تصاویر بولتی ہیں، بصری سوچ اور خوابوں کا اسرار

 


---روما محمود---





​انسانی ذہن کی دنیا ایک ایسا عجیب و غریب معمہ ہے جو صدیوں سے سائنسدانوں، فلسفیوں اور شعرا کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ ہم سارا دن سوچتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں، یادوں کے دریچے کھولتے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ سارا عمل الفاظ سے زیادہ تصاویر، مناظر اور احساسات کی صورت میں رواں ہوتا ہے۔ جب ہم کسی سے ملنے کا سوچتے ہیں تو سب سے پہلے اس کا چہرہ ہمارے سامنے آتا ہے، نہ کہ اس کا نام یا اس کے بارے میں کوئی جملہ۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیوں ہمارا دماغ صرف تصویر میں سوچتا ہے اور خواب بھی الفاظ کی کتاب کے بجائے ایک چلتی ہوئی فلم کی طرح کیوں نظر آتے ہیں؟



​سائنسی اور عصبیاتی (Neuroscientific) تحقیق کے مطابق، انسان کی بصری سوچ کا تعلق اس کی ارتقائی تاریخ سے گہرا ہے۔

  • قدیم ترین زبان: زبان اور الفاظ تو انسانی تہذیب کی نسبتاً جدید ایجاد ہیں—محض چند ہزار سال پرانی—جبکہ تصویر یا بصری فہم (Visual Perception) کروڑوں سال پرانا ہے۔
  • فوری بقا کا تقاضا: جب ہمارے آباؤ اجداد جنگلوں اور غاروں میں رہتے تھے، تو خطرے کو محسوس کرنے یا خوراک تلاش کرنے کے لیے انہیں خطرے کی تصویر فوری طور پر پہچاننی پڑتی تھی، نہ کہ اس کا گرامر والا جملہ۔
  • پروسیسنگ کی رفتار: دماغ کا بصری حصہ (Visual Cortex) اور یادداشت کا نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی منظر کو الفاظ کے مقابلے میں ہزار گنا تیزی سے پروسیس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دماغی سطح پر خیالات سب سے پہلے امیجز کی شکل میں جنم لیتے ہیں، اور الفاظ ان خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے صرف ایک بعد کا لباس ہیں۔

​خوابوں کی سنیماٹک دنیا

​جب بات خوابوں کی آتی ہے، تو یہ معمہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے۔ نیند کے دوران، خاص طور پر آر ای ایم (REM - Rapid Eye Movement) کے مرحلے میں، ہمارا دماغ انتہائی فعال ہوتا ہے۔

​خواب الفاظ کی روایتی لغت سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ ایک سراب، ایک بصری منظر، یا ایک ایسی فلم کی طرح ہوتے ہیں جہاں وقت، جگہ اور فزکس کے روایتی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔


​اس دوران دماغ کا وہ حصہ جو منطق، استدلال اور زبان (Language and Logic) کو کنٹرول کرتا ہے (یعنی پری فرنٹل کارٹیکس)، وہ قدرے سست یا غیر فعال ہو جاتا ہے، جبکہ جذبات اور بصریت سے جڑے حصے پوری طاقت سے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواب میں ہم باتیں یا آوازیں تو محسوس کرتے ہیں، لیکن اصل محرک ہمیشہ تصویر اور مناظر ہی ہوتے ہیں۔

​الفاظ محض ایک ترجمہ ہیں

​حقیقت یہ ہے کہ تصویر ہمارے دماغ کی اصل مادری زبان (Mother Tongue) ہے۔ الفاظ تو اسی بصری زبان کا ایک ثانوی ترجمہ ہیں جو ہم نے معاشرے میں رہنے، رابطے اور لین دین کے لیے سیکھے ہیں۔

​جب کوئی مصور کینوس پر رنگ بکھیرتا ہے یا کوئی شاعر کسی منظر کو شعر میں ڈھالتا ہے، تو وہ دراصل دماغ کے اس اندرونی سنیما کو باہر لانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ دماغ کا یہ بصری کینوس اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی تخلیقی صلاحیت، اس کا تخیل اور اس کی گہری سوچ الفاظ کی قید سے کہیں آگے، ایک لامحدود اور رنگین کائنات میں بسیرا کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔