بچپن، تخیل اور کہانیاں فکری، جذباتی اور اخلاقی تربیت کا لازوال سفر

 


---روما محمود---



​بچپن انسان کی زندگی کا وہ زرخیز اور خوبصورت دور ہے جہاں تخیل کی کوئی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی خوابوں پر کوئی پہرہ۔ اس عمر میں انسان جو کچھ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، وہ اس کی پوری زندگی کے نقوش پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ بچپن کی اس خاموش اور کچی مٹی کو سنوارنے اور اسے ایک خوبصورت پیکر عطا کرنے میں جن چیزوں کا سب سے اہم اور بنیادی کردار رہا ہے، ان میں کہانیاں سرِ فہرست ہیں۔

​کہانیاں صرف وقت گزاری کا مشغلہ یا رات کو سونے سے پہلے کی لوری نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی وہ قدیم ترین اور طاقتور ترین میراث ہیں جو نسل در نسل فکر و شعور کی مشعلیں جلاتی چلی آرہی ہیں۔ آج کے اس مشینی اور تیز رفتار دور میں، جہاں ڈیجیٹل اسکرینز نے بچوں کی دنیا کو گھیر رکھا ہے، کہانیوں کی اہمیت اور بھی دو چند ہو جاتی ہے۔ آئیے اس بات کا احاطہ کرتے ہیں کہ بچوں کی زندگی میں کہانیاں کیوں ناگزیر ہیں اور یہ ان کی شخصیت سازی پر کیسے گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔




​ تخیل کی پرواز اور لا محدود دنیا

​بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے پاس دنیا کو دیکھنے کے لیے صرف حسیات ہوتی ہیں، لیکن جیسے جیسے وہ ہوش سنبھالتا ہے، اس کا تخیل اسے ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ہر ناممکن چیز ممکن ہو جاتی ہے۔ کہانیاں بچوں کے لیے اس تخیلاتی دنیا کے دروازے کھولتی ہیں۔

​جب ایک بچہ کسی پریوں کی کہانی، شہزادے کے سفر یا کسی جانور کی چالاکی کا قصہ سنتا ہے، تو اس کا ذہن خود بخود ان مناظر کو اپنے اندر تخلیق کرنے لگتا ہے۔

  • تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ: یہ ذہنی ورزش بچوں کو باکس سے باہر سوچنے (Out-of-the-box thinking) کی صلاحیت دیتی ہے۔
  • نئے خیالات کی تشکیل: جو بچے کہانیاں سنتے ہیں، وہ بڑے ہو کر مصنف، سائنسدان، آرٹسٹ اور بہترین فکری تخلیق کار بنتے ہیں کیونکہ وہ زندگی کو صرف ویسا نہیں دیکھتے جیسی وہ ہے، بلکہ اسے ویسا دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسی وہ ہو سکتی ہے۔

​ زبان اور ذخیرہ الفاظ کی ثروت مندی

​زبان اظہارِ خیال کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بچے جب بولنا شروع کرتے ہیں تو ان کا ذخیرہ الفاظ محدود ہوتا ہے۔ کہانیاں بچوں کو الفاظ کا ایک ایسا سمندر فراہم کرتی ہیں جہاں سے وہ اپنی مرتی ہوئی یا کمزور زبان کو زندگی عطا کرتے ہیں۔

  • محاورات اور گرامر کی پختگی: روایتی اور معیاری کہانیاں سننے سے بچوں کو نہ صرف نئے الفاظ ملتے ہیں بلکہ انہیں جملوں کی ساخت، روزمرہ، محاورات اور زبان کی فصاحت و بلاغت کا شعور بھی ملتا ہے۔
  • اظہار کی روانی: جو بچے باقاعدگی سے کہانیاں پڑھتے یا سنتے ہیں، وہ بڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار زیادہ پراعتماد، واضح اور خوبصورت انداز میں کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے جذبات کو الفاظ میں ڈھالنا آسان ہو جاتا ہے۔

​ اخلاقی اقدار اور کردار سازی کا بہترین درس

​بچوں کو براہ راست نصیحتیں کرنا اکثر اوقات بے اثر ثابت ہوتا ہے یا وہ اسے ایک بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، کہانیاں اخلاقیات سکھانے کا سب سے نرم اور موثر ترین ذریعہ ہیں۔

  • کرداروں سے وابستگی: کہانیوں کے اندر موجود کردار بچوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بچہ جب کسی ہیرو کو سچ بولتے، بہادری کا مظاہرہ کرتے، یا کسی کمزور کی مدد کرتے دیکھتا ہے، تو اس کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ نیکی ہی اصل راستہ ہے۔
  • برائی کا انجام: کہانیوں میں منفی کرداروں (جیسے جھوٹے، مکار یا ظالم کردار) کا انجام بچوں کو یہ سکھاتا ہے کہ اخلاقی گراوٹ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اس طرح بچوں کے اندر خود بخود حق و باطل اور خیر و شر کی تمیز پیدا ہو جاتی ہے۔

​ جذباتی نشوونما اور ہمدردی کا احساس

​بچوں کی جذباتی دنیا بہت نازک ہوتی ہے۔ وہ غصہ، خوشی، خوف، اداسی اور مایوسی جیسے جذبات سے گزرتے ہیں لیکن اکثر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان جذبات سے کیسے نبٹا جائے۔

  • جذبات کی پہچان: کہانیاں بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ خوفزدہ ہونا یا اداس ہونا کوئی بری بات نہیں۔ جب وہ کسی کہانی کے کردار کو کسی مشکل سے گزرتے اور پھر اس پر قابو پاتے دیکھتے ہیں، تو ان کے اندر حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
  • ہمدردی (Empathy): کہانیوں کے ذریعے بچے دوسرے کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنا سیکھا ہیں۔ جب وہ کسی مظلوم یا پریشان کردار کے بارے میں سنتے ہیں، تو ان کے دل میں دوسروں کے لیے درد، شفقت اور محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔

​ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور ذہنی ارتکاز

​موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ شارٹس، ریلز اور سکرینز کی بھرمار نے بچوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت (Attention Span) کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بچے ہر چیز فوری اور تیز رفتار چاہتے ہیں۔

  • صبر اور تحمل کی تربیت: ایک طویل کہانی یا کتاب پڑھنا یا سننا بچوں کو صبر سکھاتا ہے۔ اس عمل میں ان کا دماغ کہانی کے تانے بانے کو جوڑنے کے لیے محنت کرتا ہے، جس سے ان کی فکری گہرائی بڑھتی ہے۔
  • تخیلاتی ارتکاز: کہانیاں بچوں کو ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے، سننے اور گہرائی میں سوچنے کی عادت ڈالتی ہیں، جو کہ تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

​والدین اور بچوں کے درمیان تعلق کی مضبوطی

​کہانی سنانا صرف ایک یکطرفہ عمل نہیں ہے، بلکہ یہ دو دلوں کو قریب لانے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔ رات کو سونے سے پہلے بچوں کو کہانی سنانا (Bedtime Storytelling) دنیا بھر کی بہترین پیرنٹنگ ٹیکنیکس میں شمار ہوتا ہے۔

​"جب ایک ماں یا باپ اپنے بچے کو اپنے پاس بٹھا کر یا لٹا کر اپنے لہجے میں کوئی کہانی سناتے ہیں، تو وہ الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ محبت، وقت اور توجہ کے ذریعے بچے کی روح میں اتر رہے ہوتے ہیں۔"


​یہ وہ لمحات ہیں جو بچے عمر بھر یاد رکھتے ہیں۔ اس عمل سے بچوں کے اندر تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے والدین کے سب سے قریب ہو جاتے ہیں۔

​ڈیجیٹل دور کے چیلنجز اور کہانیوں کی فوری ضرورت

​آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں کارٹون اور موبائل گیمز نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے، بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں ایک خاص سانچے میں ڈھل رہی ہیں۔ اسکرین پر ہر چیز بنی بنائی ملتی ہے، بچے کو خود کچھ سوچنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے ان کا تخیل مر رہا ہے۔

​ایسے میں کتابوں اور روایتی کہانیوں کی طرف واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ڈیجیٹل غلامی سے نکال کر قصہ کہانی کی اس سنہری دنیا میں واپس لانا ہوگا جہاں وہ خود اپنے ہیرو کے لباس اور چہرے کا تصور کر سکیں۔

​بچوں کے لیے کہانیاں محض تفریح کا سامان نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ فکری بیج ہیں جو آگے چل کر ایک مضبوط اور سایہ دار درخت بنتے ہیں۔ ایک بچہ جو بچپن میں اچھی کہانیاں سنتا ہے، وہ بڑا ہو کر ایک حساس انسان، ایک بہترین شہری اور ایک بلند اخلاق شخصیت کا مالک بنتا ہے۔ لہذا، یہ ہم سب کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی زندگی میں کہانیوں کی اس روایت کو زندہ رکھیں، انہیں کتابوں کے قریب کریں، اور ان کے تخیل کے آسمان کو پرواز کے لیے نئے پر عطا کریں۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔