میرا کوئی ہوتا تو آتا نا...!

 



---روما محمود---




: فریبِ تعلق، ہجوم کی تنہائی اور خود شناسی کا لافانی سفر)

"میرا کوئی ہوتا تو آتا نا..."


یہ محض چھ الفاظ کا ایک سادہ سا جملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسائیکلوپیڈیا ہے ان تمام خاموش آنسوؤں کا جو بند کمروں کی تاریکیوں میں گالوں پر ڈھلتے ہیں۔ یہ نوحہ ہے ان تمام ٹوٹے ہوئے خوابوں کا جو انسان روزِ روشن میں دیکھتا ہے لیکن رات کے بھیگے سناٹے میں ان کی کرچیاں اس کے وجود کو زخمی کر دیتی ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے ٹوٹتے ہوئے وجود کے ملبے پر بیٹھ کر بے بسی سے مسکراتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ "میرا کوئی ہوتا تو آتا نا"، تو درحقیقت وہ دنیا سے کوئی شکایت نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ اس کائنات اور اس کے بے حس رویوں کے سامنے ایک ایسا تلخ سچ تسلیم کر رہا ہوتا ہے جس کو ماننے سے اس کا اپنا دل سالہا سال انکار کرتا رہا ہوتا ہے۔

یہ جملہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہو چکی ہیں، امید کا چراغ بجھ چکا ہے، اور اب دل کے پاس اپنے دفاع کے لیے کوئی زبردستی کا وکیل یا مصنوعی دلیل باقی نہیں رہی۔ یہ اس موڑ کا نام ہے جہاں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ جس شخص یا جن لوگوں کے لیے اس نے اپنی پوری زندگی، اپنی تمام تر توانائیاں اور اپنے سب جذبے داؤ پر لگا دیے تھے، وہ دراصل اس کی زندگی کے ڈرامے میں صرف تماشائی تھے، ہمدرد اداکار نہیں۔

عہدِ حاضر کا المیہ ہجوم میں بکھرتی تنہائی

ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں فاصلے سمٹ گئے ہیں لیکن دل دور ہو چکے ہیں۔ آج کا انسان تاریخ کا سب سے زیادہ "رابطے میں رہنے والا" (Connected) لیکن سب سے زیادہ "اکیلا" (Isolated) انسان ہے۔ ہمارے سمارٹ فونز میں ہزاروں رابطے، سوشل میڈیا پروفائلز پر لاکھوں فالوورز، اور روزمرہ کی زندگی میں سینکڑوں لوگوں سے سلام دعا موجود ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان کی روح زخمی ہوتی ہے، جب اس کی راتیں کروٹیں بدلتے بدلتے گزر جاتی ہیں، اور جب اسے کسی ایسے کندھے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر سر رکھ کر وہ اپنے ضبط کے تمام بندھن توڑ سکے—تو پھر اس کے فون کی ڈائریکٹری کا کون سا نمبر اس کے کام آتا ہے؟

اسی لیے "رابطے" اور "تعلق" کے درمیان کا فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ رابطہ ایک سائنسی، تکنیکی اور سطحی عمل ہے، جبکہ تعلق ایک روحی، جذباتی اور باطنی رشتہ ہے۔ ہم نے رابطوں کو ہی تعلق سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کا میسج آ جانا، کسی کی پوسٹ پر لائک کر دینا یا سالگرہ کے دن مبارکباد کا رسمی پیغام بھیج دینا تعلق کی علامت ہے۔ لیکن جب انسان پر کوئی کڑا وقت آتا ہے، جب اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں، تو یہ تمام تر ڈجیٹل رابطے ہوا کے ایک دوش پر اڑ جاتے ہیں۔ اس وقت انسان کو یہ احساسِ زیاں دبوچ لیتا ہے کہ وہ ہزاروں کے ہجوم میں کھڑا ایک تنہا مسافر ہے جس کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں ہ

مان کا ٹوٹنا اور توقعات کی چتا

فطرتِ انسانی کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ وہ محبت کا جواب محبت سے، اور وفا کا جواب وفا سے چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ کسی پر اپنا "مان" قائم کرے، تو کوئی اس مان کی لاج رکھے۔ لیکن دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر غلط جگہوں پر درست جذبے تلاش کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے ہمدردی اور وفا کی توقع رکھتے ہیں جو ہمارے درد سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔

"میرا کوئی ہوتا تو آتا نا" دراصل اسی مان کے شیشہ گراں خانے کی بربادی کا نام ہے۔ انسان جب کسی پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے، جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے لیکن فلاں شخص مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا، تو وہی شخص جب وقت کے امتحان میں سب سے پہلے پیٹھ دکھاتا ہے، تو انسان کا صرف دل نہیں ٹوٹتا، بلکہ انسانیت اور مخلص رشوتوں پر سے اس کا ایمان اٹھ جاتا ہے۔ انسان کے اندر کا وہ بچپنا اور وہ معصومیت مر جاتی ہے جو دنیا کو حسین اور قابلِ اعتبار سمجھتی تھی۔ وہ خالی آنکھوں سے در و دیوار کو تکتا ہے اور خود سے کہتا ہے کہ اگر واقعی کوئی میرا اپنا ہوتا، تو کیا وہ میری اس حالت پر مجھے یوں بے یار و مددگار چھوڑ دیتا؟ اگر اس کو میری ذرا سی بھی فکر ہوتی، تو کیا وہ ایک بار بھی میرا حال پوچھنے نہ آتا؟

بے حسی کا سماج: تعلقات کا تجارتی روپ

اگر ہم اپنے معاشرتی ڈھانچے کا گہرا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم ایک ایسے بازار میں رہتے ہیں جہاں تعلقات کی بنیاد خلوص کی بجائے نفع و نقصان کے توازن پر رکھی جاتی ہے۔ جب تک انسان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے—چاہے وہ دولت ہو، عہدہ ہو، شہرت ہو، یا پھر اس کا خوش گوار موڈ اور شباب ہو—تب تک ہر کوئی اس کا اپنا بننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ محفلیں اس کے گرد جمتی ہیں، فون کی گھنٹیاں بجتی ہیں اور ہمدردوں کا میلہ لگا رہتا ہے۔

لیکن جیسے ہی حالات کا رخ بدلتا ہے، جیسے ہی انسان پر مفلسی، بیماری، ناکامی یا شدید نفسیاتی تناؤ کا سایہ پڑتا ہے، تو یکایک وہ میلہ چھٹ جاتا ہے۔ لوگ چپکے سے سرکنے لگتے ہیں۔ بہانے تراشے جاتے ہیں، مصروفیات کا عذر پیش کیا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے انسان کے گرد ایک بھیانک سناٹا چھا جاتا ہے۔ اس مادی دور کا سب سے بڑا ننگ یہ ہے کہ انسان کو اس کی ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تب یہ سچائی کھلے عام سامنے آتی ہے کہ جن کو ہم اپنے سچے رشتے سمجھتے تھے، وہ محض ہمارے وقتِ خوش کے حلیف تھے، ہمارے غم کے شریک نہیں تھے۔



شاعر ہو یا عام انسان، جب وہ "میرا کوئی ہوتا تو آتا نا" کہتا ہے، تو وہ اسی ادبی اور جمالیاتی روایت کا تسلسل بن جاتا ہے۔ یہ جملہ دراصل اس خالی چوکھٹ کی تصویر ہے جہاں چراغ تو جل رہا ہے لیکن ہوا تیز ہے، اس ویران سڑک کا منظر ہے جہاں دور دور تک کسی کے قدموں کی چاپ نہیں، اور اس بند دروازے کی داستان ہے جس پر دستک کا انتظار کرتے کرتے عمر بیت گئی ہے۔

ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی تنہائی ہی دراصل اس کی سب سے سچی تخلیقی قوت ہے۔ جب باہر کے تمام در بند ہو جاتے ہیں، تو اندر کا در کھلتا ہے۔ ۔

درد سے درماں تک: تنہائی سے خود شناسی کا سفر

لیجیے! کہانی کا یہیں اختتام نہیں ہوتا۔ اگر اس جملے کو صرف ایک غم یا نوحہ سمجھ کر چھوڑ دیا جائے تو یہ انسان کی عظیم باطنی صلاحیت کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ "میرا کوئی ہوتا تو آتا نا" صرف ایک المیہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہت بڑی بیداری کا نقطہ آغاز بھی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کا ایک نیا اور درخشان باب شروع ہوتا ہے۔

جب انسان اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم (Accept) کر لیتا ہے کہ باہر کی دنیا میں اس کا کوئی نجات دہندہ نہیں ہے، کوئی اس کو بچانے نہیں آئے گا، کوئی اس کے آنسو پونچھنے نہیں آئے گا—تو اس کا وہ وہم ٹوٹ جاتا ہے جو اسے دوسروں کا محتاج بنائے رکھتا تھا۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان اپنی نظریں باہر سے ہٹا کر اپنے اندر کے وجود پر مرکوز کرتا ہے۔

وہ جان لیتا ہے کہ:

  • خود پر انحصار (Self-Reliance): انسان کو سب سے پہلے خود اپنا دوست بننا ہوتا ہے۔ جب دنیا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تو انسان کے اندر کا اپنا وجود اس کا سب سے بڑا سہارا بن کر ابھرتا ہے۔
  • باطنی طاقت کا بیدار ہونا: مصیبت اور تنہائی انسان کے اندر ان پوشیدہ صلاحیتوں اور حوصلے کو بیدار کرتی ہے جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
  • توقعات کا خاتمہ: جب آپ دوسروں سے توقعات رکھنا چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ کو کوئی دوسرا شخص کبھی مایوس (Disappoint) نہیں کر سکتا۔ یہی حقیقی جذباتی آزادی ہے۔

تخلیق کار اور مفکر کی خلوت تنہائی کا برکت میں بدلنا

ایک اہل قلم، شاعر یا مفکر کے لیے تنہائی کوئی عذاب نہیں بلکہ ایک عظیم نعمت اور سحر ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہکار، عظیم ترین نظمیں، فلسفے اور انقلاب آفریں فکریں اسی وقت جنم لیتی ہیں جب انسان دنیا کے غوغا سے دور اپنے آپ کے ساتھ اکیلا ہوتا ہے۔

جب انسان یہ کہتا ہے کہ "میرا کوئی ہوتا تو آتا نا"، تو وہ غیر شعوری طور پر دنیا کی جعلی اور بے مقصد محفلوں سے کٹ کر اپنی ذات کے مندر میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں وہ اپنے خیالات سے باتیں کرتا ہے، اپنے جذبات کو الفاظ کا روپ دیتا ہے، اور اپنے زخموں کو اپنے ہی قلم سے مرہم لگاتا ہے۔ یہ خلوت ہی انسان کو بزدلی سے نکال کر شجاعت، خود داری اور فکری پختگی کی بلندیوں پر پہنچاتی ہے۔

حاصلِ کلام خود اپنا سہارا بنیے

اگر آج آپ کے دل کے کسی نہاں خانے میں بھی یہی پکار گونج رہی ہے کہ "میرا کوئی ہوتا تو آتا نا"، تو اپنے آنسوؤں کو پونچھ لیجیے اور اپنے سر کو فخر سے بلند کیجیے۔ یہ پکار اس بات کا ثبوت ہے کہ اب آپ کو دنیا کے نقلی سہاروں، جھوٹی تسلیوں اور عارضی تعلقات کی ویساکھیوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

یہ جملہ کسی ہار کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک نئی فتح کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب آپ اپنے راستے خود تراشیں گے، اپنے دیے خود جلائیں گے اور اپنے غموں کو خود اپنے ہاتھ سے سمیٹیں گے۔

دنیا میں جس کا بظاہر کوئی نہیں ہوتا، اس کے پاس اس کی اپنی ذات ہوتی ہے، اس کا اپنا رب ہوتا ہے جو اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ جب انسان اپنی تنہائی سے صلح کر لیتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو خود اہمیت دینا شروع کر دیتا ہے، تو پھر اسے کسی کے آنے کا انتظار رہتا ہے نہ کسی کے جانے کا خوف۔ وہ اپنے اندر ایک مکمل کائنات بن جاتا ہے—ایک ایسی کائنات جو کسی کی محتاج نہیں ہوتی!

Comments

Popular posts from this blog

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

Kashmir Impossible کشمیر جنت ارضی کی داستان، حسن، المیہ اور امید