Skip to main content

قانون کی زبان اور گونگی عوام ایک دیرینہ قومی تضاد.

 




---روما محمود---




یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ آئینی، سماجی اور عوامی معاملہ ہے۔ پاکستان میں سالہا سال سے یہ تضاد موجود ہے کہ ملک کی اکثریت انگریزی زبان سے نابلد ہے، جبکہ تقدیر بدلنے والے قوانین اسی زبان میں تیار اور پاس کیے جاتے ہیں۔




​کسی بھی آزاد اور خودمختار ملک میں پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ جس عوام کے لیے قانون بنایا جا رہا ہو، وہ اس قانون کا ایک لفظ بھی پڑھنے یا سمجھنے سے قاصر ہو؟ پاکستان میں بدقسمتی سے گزشتہ پون صدی سے یہی تماشہ جاری ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی انگریزی زبان نہیں سمجھ سکتی، مگر حیرت انگیز طور پر ہماری پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) میں پیش ہونے والے، بحث کا حصہ بننے والے اور پاس ہونے والے تقریباً تمام قوانین اور بلز انگریزی زبان میں ہی ڈرافٹ کیے جاتے ہیں۔

​یہ صورتحال نہ صرف معنی خیز ہے بلکہ عوام کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نہیں   پارلیمنٹ میں کسی بھی بل کو پاس کرنے سے پہلے اس کا اردو ترجمہ لازمی قرار دیا جائے تاکہ ملک کا ہر شہری اپنے قوانین کو خود سمجھ سکے؟

​آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 251 واضح طور پر کہتا ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ انگریزی کو سرکاری و دیگر مقاصد کے لیے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات کرے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان بھی 2015 میں اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا تاریخی فیصلہ دے چکی ہے۔


​جب پارلیمنٹ میں کوئی بل صرف انگریزی میں پیش کیا جاتا ہے، تو اس کے نقصانات صرف عوام تک محدود نہیں رہتے، بلکہ خود کئی اراکینِ اسمبلی بھی اس قانون کی باریکیوں کو سمجھے بغیر صرف "جی ہاں" یا "جی نہیں" میں ہاتھ کھڑا کر دیتے ہیں۔

یہ کیسی قانون سازی ہے جہاں قانون بنانے والے اور جن پر قانون نافذ ہونا ہے، دونوں ہی اس کی روح سے ناواقف ہوں؟

​دنیا بھر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

چین، جاپان، جرمنی، فرانس اور ترکی جیسے ممالک نے اگر ترقی کی ہے تو اپنی قومی زبان کے بل بوتے پر کی ہے۔

پڑوسی ملک بھارت میں بھی پارلیمنٹ میں بل ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت پیش کیے جاتے ہیں اور اراکین کو اپنی علاقائی زبانوں میں بحث کی مکمل آزادی اور لائیو ترجمے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

کینیڈا میں ہر قانون انگریزی اور فرانسیسی دونوں میں یکساں قانونی حیثیت کے ساتھ پاس ہوتا ہے۔

تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟

​اگر پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے سے پہلے اس کا مستند اردو ترجمہ لازمی قرار دے دیا جائے، تو اس کے تین بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔

●عوامی شعور اور شفافیت: جب قانون عام فہم زبان میں ہوگا، تو میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری اس پر کھل کر بات کر سکیں گے، جس سے قوانین میں خامیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

●اراکینِ پارلیمنٹ کی فعال شرکت: وہ اراکینِ اسمبلی جو انگریزی میں مہارت نہیں رکھتے، وہ بھی قانون سازی کے عمل میں بھرپور حصہ لے سکیں گے اور اندھا دھند ووٹنگ کا سلسلہ رکے گا۔

●انصاف کی آسان فراہمی: جب عام شہری کو اپنے حقوق اور فرائض کا اپنی زبان میں علم ہوگا، تو وکلاء اور بیوروکریسی کے ہاتھوں ان کا استحصال کم سے کم ہو جائے گا۔

​یقیناً یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ قانونی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کرنا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے۔

لیکن یہ آج کے دور میں ناممکن ہرگز نہیں ہے۔

ہمارے پاس مقتدرہ قومی زبان (قومی زبان فروغ ادارہ) جیسے ادارے موجود ہیں، جنہیں فعال کر کے یہ کام چند ہفتوں میں کیا جا سکتا ہے۔

​اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے رولز آف بزنس میں ترمیم کی جائے اور یہ شرط عائد کی جائے کہ "کوئی بھی بل اس وقت تک بحث یا ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کا مستند اردو ترجمہ اراکین اور عوام کے سامنے نہ رکھ دیا جائے۔"

​اس سے نہ صرف لوگوں میں احساس ذمہ داری بڑھے گی اور وہ بہتر طریقے سے کام انجام دے سکیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...