپنی فطری جبلتوں کا غلام ہے۔ لیکن ہم انسان ہیں، ہمارے پاس یہ اختیار ہے کہ ہم کینے کے اس بوجھ کو اپنے دل سے اتار پھینکیں۔

​اگلی بار جب آپ کا دل کسی کے خلاف کینہ محسوس کرے، تو ذرا ٹھہر کر سوچیں: کیا یہ نفرت اتنی قیمتی ہے کہ اس کے لیے میں اپنے دل کا سکون داؤ پر لگا دوں؟ کیا یہ انتقام مجھے وہ خوشی دے سکے گا جو ایک شفاف دل کے ساتھ جینے میں ہے؟

 کینہ رکھنے والے کا دل کبھی بڑا نہیں ہو سکتا۔ اگر اونٹ کا کینہ اسے ایک انتقامی جانور بناتا ہے، تو انسان کا درگزر اسے ایک عظیم ہستی بناتا ہے۔ آج موقع ہے کہ ہم اپنے دل کو اس بوجھ سے آزاد کریں اور نفرت کی بجائے محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

کیونکہ انتقام تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن محبت اور درگزر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔