محسن نقوی کا بیان: نظام کی ناکامی کا اعتراف یا نئے صوبوں کی طرف پیش قدمی؟
---روما محمود---
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا جو سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی مانے یا نہ مانے، موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے، سسٹم گر چکا ہے۔ یہ نظام چلتا رہا تو ہم دس سال بعد بھی انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔ سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نئے انتظامی یونٹس اور صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔”
یہ الفاظ ایک وفاقی وزیر کے منہ سے نکلنا معمولی بات نہیں۔ ایک ایسا شخص جو خود اس نظام کا حصہ ہے، اس نظام کی ناکامی کا کھل کر اعتراف کر رہا ہے۔ یہ بیان صرف تنقید نہیں بلکہ ایک قسم کی تشخیص ہے جو طویل عرصے سے بہت سے تجزیہ کار اور عوام کر رہے تھے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ وقتی اقدامات سے کام نہیں چلے گا۔ وہ آگ بجھانے والے اقدامات کو “فائر فائٹنگ” قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل ضرورت بنیادی اصلاحات کی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول پی ٹی آئی، کو ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت دی تاکہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق جب تک اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچیں گے، گورننس بہتر نہیں ہو گی اور نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی۔
اس بیان نے تین اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں:
پہلا، کیا یہ اعتراف اس بات کا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے؟ جے یو آئی (ف) سمیت کچھ حلقوں نے اسے “اعترافِ جرم” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن دو سال سے یہی بات کہہ رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت کے حامی اسے بہتر حکمرانی کے لیے عملی تجویز سمجھتے ہیں۔
دوسرا، نئے صوبوں کا قیام۔ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، جبکہ صوبے اب بھی چار ہیں۔ بھارت نے اپنے صوبوں کی تعداد بڑھا کر انتظامی بوجھ کم کیا۔ اگر نئے انتظامی یونٹس احتیاط سے اور سیاسی اتفاق سے بنائے جائیں تو خدمات کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صوبوں کا قیام اکثر لسانی اور سیاسی منافرت کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ صرف اقتدار کے کریدورز میں نہیں بلکہ عوامی بحث کے بعد ہونا چاہیے۔
تیسرا، نوجوانوں کا ذکر۔ محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو “کاکروچ” کہیں یا کچھ اور، اگر وہ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ الٹ سکتے ہیں۔ ان کی واحد خواہش میرٹ پر روزگار ہے۔ یہ بات درست ہے مگر الفاظ کا انتخاب متنازعہ ہے۔ نوجوان امید اور موقع چاہتے ہیں، انہیں اس طرح کی تشبیہات سے مایوس نہیں کرنا چاہیے۔
محسن نقوی کا یہ بیان ایک موقع بھی ہے۔ اگر اسے صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنایا گیا تو یہ بھی باقی بیانات کی طرح بھول جائے گا۔ لیکن اگر تمام سیاسی قوتیں اسے سنجیدگی سے لیں اور حقیقی اصلاحات کی طرف بڑھیں تو یہ ملک کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
نظام کی ناکامی کا اعتراف پہلا قدم ہے۔ اب اصل امتحان اس اعتراف کے بعد عمل کا ہے۔ نئے صوبے بنائیں یا نہ بنائیں، اصل ضرورت میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔

Comments