اولیت کا خمار: کیا 'دوسرا' واقعی کوئی نہیں ہے؟

 

---روما محمود---


"پہلا، پہلا ہوتا ہے اور دوسرا، کوئی نہیں ہوتا۔"

​یہ جملہ بظاہر ایک سادہ سا نعرہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر ہم اس کی گہرائی میں اتریں، تو یہ جدید دور کی سفاکانہ مسابقت اور کارپوریٹ کلچر کا نچوڑ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں 'اولیت' (First Position) صرف ایک درجہ نہیں، بلکہ ایک شناخت بن گئی ہے۔ اس دوڑ میں، جس کا اختتام میڈلز، ٹرافیز اور درجہ بندیوں (Rankings) پر ہوتا ہے، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی کا مفہوم کسی دوسرے کو شکست دینے سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ کیا واقعی 'دوسرا' انسان کوئی نہیں ہوتا؟ یا پھر یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو ہم نے اپنی ناکامیوں کے خوف اور دوسروں سے بہتر نظر آنے کے لیے  خود گھڑا ہے؟



​اولیت کا طلسماتی بیانیہ

​تاریخ سے لے کر آج کے اسمارٹ فونز کے مقابلے تک، انسانی تہذیب 'اول ہونے' کے بخار میں مبتلا ہے۔ فاتح کو تاج پہنایا جاتا ہے، فاتح کے نام پر گلیاں اور چوراہے منسوب کیے جاتے ہیں، اور فاتح کی سوانح عمری لکھی جاتی ہے۔ اول آنے والا 'ہیرو' ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والا صرف وہ شخص ہے جو ہیرو بننے سے ذرا سا چوک گیا۔

​اس نفسیاتی کیفیت کو ماہرینِ نفسیات "وینر ٹیکس آل" (Winner Takes All) کا نام دیتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں معاشرہ دوسرے نمبر پر آنے والے کی محنت، اس کی جدوجہد اور اس کے سفر کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ کیا ایڈمنڈ ہیلری (ایورسٹ سر کرنے والا پہلا شخص) کے بارے میں سب جانتے ہیں؟ جی ہاں۔ لیکن کیا ہمیں اس دوسرے شخص کا نام یاد ہے جو اس کے ساتھ تھا، یا وہ جو اس سے محض چند گھنٹے پیچھے تھا؟ شاید نہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں "دوسرا کوئی نہیں ہوتا" کا فلسفہ جنم لیتا ہے۔

​مسابقت کی نفسیاتی ساخت

​ہم نے تعلیمی اداروں سے لے کر دفتروں تک، بچوں اور نوجوانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ زندگی ایک سو میٹر کی ریس ہے۔ یہاں صرف ایک 'فنش لائن' ہے اور جو اسے پہلے چھوئے گا، وہی فاتح ہے۔ لیکن کیا زندگی واقعی ایک ریس ہے؟

​مسابقت ایک حد تک ترقی کا زینہ ہے، لیکن جب یہ ایک جنون بن جائے، تو یہ تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب آپ کا مقصد صرف 'اول' آنا ہوتا ہے، تو آپ کا محور اپنی ذات کی بہتری نہیں، بلکہ دوسرے کی شکست بن جاتا ہے۔ آپ یہ نہیں دیکھتے کہ آپ کل سے بہتر ہوئے ہیں یا نہیں؛ آپ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرا آپ سے کتنا پیچھے ہے۔

​اس سوچ نے معاشرے میں ایک عجیب سا عدم اطمینان پیدا کر دیا ہے۔ ہر شخص ایک انجانے دباؤ کا شکار ہے۔ جو اول ہے، اسے اپنی پوزیشن کھونے کا خوف کھائے جا رہا ہے۔ جو دوسرا ہے، وہ اپنی ناکامی پر دل شکستہ ہے۔ اور جو تیسرا یا چوتھا ہے، وہ تو گویا معاشرتی گنتی سے ہی خارج ہو چکا ہے۔

​'دوسرے' کی اہمیت: پسِ پردہ قوتِ محرکہ

​اگر ہم تاریخ اور زندگی کے حقائق پر غور کریں، تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ایجادات، اصلاحات اور کامیابیاں اکثر 'دوسرے' نمبر پر رہنے والوں کی مرہونِ منت ہیں۔

​مثال کے طور پر، کسی دوڑ میں جب تک کوئی آپ کے پیچھے نہیں ہوگا، آپ اپنی رفتار کو تیز نہیں کریں گے۔ دوسرا شخص ہی وہ 'کیٹلسٹ' (Catalyst) ہے جو پہلے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کرے۔ اگر پہلا شخص تنہا دوڑ رہا ہو، تو اس کے پاس اپنی صلاحیتوں کو انتہا تک لے جانے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔ پس، 'دوسرا' ہی وہ قوت ہے جو پہلے کو 'اول' رہنے کے قابل بناتی ہے۔

​کئی ایسے عظیم مفکرین، سائنسدان اور فنکار گزرے ہیں جنہوں نے زندگی بھر 'دوسرے' یا 'تیسرے' درجے پر اکتفا کیا، مگر ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنا۔ اگر ہم صرف اول آنے والوں کو ہی تاریخ کا حصہ مان لیں، تو ہم انسانی ارتقاء کی آدھی کہانی کھو دیں گے۔

​معاشرتی زوال اور 'نمبر ون' کا مفروضہ

​آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد، لائیکس اور ویوز کامیابی کا پیمانہ بن چکے ہیں، یہ 'اولیت' کا بخار اور بھی شدید ہو گیا ہے۔ ہر کوئی 'وائرل' ہونا چاہتا ہے۔ ہر کوئی 'ٹرینڈنگ لسٹ' میں پہلے نمبر پر آنا چاہتا ہے۔ اس دوڑ میں ہم 'معیار' (Quality) کو بھول کر 'مقدار' (Quantity) کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

​ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو جیتنا تو جانتی ہے، لیکن ہار کو قبول کرنا یا اس سے سیکھنا نہیں جانتی۔ جب آپ کا پورا وجود اس بات پر منحصر ہو کہ "میں نے اس کو ہرا دیا"، تو آپ کے اندر سے انسانیت، ہمدردی اور باہمی تعاون کی اقدار ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں دوسرا 'کوئی نہیں' ہے، وہ تنہائی، حسد اور خود غرضی کا معاشرہ ہوتا ہے۔

​کامیابی کا ایک نیا تصور

​کامیابی کی تعریف میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کامیابی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ دوسروں سے آگے ہیں۔ کامیابی کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ:

  1. اپنے آپ سے مخلص ہیں: کیا آپ نے اپنے مقصد کو پانے کے لیے وہ تمام تر محنت کی جو آپ کر سکتے تھے؟
  2. تعمیراتی کردار ادا کر رہے ہیں: کیا آپ کی کامیابی سے کسی دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے؟
  3. تسلسل برقرار رکھتے ہیں: کیا آپ گرنے کے بعد دوبارہ کھڑے ہو سکتے ہیں؟

​زندگی کا مقابلہ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں، بلکہ 'کل کے اپنے آپ' کے ساتھ ہے۔ اگر آپ آج اپنے کل سے بہتر ہیں، تو آپ فاتح ہیں۔ چاہے دنیا آپ کو پہلا درجہ دے یا نہ دے۔


​یہ کہنا کہ "پہلا، پہلا ہوتا ہے اور دوسرا، کوئی نہیں ہوتا" ایک ادبی اور فلسفیانہ لحاظ سے تو پرکشش ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک فریب ہے۔ دنیا میں جگہ ہر ایک کے لیے موجود ہے۔ سورج اپنی جگہ اول ہے، تو چاند اپنی جگہ۔ دونوں کا کام الگ ہے، اہمیت الگ ہے اور خوبصورتی بھی الگ ہے۔

​ہمیں اپنے بچوں، اپنے ساتھیوں اور اپنی نسلوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ زندگی میں اول آنا ایک اچھا ہدف ہے، لیکن اس کے لیے اپنی انسانیت، اخلاقیات اور دوسروں کے احترام کو قربان کر دینا ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔

​اگر آپ زندگی کی اس طویل دوڑ میں کہیں دوسرے، تیسرے یا آخری مقام پر بھی ہیں، تو مایوس نہ ہوں۔ آپ کا سفر، آپ کی جدوجہد اور آپ کا وجود خود ایک مکمل کہانی ہے۔ آپ کسی کے لیے 'کوئی نہیں' ہو سکتے ہیں، لیکن آپ اپنی ذات کے لیے سب کچھ ہیں۔ اس لیے، دوسرے کی پوزیشن کو دیکھ کر اپنی زندگی کی کتاب بند نہ کریں، بلکہ اپنے اگلے صفحے کو پہلے سے بہتر لکھنے کی کوشش کریں۔

​آخرکار، تاریخ صرف فاتحین کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ ان کو بھی یاد رکھتی ہے جنہوں نے ہار کر بھی ہمت نہیں ہاری۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آج کے دور میں کامیابی کا معیار صرف نمبرز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، یا آپ کے نزدیک اس کا کوئی اور پیمانہ بھی ہے؟


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔