پاکستانی ہیں تو حقوق بھی پاکستانی والے چاہییں
---روما محمود---
ایک جتھے نے احتجاج کیا تو بجلی تین روپے یونٹ ہو گئی۔
کیا ہم لوگ پاکستانی نہیں؟
کیا اس ملک کے وسائل میں سے کچھ بھی ہمارے لیے نہیں؟
سارے پیسے بجلی کے بلوں میں نکل جاتے ہیں۔ احتجاج بے اثر
کر دیے جاتے ہیں۔
یہ سوالات آج ہر اس گھر میں گونج رہے ہیں جہاں بجلی کا بل ماہانہ تنخواہ کا بڑا حصہ کھا جاتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں 2024 کے احتجاجات نے یہ حقیقت عیاں کر دی۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دباؤ پر وفاقی حکومت نے 23 ارب روپے کا گرانٹ جاری کیا، آٹے کی سبسڈی بحال کی اور گھریلو بجلی کی شرح 3 روپے (پہلے 100 یونٹس)، 5 روپے (100-300) اور 6 روپے (اس سے زیادہ) کر دی۔ یہ سبسڈی کشمیر کی مقامی ہائیڈرو پاور پیداوار کی کم لاگت اور وفاقی امداد پر مبنی تھی۔
دوسری طرف، باقی پاکستان میں اوسط گھریلو صارف 40-50 روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ ادا کر رہا ہے۔ گردشی قرضوں کا بوجھ، مہنگی تھیریمل پاور، لائن لاسز اور سبسڈی کی عدم برابری نے بجلی کو عام آدمی کے لیے عذاب بنا دیا ہے۔
یہ ناانصافی کیوں؟
کشمیر کے لوگ درست کہتے ہیں کہ ان کی زمینوں پر بنے ڈیموں سے پاکستان کو بجلی ملتی ہے، پانی ملتا ہے، لیکن انہیں خود مہنگی بجلی استعمال کرنی پڑتی تھی۔ احتجاج کے بعد سبسڈی ملی تو اچھا ہوا — یہ ان کا حق بھی تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے گھرانے کیوں
اسی ملک کے شہری ہونے کے باوجود مہنگی بجلی پر مجبور ہیں؟
کیا وسائل صرف احتجاج کرنے والوں کے لیے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بجلی کا نظام بنیادی طور پر ناقص ہے۔ آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے، کرپشن، چوری، غیر موثر ریکوری اور سیاسی سبسڈیز نے پورے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب کوئی علاقہ دباؤ ڈالتا ہے تو حکومت فوری طور پر گرانٹ دے کر معاملہ ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ نتیجہ؟ ایک علاقے کی سبسڈی دوسرے علاقے کے ٹیکس دہندگان یا صارفین پر بوجھ بن جاتی ہے۔
احتجاج بے اثر کیوں؟
یہ بات بھی جزوی طور پر درست ہے کہ بہت سے احتجاج دبائے یا خرید لیے جاتے ہیں۔ مگر کشمیر کا احتجاج کامیاب ہوا کیونکہ یہ
منظم تھا، مقامی تھا اور وفاقی سطح پر توجہ مبذول کروا سکا۔ باقی پاکستان میں بجلی، گیس، آٹا اور ٹیکس کے مسائل پر احتجاج ہوتے رہتے ہیں مگر اکثر منتشر اور سیاسی رنگ لیے ہوتے ہیں، اس لیے نتیجہ کم نکلتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پورا ملک ایک ہی جہاز ہے۔ کشمیر کے لوگ پاکستانی ہیں، پنجاب والے بھی، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان والے بھی۔ وسائل قومی ہیں، ان کی تقسیم عادلانہ ہونی چاہیے۔ اگر کشمیر کو پیداواری لاگت کے قریب بجلی مل سکتی ہے تو دوسرے علاقوں کو بھی اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔ ہائیڈرو پاور کی سستی بجلی پورے ملک میں منصفانہ تقسیم ہو۔
حل کیا ہے؟
شفافیت: بجلی کی پیداوار، لاگت اور تقسیم کا ہر اعداد و شمار عوام کے سامنے ہو۔
اصلاحات: آئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ، لاسز کم کرنا، چوری روکنا اور قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوا) پر توجہ۔
عادلانہ سبسڈی: ہر طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی، علاقائی بنیاد پر نہیں۔
مقامی وسائل: ہر صوبے اور علاقے کو اپنے وسائل (پانی، کوئلہ، گیس، شمسی) پر مبنی پاور جنریشن کی آزادی اور حصہ داری۔
جب تک قومی سطح پر گورننس بہتر نہ ہو، احتجاج ہوتے رہیں گے اور حکومت ایک جگہ سے پیسہ اٹھا کر دوسری جگہ ڈالتی رہے گی۔ کشمیری بھائیوں کی کامیابی مبارک ہو، مگر اس سے سبق یہ لینا چاہیے کہ پورے پاکستان کے عوام کے لیے ایک ہی پالیسی ہو — نہ کہ احتجاج کی بنیاد پر الگ الگ رعایتیں۔
ہم سب پاکستانی ہیں۔ اس ملک کے وسائل سب کے لیے ہیں۔ بس ان کا استعمال اور تقسیم عادلانہ ہونا چاہیے۔ ورنہ بل ادا کرتے کرتے غریب مزید غریب ہوتا رہے گا اور احتجاج کی آگ جلتی رہے گی۔
سیاستدان، بیوروکریٹس اور عوام مل کر نظام کو درست کریں، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوں۔ بجلی کا بل صرف بل نہیں، قومی انصاف کا آئینہ ہے۔

Comments