پارکو بورڈ کی تشکیلِ نو مہارت یا مراعات کا کھیل؟



---روما محمود---



​پاکستان کے توانائی کے شعبے میں 'پارکو' (Pak-Arab Refinery Company) جیسے اہم ادارے کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں اس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو کی خبر سامنے آئی ہے، جو صحافی شہباز رانا نے اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کی ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک شدید معاشی بحران اور توانائی کے مہنگے نرخوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ یہ تشکیلِ نو اصلاحات کے دعووں پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔



​تخصص کا فقدان بیوروکریٹس یا انرجی ماہرین؟

​کسی بھی بڑی کارپوریٹ اینٹیٹی یا قومی اہمیت کے حامل ادارے کے بورڈ کا بنیادی مقصد پالیسی سازی میں رہنمائی اور تکنیکی مہارت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ توانائی کا شعبہ، جو ٹیکنالوجی، عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور پیچیدہ سپلائی چینز پر منحصر ہے، وہاں ایسے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو انرجی سیکٹر کی باریکیوں سے واقف ہوں۔

​تاہم، پارکو بورڈ کی حالیہ تشکیل میں ایک بار پھر وہی روایتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ انرجی ماہرین کو شامل کرنے کے بجائے، وفاقی وزراء اور پہلے سے تعینات بیوروکریٹس کو ہی بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک بیوروکریٹ یا سیاست دان کے پاس توانائی کی عالمی مارکیٹ کو سمجھنے یا ریفائنری کے جدید تکنیکی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے؟ جب تک بورڈ میں 'سبجیکٹ میٹر ایکسپرٹس' (Subject Matter Experts) کو شامل نہیں کیا جائے گا، تب تک ان اداروں میں جدت اور کارکردگی لانا ایک خواب ہی رہے گا۔

​رسمی تبدیلی یا حقیقی اصلاح؟

​اس تشکیلِ نو کا سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ بورڈ میں محض ایک تبدیلی کی گئی ہے: روباب سکندر کو بورڈ ممبر بنایا گیا ہے۔ باقی ماندہ وہی پرانے چہرے، وہی پرانی ساخت۔ اس طرح کی 'کاسمیٹک تبدیلیاں' اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ حکومت کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانا نہیں، بلکہ محض 'خانہ پری' کرنا ہے۔ جب تک بورڈ کی بنیادی تشکیل میں شفافیت اور میرٹ کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا، تب تک ایسی تبدیلیاں صرف ایک فائل ورک ہی رہیں گی۔

​عوامی خزانے پر بھاری بوجھ: 3500 ڈالر فی اجلاس

​سب سے زیادہ تشویشناک بات جو اس رپورٹ میں سامنے آئی ہے، وہ بورڈ ممبران کی مراعات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہر بورڈ ممبر کو اجلاس میں شرکت کے لیے 3500 ڈالر کی فیس دی جاتی ہے۔

  • معاشی تناظر: پاکستان جس وقت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور ڈالر کی قلت سے نبرد آزما ہے، وہاں سرکاری اداروں کے بورڈ ممبران کو اتنی خطیر رقم (پاکستانی روپوں میں جو ایک بڑی رقم بنتی ہے) محض ایک اجلاس میں شرکت کی فیس کے طور پر دینا ایک سنگین تضاد ہے۔
  • احتساب کا فقدان: کیا یہ ممبران اس فیس کے بدلے ادارے کو کوئی ایسی حکمت عملی دیتے ہیں جس سے فیول کی قیمتوں میں کمی ہو یا ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو یہ عوامی ٹیکس کے پیسوں کا ضیاع ہے۔


 بیوروکریسی کا گڑھ بنتے ادارے

​پارکو جیسے اداروں میں اگر 'جنرل سٹ' بیوروکریٹس ہی فیصلے کریں گے، تو نتیجہ وہی ہوگا جو ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں: منجمد پالیسیاں، ناکارہ مینجمنٹ اور صارفین پر مہنگائی کا بوجھ۔

​حکومت کو چاہیے کہ وہ 'مراعات یافتہ طبقے' کی نوازشات کے بجائے ان شعبوں میں میرٹ کو ترجیح دے۔ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی شہ رگ ہے، اور اس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز ایسے ماہرین پر مشتمل ہونا چاہیے جو اس شعبے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھتے ہوں۔

​اگر پارکو بورڈ کی تشکیلِ نو کا مقصد صرف چند افراد کو نوازنا اور انہیں ڈالروں میں بھاری فیسیں دینا ہے، تو یہ معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ان بورڈز کو 'دوست نوازی' کا مرکز بنانے کے بجائے، انہیں پروفیشنلزم کی بنیاد پر چلایا جائے۔ بصورت دیگر، ہم توانائی کے بحرانوں سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔

نوٹ: اس کالم کا مقصد قومی اہمیت کے حامل اداروں میں گورننس اور شفافیت کے حوالے سے عوامی خدشات کی ترجمانی کرنا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔