جرائم کی خبروں سے جرائم بڑھنے کا خطرناک رجحان  

 



---روما محمود---





آج کل نیوز چینلز، سوشل میڈیا اور اخبارات کھولیں تو جرائم کی خبروں کا طوفان نظر آتا ہے۔ قتل، ڈکیتی، ریپ، اغوا اور دیگر وحشیانہ واقعات کی تفصیلی رپورٹنگ، ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے: کیا یہ خبروں کا سیلاب معاشرے میں جرائم کو کم کر رہا ہے یا بڑھا رہا ہے؟ تحقیق اور تجربات بتاتے ہیں کہ "کاپی کیٹ ایفیکٹ" (Copycat Effect) کے تحت جرائم کی خبروں سے جرائم میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔




کاپی کیٹ جرائم کیا ہیں؟



کاپی کیٹ جرائم وہ ہوتے ہیں جن میں مجرم میڈیا میں دکھائے گئے یا رپورٹ کیے گئے جرائم کی نقل کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور جرائم کے ماہرین کے مطابق، جب کوئی سنگین جرم بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج حاصل کرتا ہے تو کچھ افراد (خاص طور پر نوجوان، ذہنی طور پر غیر متوازن یا پہلے سے جرم کی تاریخ رکھنے والے) اسے "ہیرو" یا "آسان راستہ" سمجھ کر نقل کرنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سکول شوٹنگز، سیریل کلنگ یا ڈکیتی کے واقعات کی تفصیلی رپورٹنگ کے بعد ایسے ہی واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا کی تشہیر مجرموں کو "سیلبرٹی" بنا دیتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر میڈیا انہیں اتنا کوریج دے سکتا ہے تو ان کا نام بھی تاریخ میں رہ جائے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً 40 فیصد سنگین جرائم کرنے والے نوجوانوں نے میڈیا سے متاثر ہو کر ایسا کیا۔ فرانس میں کاروں کو آگ لگانے کے واقعات کی رپورٹنگ روکنے کے بعد ان واقعات میں کمی آئی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے۔35d17a

پاکستان کا تناظر

پاکستان میں بھی یہ رجحان نظر آتا ہے۔ ایک بڑا قتل یا ریپ کا واقعہ ٹی وی پر گھنٹوں چلتا ہے، تفصیلات، ملزم کی ویڈیوز اور حتیٰ کہ طریقہ کار بھی دکھایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں۔ نتیجہ؟ کچھ دنوں بعد ہی ایسے ہی جرائم کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ "اگر یہ کر سکتا ہے تو میں بھی" والا ذہن بن جاتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جو زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتی ہے، اس کا شکار ہوتی ہے۔

میڈیا کا کاروباری ماڈل بھی ذمہ دار ہے۔ "اگر خون بہے تو سرخیاں چھپتی ہیں" (If it bleeds, it leads) والا اصول ناظرین کی توجہ کھینچنے کے لیے جرائم کو سنسنی خیز بناتا ہے۔ اس سے معاشرے میں خوف پھیلتا ہے، لوگ گھروں سے نکلنے سے ڈرتے ہیں، اور بعض افراد اسے "متاثر کن" سمجھ کر نقل کرتے ہیں۔

نفسیاتی اور سماجی اثرات

** desensitization**: بار بار جرائم دیکھنے سے لوگ ان کے حوالے سے حساسیت کھو بیٹھتے ہیں۔

Imitation: بچے اور نوجوان مشاہدے سے سیکھتے ہیں۔ اگر میڈیا جرم کو "آسان" یا "دلچسپ" دکھائے تو اس کی نقل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Glorification: ملزم کی کہانی، اس کی "بہادری" یا "منصوبہ بندی" کی تفصیلات پیش کرنا اسے ہیرو بنا دیتا ہے۔

یہ سب جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بنتا ہے، خاص طور پر تشدد والے جرائم میں۔

ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جرائم کی خبریں نہ دی جائیں۔ عوام کو حقائق کا پتہ ہونا چاہیے، پولیس کی کارروائیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ لیکن:

تفصیلات (خاص طور پر طریقہ کار) کم کی جائیں۔

ملزم کو "ہیرو" نہ بنایا جائے، بلکہ اس کی مذمت کی جائے۔

مثبت کہانیاں بھی دکھائی جائیں — جرائم کی روک تھام، بحالی اور قانون کی حکمرانی کی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ذمہ دار بنایا جائے۔

حکومت، میڈیا ہاؤسز اور ماہرین کو مل کر گائیڈ لائنز بنانی چاہییں تاکہ خبروں کا اثر جرائم بڑھانے کی بجائے روکنے والا بنے۔

آخر میں، جرائم کی جڑیں غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی اور نظام انصاف کی ناکامی میں ہیں۔ میڈیا ان جڑوں پر توجہ دے تو بہتر۔ ورنہ خبروں کا یہ طوفان معاشرے کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔