---روما محمود---
لفظوں کی حرمت اور خاموشی کا زہر
قرآنِ مجید جہاں انسان کی فلاح اور رہنمائی کی کتاب ہے، وہاں یہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ کتابِ الٰہی کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 18 میں ایک ایسی جامع اور لرزہ خیز اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو کسی بھی دور کے زوال پزیر معاشرے کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ الفاظ ہیں "صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ" یعنی "یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس یہ (راہِ راست کی طرف) لوٹ کر نہیں آئیں گے۔"
بظاہر یہ الفاظ چودہ سو سال قبل کے منافقین اور حق کے منکرین کے لیے نازل ہوئے تھے، لیکن اگر آج ہم اپنے اردگرد کی دنیا، بالخصوص اپنے مسلم اور ملکی معاشرے کا گہرا مائیکروسکوپک مطالعہ کریں، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ تین الفاظ آج ہمارا سب سے بڑا اجتماعی المیہ بن چکے ہیں۔ ہم نے جسمانی طور پر تو آنکھیں، کان اور زبانیں سلامت رکھی ہیں، لیکن فکری، اخلاقی اور ضمیری طور پر ہم اسی "صمٌ بکمٌ" کی تصویر بن چکے ہیں۔
"صُمٌّ" (بہرے): حق کی آواز سے محرومی
قرآنی اصطلاح کا پہلا لفظ "صُمٌّ" یعنی بہرے ہونا ہے۔ اس سے مراد کان کے پردوں کی خرابی نہیں، بلکہ اس صلاحیت سے محرومی ہے جہاں انسان حق کی آواز، مظلوم کی پکار اور ضمیر کی ملامت کو سننے سے انکار کر دے۔
آج کے جدید دور میں، جہاں معلومات کا سیلاب ہے اور ہر طرف شور ہی شور ہے، ہم حق کی آواز کے معاملے میں مکمل طور پر بہرے ہو چکے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سچی بات کہنے والے موجود ہیں، لیکن ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔
- انفرادی سطح پر: ہم صرف وہی سننا چاہتے ہیں جو ہماری انا، ہمارے سیاسی نظریات، یا ہمارے ذاتی مفادات کو تسکین دے۔ اگر کوئی ہماری اصلاح کرنا چاہے، تو ہمارے کانوں پر مصلحتوں کے سیسے ڈھل جاتے ہیں۔
- اجتماعی سطح پر: جب کسی کمزور پر ظلم ہوتا ہے، جب کوئی سسکتا ہوا انسان مدد کے لیے پکارتا ہے، تو معاشرہ اجتماعی بہرے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہم اس خوف سے اپنے کان بند کر لیتے ہیں کہ کہیں اس پکار کو سننے کے بعد ہم پر کوئی ذمہ داری نہ عائد ہو جائے۔
"بُكْمٌ" (گونگے): مصلحت پسند خاموشی
دوسرا لفظ ہے "بُكْمٌ" یعنی گونگے۔ یہ وہ گونگا پن ہے جو زبان کی لکنت سے نہیں، بلکہ خوف، مصلحت اور مفاد پرستی سے جنم لیتا ہے۔ حدیثِ نبویؐ کا مفہوم ہے کہ "حق بات نہ کہنے والا گونگا شیطان ہے۔"
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو سچ بول سکتے ہیں، جن کے پاس قلم کی طاقت ہے، جن کے پاس منبر و محراب کی طاقت ہے، یا جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں، وہ سب مصلحتوں کا شکار ہیں۔
- سیاسی و سماجی منافقت: معاشرے میں ظلم، ناہمواری اور بدعنوانی عروج پر ہو، لیکن لوگ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ کہیں ان کا اپنا کاروبار، نوکری یا پوزیشن خطرے میں نہ پڑ جائے۔
- تعلیم یافتہ طبقے کی خاموشی: سب سے خطرناک خاموشی دانشوروں اور پڑھے لکھے طبقے کی ہے۔ جب معاشرے کے معمار سچ بولنے سے کترانے لگیں، تو جھوٹ کو سچ کا درجہ مل جاتا ہے۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں برائی کو دیکھتے ہیں، رشوت خوری، سفارش کلچر اور ملاوٹ کو برداشت کرتے ہیں، لیکن زبان نہیں کھولتے۔ یہ "بُکمٌ" کا وہ بدترین درجہ ہے جہاں انسان برائی کو دیکھ کر دل میں برا جاننے کی آخری حد سے بھی گر جاتا ہے۔
"عُمْيٌ" (اندھے): بصیرت اور حقیقت سے دوری
تیسرا لفظ ہے "عُمْيٌ" یعنی اندھے۔ آنکھیں چہرے پر موجود ہیں، فور کے (4K) سکرینیں دیکھ سکتی ہیں، دنیا کی رنگینیاں جذب کر سکتی ہیں، لیکن وہ حقائق کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بصارت کا نہیں، بصیرت کا اندھا پن ہے۔
قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ ارشاد ہے: "حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں" (سورہ الحج)۔
- نظریاتی اندھا پن: آج کا انسان فرقہ واریت، قوم پرستی، اور سیاسی وابستگیوں میں اس حد تک اندھا ہو چکا ہے کہ اسے اپنی جماعت یا اپنے قبیلے کی ہر برائی اچھائی نظر آتی ہے، اور دوسرے کی ہر اچھائی برائی دکھائی دیتی ہے۔
- ظلم سے نظریں چرانا: ہم سڑک پر کسی کا ایکسیڈنٹ دیکھ کر ویڈیو بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن اس کی تڑپتی لاش کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ہماری آنکھیں مروت اور انسانیت سے خالی ہوتی ہیں۔ ہم دنیا بھر میں انسانوں پر ہوتے مظالم دیکھتے ہیں، لیکن عالمی طاقتوں کے مفادات کے اندھے چشمے پہن کر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
"فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ" (پس وہ نہیں لوٹیں گے)
اس قرآنی آیت کا سب سے خوفناک حصہ اس کا آخری ٹکڑا ہے۔ "فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ" یعنی جب کوئی معاشرہ یا فرد مسلسل حق کو سننے سے انکار کرے (صمٌّ)، سچ بولنے سے کترائے (بکمٌ) اور حقیقت کو دیکھنے سے آنکھیں بند کر لے (عميٌ)، تو اس پر قدرت کا یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے کہ اس سے توبہ اور واپسی کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔
یہ وہ نقطہ ہے جہاں جمود (Stagnation) مستقل ہو جاتا ہے۔ جب غلطی کا احساس ہی ختم ہو جائے، تو اصلاح کی امید دم توڑ دیتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران معاشی یا سیاسی نہیں ہے، بلکہ اخلاقی اور فکری ہے، جہاں ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ہم بطور مجموعی غلط راستے پر چل رہے ہیں۔
اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
قرآنِ کریم صرف مرض کی تشخیص نہیں کرتا، بلکہ علاج بھی تجویز کرتا ہے۔ اگر ہم اس "صم بکم عما" کی کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔
- اپنے کانوں کو کھولنا (ساعتِ حق): ہمیں تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ جب تک ہم اپنی غلطیوں پر دوسروں کی سچی بات کو خندہ پیشانی سے نہیں سنیں گے، ہم "صُمٌّ" کی لکیر پار نہیں کر سکتے۔
- کلمۂ حق کی جرات (گویا ہونا): خوف کے بتوں کو توڑنا ہوگا۔ جہاں ظلم ہو، جہاں ناانصافی ہو، وہاں مصلحت کی چادر پھینک کر سچ کا ساتھ دینا ہوگا۔ یاد رکھیے، خاموشی ظالم کی سب سے بڑی مددگار ہوتی ہے۔
- بصیرت کا احیاء (دیدہ ور بننا): ہمیں تعصبات کے چشمے اتار کر دنیا کو دیکھنا ہوگا۔ رنگ، نسل، فرقے اور سیاست سے بالاتر ہو کر صرف "انسانیت اور حق" کے معیار پر چیزوں کو پرکھنا ہوگا۔
"صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ" کسی مخصوص عہد کے کافروں کا قصہ نہیں، بلکہ ہر اس معاشرے کا نصیب ہے جو حق، سچ اور انصاف کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی آنکھیں، کان اور زبانیں اللہ کے احکامات اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال نہ کیں، تو تاریخ کا اگلا صفحہ ہماری داستانِ زوال سے بھرا ہوگا، اور آنے والی نسلیں ہمیں اسی قرآنی آیت کا مصداق سمجھیں گی۔
ہم اس فکری موت سے کب جاگیں گے ۔
جاگ جائیں۔ اس سے پہلے کہ ہمارے لوٹنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔

Comments