سعودی عرب کا بہت بڑا میگا پوجیکٹ نیوم ۔
نیوم (NEOM) سعودی عرب کا ایک بہت بڑا میگا پروجیکٹ (گیگا پروجیکٹ) ہے جو شمال مغربی سعودی عرب میں تبوک صوبے میں واقع ہے۔ یہ سعودی ویژن 2030 کا اہم حصہ ہے، جسے 2017 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شروع کیا تھا۔
بنیادی تفصیلات
مقام اور رقبہ: بحر احمر کے ساحل پر، خلیج عقبہ کے قریب۔ کل رقبہ تقریباً 26,500 مربع کلومیٹر (بیلجیم کے برابر یا سنگاپور سے 30 گنا بڑا) ہے۔ اس میں 468 کلومیٹر ساحل اور پہاڑی علاقے شامل ہیں۔
Vision2030
مقصد: تیل پر انحصار کم کرنا، معیشت کو متنوع بنانا، پائیدار زندگی، ٹیکنالوجی، سیاحت، صنعت اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا۔ یہ 100% قابل تجدید توانائی پر چلنے والا جدید علاقہ بنانے کا منصوبہ ہے۔
معنی: “نیو” (نیا) اور “ایم” (مستقبل کا عربی حرف) سے مل کر “نیا مستقبل”۔
اہم حصے (ریجنز)
نیوم کئی بڑے ذیلی منصوبوں پر مشتمل ہے:
دی لائن (The Line): سب سے مشہور حصہ — ایک سیدھی لکیر والی مستقبل کی شہر جو اصل منصوبے میں 170 کلومیٹر لمبی، 500 میٹر اونچی اور 200 میٹر چوڑی شیشے کی عمارتوں پر مشتمل تھی۔ اس میں کاروں کے بغیر، صفر کاربن اخراج اور 9 ملین لوگوں کے رہنے کا تصور تھا۔ اب اسے بہت زیادہ چھوٹا کر دیا گیا ہے (پہلے مرحلے میں تقریباً 2.4 سے 5 کلومیٹر)۔
اوکساگون (Oxagon): صنعتی اور بندرگاہ والا علاقہ، فلوٹنگ سٹرکچرز اور گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ کے ساتھ۔
ٹروجینا (Trojena): پہاڑی ریزورٹ، جو اسکیئنگ اور ونٹر سپورٹس کے لیے تھا۔
سندالہ (Sindalah): لگژری جزیرہ اور میرینا۔
دیگر: میگنا (ساحلی سیاحتی علاقہ) وغیرہ۔
موجودہ صورتحال (2026 تک)
اصل میں لاگت کا اندازہ 500 بلین ڈالر تھا، جو بعد میں کھربوں ڈالر تک پہنچنے کی باتیں ہوئیں۔ تاخیر، بجٹ میں اضافے اور تیل کی قیمتوں کے مسائل کی وجہ سے منصوبے کو بہت زیادہ اسکیل بیک (چھوٹا) کیا جا رہا ہے۔ دی لائن کو ریڈیزائن کیا جا رہا ہے، کچھ حصوں کو روکا یا منتقل کیا جا رہا ہے، اور فوکس اب ڈیٹا سینٹرز، AI اور عملی منصوبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ نسبتاً اچھی پیشرفت کر رہا ہے ۔
نیوم سعودی عرب کی اقتصادی تبدیلی کی علامت ہے، لیکن حقیقت میں اسے اصل خواب سے زیادہ حقیقت پسندانہ اور چھوٹے پیمانے پر ڈھالا جا رہا ہے۔ سرکاری ویب سائٹ: neom.com۔

Comments