پھل دار درخت اور سفارت کاری کی ایک نئی فصل

 


---روما محمود---




میں( روما محمود) نے ایک سادہ سی تجویز پیش کی ہے جو دیکھنے میں معمولی لگتی ہے مگر اس کے اندر ایک انقلابِ سوچ چھپا ہوا ہے۔ جب کوئی غیر ملکی سربراہ پاکستان آتا ہے تو روایت کے مطابق ایک چیڑ (دیودار) کا درخت لگایا جاتا ہے۔ یہ درخت خوبصورت ہے، لمبا، سیدھا اور تاریخی طور پر متاثر کن۔ مگر کیا یہ صرف ایک تقریب کا حصہ ہے یا ہماری قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے؟

چیڑ کا درخت صدیوں تک کھڑا رہ سکتا ہے، مگر اس سے کسی کو ایک دانہ بھی نہیں ملتا۔ نہ پرندوں کو، نہ مسافر کو، نہ بچوں کو۔ یہ صرف ایک یادگار بن کر رہ جاتا ہے — ایک فوٹو آپ، ایک پلیت، اور پھر خاموشی۔ 

 اس کی جگہ اگر پھل دار درخت لگائے جائیں تو کیا ہو؟ ایک ایسا درخت جس سے نہ صرف ہوا صاف ہو، بلکہ لوگ بھی کھائیں، پرندے بھی، کیڑے مکوڑے بھی۔ ایک درخت جو زندگی دیتا رہے، نہ کہ صرف کھڑا رہے۔

یہ تجویز صرف ماحولیاتی نہیں، یہ اخلاقی، مذہبی اور سفارتی بھی ہے۔


اسلامی تعلیمات میں درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ ایک پھل دار درخت تو گویا مسلسل صدقہ ہے۔ جب تک وہ پھل دیتا رہے گا، لگانے والے کے نامہ اعمال میں برکت بڑھتی رہے گی۔ چیڑ کا درخت شاید صرف تقریب کا حصہ ہو، مگر آم، امرود، انار، زیتون یا شہتوت کا درخت زندگی کی زنجیر بن جاتا ہے۔ ایک درخت جو برسوں تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتا رہے۔ کیا ہماری قومی مہمان نوازی صرف تقریب تک محدود رہنی چاہیے یا وہ زندگی کی سطح پر اترنی چاہیے؟

سفارت کاری کا ذائقہ•

میری دوسری تجویز اور بھی دلچسپ ہے۔

 جب اس درخت پر پھل آئیں تو ایک ٹوکرا بھر کر مہمان سربراہ کو بھیج دیا جائے۔ تصور کریں، ایک غیر ملکی صدر یا وزیر اعظم اپنے دفتر میں بیٹھا ہو اور اس کے سامنے پاکستان کا پکا ہوا آم، تازہ انار ، جامن یا الیچی ہو۔ یہ صرف پھل نہیں، ایک پیغام ہے۔

"ہم نے آپ کے لیے صرف ایک درخت نہیں لگایا، ہم نے آپ کے لیے زندگی لگائی ہے۔ یہ پھل اسی درخت سے آیا ہے جو آپ کی موجودگی میں لگا تھا۔" اور اسے آپ نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا 


یہ سفارت کاری کی وہ شکل ہے جو دل کو چھو جاتی ہے۔ سخت معاہدوں اور دستاویزات کے بیچ ایک نرم، میٹھا اور یادگار لمحہ۔ یہ "سافٹ پاور" ہے جو پھلوں کی شکل میں آتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک مہمانوں کو اپنی مقامی پیداوار دیتے ہیں — شراب، پنیر، چاکلیٹ۔ ہم کیوں پھلوں کی اس دولت سے محروم رہیں جو اللہ نے ہمیں دی ہے؟

ایک وسیع باغ کا تصور•

اگر یہ روایت کو ایک قدم آگے لے جائیں تو کیا ہو؟ اسلام آباد یا کسی مناسب جگہ پر ایک "دوستی  باغ" یا "گلشن وفا باغ" قائم کیا جائے۔ ہر مہمان سربراہ کے نام ایک پھل دار درخت لگایا جائے۔ 

ہر درخت پر ایک چھوٹی سی پلیت ہو جس پر مہمان کا نام، تاریخ اور پیغام درج ہو۔ یہ باغ نہ صرف ماحولیاتی اثاثہ بنے گا بلکہ سفارتی تاریخ کا زندہ عجائب گھر بھی۔

تصور کریں، دس سال بعد یہ باغ پھلوں سے لدا ہوا ہو۔ سیاح آئیں، بچے پھل توڑیں، پرندے گائیں اور ہر درخت ایک کہانی سنائے۔ یہ چیڑ کے جنگل سے کہیں زیادہ زندہ، زیادہ معنی خیز اور زیادہ پاکستان ہو گا۔

ذہن جھنجھوڑنے والا سوال•

ہم کس قسم کی یادگاریں چھوڑنا چاہتے ہیں؟ وہ جو خشک، خاموش اور بے فائدہ ہوں یا وہ جو زندگی بخشتی رہیں؟ ہماری قومی سوچ اب بھی "شاندار تقاریب" کی طرف مائل ہے یا "مستقل فائدہ" کی طرف؟ چیڑ کا درخت لگانا آسان ہے۔ تقریب ہوتی ہے، فوٹو سیشن ہوتا ہے، خبر بن جاتی ہے۔ مگر پھل دار درخت لگانا صبر، دور اندیشی اور محبت کا کام ہے۔ اس میں دیکھ بھال درکار ہوتی ہے، وقت درکار ہوتا ہے، اور پھر فصل کا انتظار۔

بالکل ویسے ہی جیسے ایک ملک کو بنانا ہوتا ہے۔

میری یہ آواز ایک چھوٹی سی چنگاری ہے۔ اگر حکومت — خصوصاً وزارت خارجہ اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز — اسے سنجیدگی سے لے تو یہ ایک نئی قومی روایت بن سکتی ہے۔ ماحول دوست، مذہبی طور پر بابرکت، سفارتی طور پر ذہین اور عوام کے لیے مفید۔

 ایک نئی اور بہترین روایت ڈالیں •

ہم درخت لگانے سے آگے بڑھیں۔ ہم پھل اگانا شروع کریں۔

اور جب وہ پھل پکے تو دنیا کو بتا دیں کہ پاکستان نہ صرف مہمان نواز ہے، بلکہ وہ مٹھاس بھی بخشتا ہے جو یاد رہ جاتی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔