​شہرت، دولت اور طاقت فرعونیت کا طلسم اور انسانی خودی

 


---روما محمود---



یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے انسان کو اپنی حقیقت تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ تاریخ اور نفسیات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ شہرت، دولت اور طاقت بذات خود برائی نہیں ہیں، لیکن یہ ایک ایسا "سائن بورڈ" ضرور ہیں جو انسان کو اس راستے پر لے جاتے ہیں جہاں انا (Ego) بے قابو ہو جاتی ہے۔




​فرعونیت صرف ایک تاریخی کردار یا دور کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ کائنات کے اصولوں سے بالاتر ہے، جوابدہی اس پر لاگو نہیں ہوتی، اور اس کی خواہش ہی قانون ہے۔ جب شہرت، دولت اور طاقت یکجا ہوتے ہیں، تو یہ ایک ایسا "جادوئی آئینہ" بنا دیتے ہیں جس میں انسان کو اپنا عکس سب سے بڑا نظر آتا ہے۔

​ شہرت کا سراب آئینے کا ٹوٹ جانا

​شہرت انسان کو ایک ایسے کمرے میں بند کر دیتی ہے جس کی دیواریں مکمل طور پر آئینے سے بنی ہوں۔ آپ کو وہی آواز سنائی دیتی ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں، اور وہی تعریف ملتی ہے جس کے آپ عادی ہو چکے ہیں۔ جب اردگرد کے لوگ آپ کی ہر بات کو حرفِ آخر ماننے لگیں، تو تنقیدی سوچ کی صلاحیت ختم ہونے لگتی ہے۔ یہیں سے "میں" (The I) کا بت بننا شروع ہوتا ہے، جو فرعونیت کا پہلا قدم ہے۔

​ دولت کی دیواریں ہمدردی کا قحط

​دولت انسان کو سہولیات فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک غیر مرئی دیوار بھی کھڑی کر دیتی ہے۔ جب انسان اپنی تمام ضرورتیں آسانی سے پوری کر سکتا ہے، تو وہ اس کرب اور جدوجہد سے لاتعلق ہو جاتا ہے جو عام آدمی کی زندگی کا حصہ ہے۔ جب آپ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی، تو آپ آہستہ آہستہ دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ لاتعلقی ہی انسانیت سے دوری کا باعث بنتی ہے، جو ایک حکمران کو رعایا سے دور اور خود کو خدا سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

​ طاقت کا نشہ جوابدہی کا خاتمہ

​طاقت وہ آخری عنصر ہے جو انسان کو حد سے پار لے جاتا ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ "طاقت انسان کو کرپٹ کر دیتی ہے، اور مطلق طاقت انسان کو مکمل طور پر کرپٹ کر دیتی ہے۔" طاقت جب آپ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ آپ کسی کے مستقبل یا زندگی کا فیصلہ کر سکیں، تو وہ فطری انسانی رحم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرعونیت کا اصل جوہر یہی ہے: یہ مان لینا کہ "میرے فیصلوں پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔"

​کیا یہ سب انسان کو فرعون بنا دیتے ہیں؟

​جواب ہے: ضروری نہیں، مگر خطرہ بہت زیادہ ہے۔

​ان تینوں چیزوں کے باوجود فرعون نہ بننے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے "عجز" (Humility)۔ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں دولت اور طاقت کے باوجود اپنی انسانیت کو زندہ رکھا، انہوں نے ہمیشہ تین کام کیے:

  • ذاتی محاسبہ: روزانہ اپنے اعمال کا خود جائزہ لینا کہ کیا میں نے آج کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی؟
  • اختلافِ رائے کو جگہ دینا: اپنے اردگرد ایسے لوگ رکھنا جو آپ کو سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہوں، نہ کہ صرف خوشامدی۔
  • فنا کا احساس: یہ یاد رکھنا کہ یہ سب عارضی ہے اور تاریخ کے ہر بڑے سے بڑے "فرعون" کو بھی بالآخر مٹی میں ہی ملنا تھا۔


​شہرت، دولت اور طاقت آپ کو فرعون نہیں بناتے؛ بلکہ یہ آپ کی اصلی شخصیت کو عیاں کر دیتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر پہلے سے غرور کا بیج موجود ہو، تو یہ تینوں چیزیں اسے پانی دے کر ایک تناور درخت بنا دیتی ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی عاجزی اور زمینی حقائق سے جڑا رہے، تو یہی وسائل خدمتِ خلق کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

​فرعونیت باہر سے نہیں آتی، یہ انسان کے اندر سے جنم لیتی ہے جب وہ خود کو کائنات کا مرکز سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔