---روما محمود---
سوئٹزرلینڈ، جو طویل عرصے سے عالمی سفارت کاری کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ برگن شٹوک (Bürgenstock) کے پہاڑی تفریحی ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی استحکام کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ "کانفرنس" یا سمٹ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہو رہا ہے، جس میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔
چند ماہ قبل شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس پر پاکستان کی ثالثی میں دستخط ہوئے۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے اس پر سکون پہاڑی مقام کو منتخب کیا گیا، جہاں 2024 میں یوکرین امن سمٹ بھی ہو چکا تھا۔ سوئس حکومت نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے، نو فلائی زون نافذ کیا، اور رازداری کو یقینی بنایا تاکہ حساس بات چیت بغیر دباؤ کے جاری رہے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیون وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ایرانی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد غالیباف سمیت اعلیٰ نمائندے موجود ہیں۔ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر فریقین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں مصروف رہے۔
مذاکرات میں کلیدی مسائل پر بات چیت ہوئی:
جنگ بندی کا نفاذ: حالیہ معاہدے پر عملدرآمد، خاص طور پر لبنان اور علاقائی تنازعات میں استحکام۔
جوہری پروگرام اور پابندیاں: ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ضمانتیں اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی۔
علاقائی سلامتی: ہرمز آبنائے کی بندش جیسی پیچیدگیاں اور اسرائیل-حزب اللہ تناؤ۔
پاکستانی وفد نے اہم ملاقاتوں میں حصہ لیا، جہاں امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان الگ الگ بات چیت بھی ہوئی۔ طویل اجلاس کے بعد فریقین نے 60 دنوں میں حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا۔ جے ڈی وینس نے پاکستان کی ثالثی کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ عمل کامیاب ہو گا۔
سوئٹزرلینڈ نے غیر جانبدار میزبان کے طور پر شاندار کردار ادا کیا۔ اس کی سفارتی روایت، محفوظ ماحول اور خوبصورت مقام نے فریقین کو اعتماد بخشا۔ تاہم، نو فلائی زون کی وجہ سے زوریخ ایئرپورٹ پر پروازوں میں خلل پڑا، جو اس سمٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ سمٹ محض بات چیت نہیں بلکہ خطے میں طویل مدتی امن کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کا کردار قابلِ فخر ہے، جو ثالثی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت ثابت کر رہا ہے۔ البتہ، چیلنجز اب بھی موجود ہیں—فریقین کے درمیان عدم اعتماد، علاقائی کھلاڑیوں کے مفادات، اور عملدرآمد کی نگرانی۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتیں اور سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ سوئٹزرلینڈ ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ سفارت کاری کا میدان جنگ کے میدان سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ امید ہے کہ یہ تاریخی کوشش پھل دے گی اور دنیا کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جائے گی۔

Comments