Kashmir Impossible کشمیر جنت ارضی کی داستان، حسن، المیہ اور امید




---روما محمود---




 🔴Kashmir is uncompleted agenda . We cannot do any thing for Kashmir. 

🔴Kashmir is perplexed issue of this era.  Water of our rivers taken by India and we cannot do any thing .

🔴We become just puppet on the hands of named called leaders.




​مقدمہ: دنیا کی خوبصورت ترین وادی

​کشمیر، جسے شاعرِ مشرق علامہ اقبال سے لے کر مغل شہنشاہوں تک نے "زمین پر جنت" قرار دیا، صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک سحر انگیز احساس، لازوال حسن، اور تاریخ کے اتار چڑھاؤ سے عبارت ایک ایسی داستان ہے جو اپنے اندر صدیوں کے راز سموئے ہوئے ہے۔ ہمالیہ اور پیر پنجال کے فلک بوس، برف پوش پہاڑوں کے درمیان واقع یہ خطہ اپنی قدرتی خوبصورتی، میٹھے پانی کے چشموں، بہتی ندیوں، اور صوفیانہ ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، جہاں قدرت نے اسے بے پناہ حسن سے نوازا، وہی تاریخ اور سیاست نے اسے دنیا کے طویل ترین اور پیچیدہ ترین تنازعات میں سے ایک کا مرکز بنا دیا۔


​جغرافیائی اہمیت اور قدرت کا شاہکار

​کشمیر کا جغرافیہ اس کی سب سے بڑی دولت اور اس کے ساتھ ہی اس کی تزویراتی (Strategic) اہمیت کی وجہ بھی ہے۔ یہ خطہ جنوب ایشیا کے مرکز میں واقع ہے، جس کی سرحدیں پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان سے ملتی ہیں۔

​قدرتی لحاظ سے کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔


  1. وادیٔ کشمیر: یہ وہ حصہ ہے جسے اصل "جنت" کہا جاتا ہے۔ سرینگر، ڈل جھیل، گلمرگ اور پہلگام جیسے سحر انگیز مقامات اسی وادی کا حصہ ہیں۔ چنار کے درخت، زعفران کے کھیت، اور سیب کے باغات اس وادی کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔
  2. جموں: یہ زیادہ تر پہاڑی اور میدانی علاقہ ہے جہاں کی ثقافت اور آب و ہوا وادی سے مختلف ہے۔
  3. لداخ: اسے "چھوٹا تبت" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سرد ریگستان ہے جو اپنی منفرد بدھ مت ثقافت اور سنگلاخ پہاڑوں کے لیے مشہور ہے۔
  4. آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: یہ پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے ہیں، جو اپنی بلند ترین چوٹیوں (جیسے K2) اور خوبصورت وادیوں (جیسے نیلم اور ہنزہ) کے لیے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

​کشمیر کی تاریخ اور صوفیانہ ثقافت

​کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ خطہ ہندو مت، بدھ مت اور بعد میں اسلام کا ایک بڑا مرکز رہا۔ چودہویں صدی عیسوی میں صوفیائے کرام، خصوصاً حضرت شاہِ ہمدان میر سید علی ہمدانیؒ، کی آمد کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر اسلام پھیلا۔ انہوں نے نہ صرف اسلام کی شمع روشن کی بلکہ کشمیر کو "کشمیرِ صغیر" بنا دیا، جہاں انہوں نے مقامی لوگوں کو قالین بافی، شال سازی، اور لکڑی پر نقش و نگار جیسے فنون سکھائے۔ یہی فنون آج بھی کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

​کشمیر کی ثقافت کو "کشمیرِیت" کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح مختلف مذاہب (مسلمانوں، ہندو پنڈتوں اور سکھوں) کے درمیان صدیوں پر محیط رواداری، بھائی چارے، اور مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ کشمیری زبان، وہاں کا روایتی لباس "پھرن"، سردیوں میں گرمی کے لیے استعمال ہونے والی "کانگڑی" (کوئلوں والی انگیٹھی) اور وہاں کا مشہور کھانا "وازوان" اس ثقافت کے نمایاں عناصر ہیں۔

​المیے کا آغاز: تقسیمِ ہند اور تنازعِ کشمیر

​کشمیر کا موجودہ المیہ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت شروع ہوا۔ اس وقت کشمیر پر ڈوگرا خاندان کے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ قانونِ تقسیم کے مطابق، مسلم اکثریتی ریاستوں کو پاکستان میں شامل ہونا تھا، اور کشمیر کی 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان تھی۔ تاہم، مہاراجہ نے فیصلے میں تاخیر کی، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کر دی۔

​صورتحال بگڑنے پر مہاراجہ نے بھارت سے فوجی امداد مانگی۔ بھارت نے امداد کے بدلے کشمیر کے بھارت کے ساتھ عبوری الحاق کی شرط رکھی، جسے مہاراجہ نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہو گئیں، اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔

​اقوامِ متحدہ کی قراردادیں

​1948ء میں بھارت خود اس معاملے کو اقوامِ متحدہ (UN) میں لے کر گیا۔ اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کرائی اور متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ایک آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے (Plechtenstein/Referendum) کے ذریعے کیا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا، لیکن بدقسمتی سے آج تک ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

​مقبوضہ کشمیر: انسانی حقوق کی پامالی اور طویل ترین لاک ڈاؤن

​کشمیر کا ایک بڑا حصہ (وادی کشمیر، جموں اور لداخ) اس وقت بھارت کے زیرِ انتظام ہے، جسے عام طور پر مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی زون بنا ہوا ہے، جہاں لاکھوں کی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

​1989ء میں جب کشمیریوں نے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کو ناکام ہوتے دیکھا، تو وہاں ایک مسلح اور عوامی تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کو دبانے کے لیے جو طریقے اپنائے گئے، انہوں نے کشمیر کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔

  • انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی عالمی تنظیموں کے مطابق، کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اور پیلٹ گن (Pellet Guns) کا بے دریغ استعمال عام ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔
  • آرٹیکل 370 کا خاتمہ (5 اگست 2019ء): یہ کشمیر کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا۔ بھارتی حکومت نے کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت (Article 370 اور 35A) کو ختم کر دیا، جس کے تحت غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے یا نوکری حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے مسلم اکثریتی تناسب (Demography) کو تبدیل کرنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہینوں تک کشمیر میں دنیا کا طویل ترین انٹرنیٹ اور مواصلاتی لاک ڈاؤن نافذ رہا۔

​آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: ترقی اور چیلنجز

​دوسری طرف، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت بلتستان میں صورتحال مختلف ہے۔ اگرچہ یہاں مقبوضہ کشمیر جیسی فوجی سنگینی نہیں ہے اور عوام کو بنیادی آزادیاں حاصل ہیں، لیکن یہ خطہ بھی اپنی سیاسی شناخت اور مکمل آئینی حقوق کے لیے کوشاں ہے۔

​آزاد کشمیر میں اپنی حکومت، صدر، اور وزیرِ اعظم موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کو حالیہ برسوں میں نیم صوبائی درجہ دیا گیا ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے اور ہائیڈرو پاور پروژیکٹس پر بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے، جس سے سیاحت اور معیشت کو فروغ ملا ہے۔ تاہم، کشمیری قیادت کا مؤقف ہے کہ جب تک پورے کشمیر کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، ان علاقوں کی حتمی آئینی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔

​کشمیر: دو جوہری طاقتوں کے درمیان فلیش پوائنٹ

​کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ جنوب ایشیا اور دنیا کے امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری (Nuclear) طاقتیں ہیں، اور ان کے درمیان اب تک تین بڑی جنگیں (1947، 1965، اور 1999 کی کارگل جنگ) کشمیر کے مسئلے پر ہی ہو چکی ہیں۔

​جب بھی کشمیر میں کشیدگی بڑھتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے لگتے ہیں۔ 2019ء کا بالاکوٹ واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے، جہاں دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ عالمی برادری، بشمول امریکہ، چین اور یورپی یونین، بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک "ٹائم بم" ہے، جسے بات چیت کے ذریعے حل کرنا ناگزیر ہے۔

​کشمیر کی معیشت اور سیاحت کو پہنچنے والا نقصان

​کشمیر کی معیشت کا دارومدار بنیادی طور پر تین چیزوں پر ہے: سیاحت، باغبانی (سیب اور زعفران)، اور دستکاری۔

مسلسل ہڑتالوں، کرفیو، اور سیاسی غیر یقینی کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گلمرگ کے اسکیئنگ ریزورٹس اور ڈل جھیل کے ہاؤس بوٹس، جو کبھی دنیا بھر کے سیاحوں سے بھرے رہتے تھے، اکثر ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش نے کشمیری نوجوانوں کی آئی ٹی اور فری لانسنگ کی صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔