پاکستان میں ایپکس کمیٹی قومی سلامتی، پالیسی سازی اور پیچیدہ چیلنجز
---روما محمود---
یہ رہا پاکستان میں 'ایپکس کمیٹی' (Apex Committee) کے کردار، اس کی تشکیل اور قومی سلامتی کے تناظر میں اس کی اہمیت پر ایک تفصیلی اور تجزیاتی تحریر۔
پاکستان کی تاریخ میں قومی سلامتی کے معاملات ہمیشہ سے ایک مرکزی حیثیت کے حامل رہے ہیں۔ مملکت کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات، دہشت گردی، انتہا پسندی اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے فورم کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے جہاں عسکری اور سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کر سکے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر 'ایپکس کمیٹی' کا تصور وجود میں آیا۔ ایپکس کمیٹی، جو بظاہر ایک انتظامی کمیٹی معلوم ہوتی ہے، درحقیقت پاکستان کی داخلی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کا مرکزِ ثقل ہے۔
ایپکس کمیٹی کا پس منظر اور ارتقاء
ایپکس کمیٹی کا باقاعدہ تصور اور اس کی فعالیت میں تیزی سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) 2014 کے بعد آئی۔ اس دلخراش واقعے نے ریاست کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سکیورٹی ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ایک صفحے پر نہیں ہوں گی، تب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناممکن ہے۔ چنانچہ، 'نیشنل ایکشن پلان' (NAP) کے نفاذ کے لیے صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
یہ کمیٹیاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سکیورٹی امور میں پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایک ایسا مربوط نظام بنانا ہے جہاں انٹیلیجنس شیئرنگ (خفیہ معلومات کا تبادلہ) بروقت ہو اور انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ایپکس کمیٹی کی ساخت اور ترکیب
ایپکس کمیٹی کی ترکیب ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک عام صوبائی یا وفاقی ایپکس کمیٹی میں مندرجہ ذیل اہم شخصیات شامل ہوتی ہیں:
- وزیراعلیٰ یا وزیراعظم: (اس اجلاس کی صدارت کرتے ہیں)۔
- کور کمانڈر: (متعلقہ علاقے کے سکیورٹی معاملات کی نگرانی کے لیے)۔
- چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس: (انتظامی اور پولیس امور کے سربراہان)۔
- انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان: (انٹر سروسز انٹیلیجنس اور دیگر اداروں کے نمائندے)۔
- دیگر متعلقہ وزراء: (جیسے وزیر داخلہ، وزیر قانون وغیرہ)۔
یہ شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ کمیٹی صرف ایک مشاورتی فورم نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا 'فیصلہ ساز ادارہ' ہے جہاں پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوری احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔
ایپکس کمیٹی کے کلیدی فرائض
ایپکس کمیٹی کے کام کرنے کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔ ذیل میں اس کے بنیادی فرائض کا جائزہ لیا گیا ہے:
1. نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد
ایپکس کمیٹی کا سب سے بڑا کام نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی، نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کی روک تھام، مدرسہ اصلاحات، اور دہشت گردی کی فنڈنگ (Terror Financing) کو روکنا شامل ہے۔ ایپکس کمیٹی ہر صوبے کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا وہاں NAP پر کس حد تک عمل ہوا ہے۔
2. وفاقی اور صوبائی ہم آہنگی (Coordination)
پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو کافی خودمختاری حاصل ہے۔ بعض اوقات وفاقی سکیورٹی پالیسی اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایپکس کمیٹی اس خلیج کو پاٹنے کا کام کرتی ہے۔ یہ یقینی بناتی ہے کہ اگر وفاق نے کوئی سکیورٹی پالیسی تشکیل دی ہے، تو صوبائی پولیس اور انتظامیہ اسے نافذ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
3. انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی نگرانی
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 'انٹیلیجنس' ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایپکس کمیٹی میں انٹیلیجنس ایجنسیاں اپنی معلومات شیئر کرتی ہیں۔ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قبل از وقت کارروائی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ کمیٹی ان آپریشنز کے نتائج کا بھی جائزہ لیتی ہے اور درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے فوری ہدایات دیتی ہے۔
4. قانون و امن کی بحالی
صرف دہشت گردی ہی نہیں، بلکہ ایپکس کمیٹی عام لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر بھی غور کرتی ہے۔ مثلاً فرقہ وارانہ کشیدگی، نسلی فسادات، یا سیاسی ہنگاموں کے دوران جب صورتحال قابو سے باہر ہونے لگتی ہے، تو ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
سکیورٹی اور سیاست کا حسین امتزاج
پاکستان میں ایپکس کمیٹی کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہے کیونکہ یہ سول اور عسکری قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے۔ ناقدین اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ کمیٹیاں سول حکمرانی پر اثر انداز ہوتی ہیں؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں سکیورٹی صرف پولیس یا فوج کا کام نہیں رہی، بلکہ اس میں بیوروکریسی، قانون سازی اور معاشرتی اصلاحات کا عمل بھی شامل ہے۔ جب ایک منتخب وزیراعلیٰ، عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھ کر سکیورٹی پلان بناتا ہے، تو اس کے نفاذ کی ذمہ داری بھی مشترکہ ہو جاتی ہے۔ یہ 'مشترکہ ذمہ داری' ہی ایپکس کمیٹی کی کامیابی کا راز ہے۔
ایپکس کمیٹی کو درپیش چیلنجز
اس تمام تر اہمیت کے باوجود، ایپکس کمیٹی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
- تسلسل کا فقدان: سیاسی عدم استحکام کے باعث حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جس سے اکثر پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹ آتی ہے۔
- عملدرآمد کی سست روی: فیصلے تو بڑے اعلیٰ سطح پر ہوتے ہیں، مگر نچلی سطح پر، خاص طور پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ میں ان فیصلوں پر عمل درآمد اکثر سست روی کا شکار رہتا ہے۔
- شفافیت اور عوامی احتساب: یہ کمیٹیاں چونکہ انتہائی حساس نوعیت کے معاملات دیکھتی ہیں، اس لیے ان کی کارروائی عوامی بحث سے دور رہتی ہے۔ اس سے اکثر عوامی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں۔
- وسائل کی کمی: سکیورٹی کے جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے جس جدید ٹیکنالوجی، فورینزک لیبارٹریز اور تربیت کی ضرورت ہے، صوبائی سطح پر وسائل کی کمی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہتی ہے۔
مستقبل کی سمت اور سفارشات
اگر ہم پاکستان میں امن و استحکام کو پائیدار بنانا چاہتے ہیں، تو ایپکس کمیٹی کو مزید فعال اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
- ڈیجیٹل انٹیلیجنس: ایپکس کمیٹی کو سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل نگرانی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ آج کل دہشت گردی کے نیٹ ورکس سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کے ذریعے پھیل رہے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے جدید تکنیکی مہارت درکار ہے۔
- ضابطہ اخلاق کی پابندی: سیاسی جماعتوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کمیٹی کا ایجنڈا خالصتاً قومی سلامتی ہونا چاہیے۔
- پبلک آؤٹ ریچ: اگرچہ سکیورٹی معاملات حساس ہوتے ہیں، تاہم ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کے عمومی اثرات کے بارے میں عوام کو آگاہی ہونی چاہیے تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد سازی ہو سکے۔
- نچلی سطح تک پہنچ: ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کو صرف صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضلعی سطح پر بھی ایسی کمیٹیوں کو متحرک کیا جانا چاہیے جو نچلی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔
نتیجہ
پاکستان میں ایپکس کمیٹی صرف ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں، بلکہ یہ ریاست کی 'مزاحمتی صلاحیت' کا ایک مظہر ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہوں، وہاں ایپکس کمیٹی کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ یہ کمیٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاستی ادارے اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر، ملکی سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں، تو بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، ایپکس کمیٹی کی کامیابی کا انحصار اس کے فیصلوں کے 'زمینی اثرات' پر ہے۔ جب تک ان فیصلوں کا نچلی سطح پر اثر نظر نہیں آئے گا اور جب تک سکیورٹی کی پالیسیاں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نافذ نہیں ہوں گی، تب تک ہم مکمل سکون کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے اداروں کو کتنا مربوط، شفاف اور فعال بنا سکتے ہیں۔ ایپکس کمیٹی اس سفر میں ایک کلیدی سنگِ میل ہے، جسے وقت کے ساتھ ساتھ مزید بہتر اور جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments