لسی مٹی کا پیالہ، ثقافتی سادگی اور روح کی مجسم غزل
---روما محمود---
گرمائی دوپہروں کی شدید حبس، تپتی سڑکیں اور سورج کا غضبناک روپ—یہ وہ حالات ہیں جہاں انسان کا جسم اور روح دونوں کسی ایسی شادابی کی تلاش میں تڑپ اٹھتے ہیں جو اسے لحظہ بھر کے لیے زندگی کی تمازت سے نجات دلا سکے۔ شہر کی کنکریٹ کے جنگلات میں جب تپش دیواروں سے رسنے لگتی ہے، جب لفظوں کی تلاش میں قلم تھکنے لگے اور احساس کی حدت سے ذہن کا صفحہ جلنے لگے، تو انسان کو حرف و صوت سے ماورا کسی ایسی آسودگی کی ضرورت ہوتی ہے جو سیدھی روح کے بند کواڑ کھول دے۔ ایسے میں اگر مٹی کے کسی مٹکے سے نکلتا ہوا یخ ٹھنڈا مائع، جس پر گاڑھی بالائی کا پیڑا چاند کی طرح تیر رہا ہو، آپ کے سامنے رکھ دیا جائے، تو جگر اور اعصاب کو جو ٹھنڈک پہنچتی ہے اسے الفاظ کی قبا پہنانا ممکن نہیں۔
لسی صرف ایک روایتی مشروب نہیں، بلکہ ہمارے دیسی کلچر، قدامت، روایات اور ہماری سوندھی مٹی کا وہ لازوال استعارہ ہے جس کی چاشنی صدیوں کی گرد تلے بھی مدہم نہیں ہوئی۔
شعری تخیل اور مٹی کے پیالے کی معنوی جڑت
ایک شاعرہ کے نقطہ نظر سے دیکھوں تو لسی میرے لیے محض پیاس بجھانے کا ایک ذرائع نہیں، بلکہ ایک مجسم غزل ہے۔ اس کے سفید رنگ میں صبح کے کافوری نور کی نرمی ہے، اس کے مٹی کے پیالے میں وہ سوندھی خوشبو ہے جو بارش کے پہلے قطرے پر تشنہ زمین سے اٹھتی ہے، اور اس کے گلاس کی سطح پر تیرتا ہوا گاڑھا بالائی کا پیڑا جیسے کسی حسیں غزل کا کوئی شاہکار، نادر اور متوازن استعارہ ہو۔ غزل کے مصرعوں میں جس طرح لفظوں کا وزن، نشست اور تناسب ایک نغمگی پیدا کرتا ہے، بالکل اسی طرح دہی، پانی، برف اور مدھانی کے ملن سے لسی کا ایک ایسا متوازن آمیزہ تیار ہوتا ہے جو ذائقے اور کیفیت کا شاہکار بن جاتا ہے۔
جدید دور کے کیمیائی، رنگین اور سوڈا سے بھرپور مشروبات میں وہ مٹھاس اور معنوی گہرائی کہاں جو ہماری مٹی سے جڑے اس روایتی لمس میں ہے۔ مصنوعی مشروبات کی وقتی ترنگ ان سطحی اور نوزائیدہ نظموں کی طرح ہوتی ہے جو چمک دھمک کے ساتھ سامنے آتی ہیں لیکن چند لمحوں کے شور کے بعد ذہن کے طاقچوں سے محو ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، دہی اور مکھن کی برکت سے تیار شدہ یہ دیسی مشروب اس کلاسیکی، دیرپا غزل کی مانند ہے جس کی قرأت سے جگر کو شادابی ملتی ہے اور جس کا اثر دائروں کی صورت روح میں دیر تک پھیلا رہتا ہے۔
روایت کی خوشبو اور مدھانی کی قدیم موسیقی
ہمارے معاشرے میں لسی کا مقام محض غذا یا مشروب سے کہیں بلند رہا ہے۔ یہ محبت، اخلاص، دیہی زندگی اور خالص مہمان نوازی کا ایک شیریں ترجمان ہے۔ ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو دیہات اور گاؤں گوٹھوں کی صبح کا آغاز کسی الارم کی گھنٹی سے نہیں، بلکہ گھر کے آنگن میں چاٹی کے اندر لکڑی کی مدھانی کے گھومنے کی مخصوص، سریلی اور یکتا موسیقی سے ہوا کرتا تھا۔ وہ مدھانی کی آواز محض مکھن نکالنے کا عمل نہیں تھی، بلکہ وہ صبحِ نو کے استقبال کا ایک ثقافتی نغمہ تھی۔
مکھن کی چھابیاں الگ کرنے کے بعد جو سفید، گاڑھا اور ترش و شیریں مائع باقی بچتا تھا، وہ صرف ایک غذائی جزو نہیں بلکہ پورے کٹنب اور محلے کے دسترخوان کی رونق بن جاتا تھا۔ مٹی کے برتنوں میں رکھی ہوئی لسی جب گرمیوں کی دوپہروں میں کام سے لوٹے ہوئے کسانوں، محنت کشوں یا سفر سے آئے مہمانوں کے سامنے پیش کی جاتی تھی، تو اس میں نہ تو کسی نمائش کا عنصر ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی بناوٹ۔ وہ ایک سچا، خالص اور بے ساختہ جذبہ تھا جو مٹی کے پیالے میں ڈھل کر سامنے آتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ شہر آباد ہوئے، زندگی نے تیز رفتاری کا روپ دھارا، مٹی کے مٹکوں کی جگہ شیشے کے گلاسوں اور بلینڈر مشینوں نے لے لی، لیکن لسی کی محبوبیت، اس کے سحر اور اس کے اثر میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ میٹھی لسی کا گھونٹ جہاں ذہن کے تھکے ہوئے طاقچوں کو تازگی کا احساس دلا کر فرحت بخشتا ہے، وہی نمکین لسی گرمی کے توڑ، نمکیات کی بحالی اور نظامِ ہضم کی بہتری کے لیے آج بھی کسی اکسیراور دیسی نسخے سے کم نہیں سمجھی جاتی۔
مصنوعی بمقابلہ قدرتی: ایک فکری و معاشرتی موازنہ
ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب میں اپنے ارد گرد رونما ہونے والی معاشرتی اور غذائی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتی ہوں، تو مجھے بڑا واضح فرق نظر آتا ہے۔ جدید کارپوریٹ دنیا نے انسان کے ہاتھوں میں رنگ برنگی کین (Cans) اور کیمیکلز سے بھری بوتلیں تھما دی ہیں۔ ان مشروبات کی مارکیٹنگ اس انداز میں کی جاتی ہے جیسے یہ توانائی اور جدت کی علامت ہوں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ مصنوعی مشروبات وقتی طور پر گلے کو تو تر کر دیتے ہیں، مگر اندرونی طور پر معدے اور صحت کے نظام کو دھیمے زہر کی طرح متاثر کرتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں، لسی قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ دہی کی بیکٹیریل برکت (Probiotics) سے تیار شدہ وہ مرکب ہے جو معدے کی تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے، جسم میں گرمی کے اثرات کو زائل کرتا ہے اور آنتوں کی صحت کو بحال رکھتا ہے۔ جب ہم لسی کا ایک پیالہ پیتے ہیں تو ہم صرف اپنی پیاس نہیں بجھا رہے ہوتے، بلکہ ہم قدرت کی بنائی ہوئی تدبیر پر اعتماد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مشروب ہمیں یہ فکر دیتا ہے کہ جو چیز جتنی قدرتی اور اپنی جڑوں کے قریب ہوگی، وہ اتنی ہی پائیدار اور صحت بخش ثابت ہوگی۔
خمار، الہام اور تخلیقی آسودگی
لسی کی بات ہو اور اس کے بعد طاری ہونے والی مخصوص غنودگی کا ذکر نہ ہو، تو یہ کالم نامکمل رہے گا۔ لسی کا ایک بڑا، بالائی سے لبرریز گلاس پی لینے کے بعد جو ایک دھیمی، میٹھی اور بے خود کر دینے والی نیند یا خمار طاری ہوتا ہے، وہ بھی اس کے سحر کا ایک لازوال حصہ ہے۔
ہمارے جدید معاشرے میں اس غنودگی کو اکثر کاہلی یا سستی سے تعبیر کر کے مزاح کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن ایک شاعرہ اور فکر و نظر سے کام لینے والی خاتون کے نزدیک یہ خمار کسی سستی کا نام نہیں، بلکہ دنیا کے بے ہنگم شور سے کٹ کر روح کی تخلیقی آسودگی اور الہام کا وہ انمول لمحہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں انسان کا ذہن ہمہ وقت ڈیجیٹل نوٹیفیکیشنز، پریشانیوں اور دوڑ بھاگ میں الجھا رہتا ہے، لسی کا یہ خمار ذہن کے برقی سگنلز کو دھیما کر کے اسے ایک عارضی 'میڈیٹیشن' (Meditation) یا مراقبے کی حالت میں لے جاتا ہے۔
اس دھیمی سی بے خودی میں، جب جسم آرام دہ حالت میں ہوتا ہے اور تمام تر خارجی دباؤ سست پڑ جاتے ہیں، تو ذہن کے نہاں خانوں میں دبے ہوئے خیالات، استعارے اور اشعار بیدار ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ سکون کا وقت ہوتا ہے جہاں ایک شاعر کو نئے قافیے سوجھتے ہیں اور ایک کالم نگار کو معاشرتی مسائل کے نئے زاویے اور حل دکھائی دیتے ہیں۔ لسی کی یہ غنودگی دراصل روح کا وہ آرام ہے جو انسان کو دوبارہ سے زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے تازہ دم کر دیتا ہے۔
ثقافتی خودداری کا پیغام
لسی ہماری ثقافتی خودداری کی ایک اہم علامت ہے۔ مغربی تہذیب کے اثرات کے تحت جب ہم اپنی روایات، اپنی خوراک اور اپنے لباس سے دور ہونے لگے ہیں، تو لسی جیسی روایتی چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہماری پہچان اور ہماری جڑیں کتنی مضبوط اور زرخیز ہیں۔ اپنے روایتی مشروبات پر فخر کرنا دراصل اپنی ثقافت اور اپنی زمین سے محبت کا اظہار ہے۔
دوپہر کے جھلساتے ہوئے لمحوں میں جب زندگی کی حرارت بڑھنے لگے اور اعصاب جواب دینے لگیں، تو لسی کا ایک گلاس نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ روح کو بھی سرشار کر دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بناوٹ اور دکھاوے کی تمام تر چمک دمک کے مقابلے میں قدرتی سادگی اور بیباکی میں جو لطف، عافیت اور فکری توازن پوشیدہ ہے، وہی ہماری حقیقی میراث ہے۔
آئیے! اس تپتے ہوئے موسم میں مصنوعی بوتلوں کے بجائے مٹی کا پیالہ تھامیں، اس دیسی ذائقے کو اپنی زندگی میں بحال کریں اور اپنی سوندھی مٹی کے اس نغمے کو اپنے وجود کا حصہ بنائیں۔ کیونکہ جب تک مٹی کے پیالے میں سفید لسی کی چاندی چمکتی رہے گی، ہماری روایات کا حسن اور ہمارے احساس کی شادابی کبھی مرجھا نہیں سکتی۔

Comments