ہندوستان کی افریقی ممالک میں پاکستان کے مقابلے میں غلبہ اور اثر و رسوخ زیادہ کیوں نظر آتا ہے؟
---روما محمود--- ہندوستان کی افریقہ میں پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑی اقتصادی، سفارتی اور نرم طاقت کی موجودگی ہے۔ یہ مطلق "غلبہ" نہیں ہے (چین اب بھی سب سے بڑا بیرونی اقتصادی شراکت دار ہے)، لیکن ہندوستان کی موجودگی پاکستان سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ تجارت: ہندوستان-افریقہ کی دو طرفہ تجارت 2024-25 میں 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی (2019-20 میں تقریباً 56 ارب ڈالر سے بڑھ کر)۔ پاکستان کی افریقہ کے ساتھ کل تجارت سالانہ تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر ہے (2024 میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر)۔ 2020-2024 کے دوران پاکستان کی مجموعی تجارتی حجم ہندوستان سے تقریباً 15 گنا کم تھی۔ سرمایہ کاری: ہندوستان کی افریقہ میں مجموعی سرمایہ کاری 75 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی سرمایہ کاری کی موجودگی بہت محدود اور کم ادارہ جاتی ہے۔ ترقیاتی مالیات: ہندوستان نے درجنوں افریقی ممالک میں منصوبوں کے لیے 12 ارب ڈالر سے زیادہ رعایتی لائنز آف کریڈٹ کے ساتھ لاکھوں ڈالر گرانٹ بھی دی ہیں۔ پاکستان کے پاس اس سطح کی ترقیاتی شراکت داری نہیں ہے۔ سفارتی موجودگی: ہندوستان کے 46 افریقی ممالک میں مشن ہیں (حال ہی میں 17 نئے ک...