ایک چھوٹی سی تیلی، ایک بڑا انقلاب ماچس کی تاریخی داستان

   


---روما محمود---




​انسان اور آگ کا تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود انسانی تہذیب۔ آگ نے انسان کو غاروں کی تاریکی اور شدید سردی سے نکال کر تمدن کی روشنی عطا کی۔ لیکن صدیوں تک آگ جلانا ایک انتہائی صبر آزما اور دشوار کام رہا۔ پتھروں کو آپس میں رگڑنا، خشک لکڑیوں کو گھسنا اور چنگاری کو پھونکیں مار مار کر شعلے میں بدلنا کوئی آسان کھیل نہیں تھا۔ پھر انسان کی ذکاوٹ اور کیمیائی تجربات نے ایک ایسا معجزہ گھڑا جو آج ہر گھر کے باورچی خانے میں خاموشی سے پڑا ملتا ہے۔



 

 یعنی ماچس۔

​بظاہر لکڑی کا ایک معمولی سا ٹکڑا اور اس کے سرے پر لگا کیمیکل کا ایک چھوٹا سا قطرہ، مگر اس کے پیچھے اختراع اور ارتقا کی ایک طویل تاریخ پوشیدہ ہے۔

​قدیم دور، آگ کی ابتدائی تلاش

​ماچس کی موجودہ شکل تک پہنچنے سے پہلے انسان نے کئی تجربات کیے۔ پانچویں صدی عیسوی میں چین میں گندھک (Sulfur) میں ڈوبی ہوئی چیل کی لکڑی کی چھوٹی سیخیں استعمال کی جاتی تھیں۔ تاہم، یہ سچی ماچس نہیں تھیں کیونکہ انہیں جلانے کے لیے پہلے سے موجود آگ کی ضرورت ہوتی تھی۔ یعنی وہ خود چنگاری پیدا کرنے سے قاصر تھیں۔

​صدیوں تک دنیا چقمق کے پتھر اور لوہے کے ٹکڑے کو رگڑ کر چنگاری پیدا کرنے پر ہی انحصار کرتی رہی، جب تک کہ 19 ویں صدی میں کیمیا دانوں نے اس میدان میں قدم نہیں رکھا۔

​جان واکر اور پہلی "رگڑنے والی ماچس"

​حقیقی اور جدید ماچس کی ایجاد کا سہرا ایک برطانوی کیمیا دان اور عطار جان واکر (John Walker) کے سر جاتا ہے۔

​1826ء میں واکر اپنی لیبارٹری میں کیمیکلز کا ایک آمیزہ لکڑی کی تیلی سے ملا رہے تھے۔ جب انہوں نے تیلی کے سرے پر لگے خشک آمیزے کو صاف کرنے کے لیے اسے فرش پر رگڑا، تو یکایک چنگاری کے ساتھ آگ بھڑک اٹھی۔ اس غیر متوقع واقعے نے ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھی۔

​جان واکر نے 1827ء میں انہیں "فرکشن لائٹس" (Friction Lights) کے نام سے بیچنا شروع کیا۔ اس ابتدائی ماچس میں:

  • ​اجزا: پوٹاشیم کلوریٹ، اینٹی منی سلفائیڈ، گوند اور نشاستہ کا آمیزہ۔
  • ​خامیاں: یہ ماچس کافی خطرناک تھی۔ جلتے وقت اس میں سے شدید بدبو نکلتی تھی، شعلہ بے قابو ہوتا تھا اور کبھی کبھی جلتی ہوئی چنگاریاں دور دور تک جا گرتی تھیں۔

​فاسفورس کا استعمال اور اس کے خطرات

​1830ء کی دہائی میں فرانسیسی کیمیا دان چارلس سوریا (Charles Sauria) نے اس ترکیب میں "سفید فاسفورس" کا اضافہ کیا۔ اس سے ماچس کو کسی بھی کھردری سطح پر رگڑ کر جلانا بے حد آسان ہو گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نیا بحران پیدا ہو گیا۔

​سفید فاسفورس انتہائی زہریلا تھا۔ ماچس کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور، خصوصاً خواتین اور بچے، ایک خوفناک بیماری کا شکار ہونے لگے جسے "فوسی جا" (Phossy Jaw) کہا جاتا تھا، جس میں جبڑے کی ہڈیاں گلنا شروع ہو جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ یہ ماچس اتنی حسّاس تھی کہ جیب میں رکھے رکھے بھی رگڑ کھانے سے جل اٹھتی تھی۔

​سیفٹی ماچس (Safety Match) کا انقلاب

​سفید فاسفورس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سویڈن کے سائنسدان میدان میں آئے۔

  1. ​گستاف ایرک پاسچ (1844ء): انہوں نے تجویز دیا کہ زہریلے کیمیکل کو تیلی کے سرے سے ہٹا کر ڈبی کے سائیڈ والی رگڑنے والی سطح (Striking Surface) پر لگا دیا جائے اور غیر زہریلا "سرخ فاسفورس" استعمال کیا جائے۔
  2. ​جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم (1855ء): سویڈن کے اس موجد نے اس مفروضے کو عملی اور تجارتی شکل دی اور دنیا کی پہلی باقاعدہ "سیفٹی ماچس" تیار کی۔
  3. ​سیفٹی ماچس کی خاصیت: یہ تیلی کسی بھی عام سطح (دیوار، جوتے یا کپڑے) پر رگڑنے سے نہیں جلتی، بلکہ صرف اپنے مخصوص باکس کی سائڈ پر موجود سرخ فاسفورس والی سطح پر رگڑنے سے ہی روشن ہوتی ہے۔


    ​انسانی زندگی اور صنعتی دنیا پر اثرات

    ​ماچس کی بڑے پیمانے پر پیداوار نے انسانی زندگی کے روزمرہ معمولات کو بدل کر رکھ دیا:

    • ​گھریلو سہولت: باورچی خانے میں چولہا جلانے کے گھنٹوں کے کام کو چند سیکنڈز میں بدل دیا۔
    • ​سفر اور بقا: مسافروں، کوہ پیماؤں اور فوجیوں کے لیے مشکل حالات میں آگ جلانا بے حد آسان ہو گیا۔
    • ​صنعتی پیشرفت: ماچس کی صنعت نے خود لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا اور سویڈن طویل عرصے تک دنیا میں ماچس کی پیداوار کا مرکز رہا۔


    ​ماچس صرف ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ انسانی عقل و فہم کی ایک بہترین علامت ہے۔ لکڑی کی ایک چھوٹی سی تیلی اپنے اندر روشنی اور حرارت کا پورا ایک طوفان چھپائے رکھتی ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ تمدن کی تمام تر ترقیاں بظاہر چھوٹی اور معمولی نظر آنے والی چیزوں کی مرہونِ منت ہیں۔

    ​اندھیرے کو کوسنے کے بجائے ماچس کی ایک تیلی جلا لینا ہی روشنی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے—شرط یہ ہے کہ اس آگ کو تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے، تخریب کے لیے نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

Kashmir Impossible کشمیر جنت ارضی کی داستان، حسن، المیہ اور امید