---روما محمود---
زندگی کے سفر میں انسان کئی ایسے موڑوں سے گزرتا ہے جہاں راستے بند اور افق دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ ان لمحات میں، جب تمام تدبیریں ناکام ہو جائیں اور خواہشات کی شدت کے باوجود نتائج ہمارے اختیار میں نہ رہیں، تو ایک عجیب و غریب کیفیت جنم لیتی ہے جسے ہم 'بے بسی' کہتے ہیں۔
بے بسی محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی خاموش چیخ ہے جو دل کی گہرائیوں میں گونجتی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کے دکھ بانٹنے کی کوشش کریں مگر وہ تکلیف جوں کی توں رہے، یا جب ہم اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں مگر حالات کی دیواریں اتنی بلند ہوں کہ انہیں پھلانگنا ناممکن محسوس ہو۔
سماجی سطح پر بھی بے بسی کا ایک الگ چہرہ ہے۔ جب انسان معاشرتی ناانصافیوں کو دیکھتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ سچائی بکھر رہی ہے اور طاقت کا پلڑا کمزوروں کے خلاف جھک رہا ہے، تو وہ خود کو کسی انجانی زنجیر میں جکڑا ہوا پاتا ہے۔ یہ بے بسی اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب آواز اٹھانے کی ہمت تو ہو، مگر اسے سننے والا کوئی نہ ہو۔
لیکن کیا بے بسی واقعی سب کچھ ختم کر دینے کا نام ہے؟
نفسیاتی زاویے سے دیکھیں تو بے بسی دراصل ہماری انسانیت کا ایک حصہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کائنات کے مختارِ کل نہیں ہیں۔ یہ احساس ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم اس بے بسی کو اپنی شکست نہ مان لیں۔ اصل شکست تب ہوتی ہے جب ہم بے بس ہو کر بیٹھ جائیں اور امید کا دامن چھوڑ دیں۔
بے بسی کے عالم میں، جب باہر کے تمام دروازے بند ہو جائیں، تو اپنے اندر کی دنیا میں جھانکنا سب سے بڑا عمل ہوتا ہے۔ اکثر اوقات، جس مسئلے کو ہم حل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، وہ ہماری شخصیت کو نکھارنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ بے بسی ہمیں صبر کرنا سکھاتی ہے، ہمیں ان چیزوں کی قدر کرنا سکھاتی ہے جو ہمارے اختیار میں ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ ہمیں خدا کی قدرت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا سکھاتی ہے۔
یاد رکھیے، ہر اندھی رات کے بعد سویرا ہوتا ہے۔ بے بسی کے یہ لمحات عارضی ہیں، مگر اس تجربے سے حاصل ہونے والی بصیرت ہمیشہ کے لیے ہے۔ جب آپ خود کو بے بس محسوس کریں، تو جان لیں کہ یہ آپ کی کمزوری نہیں، بلکہ آپ کی انسانیت کا ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ کو آنے والے وقتوں کے لیے مزید مضبوط اور صاحبِ تدبیر بنا دے گا۔
بے بسی کا بہترین علاج 'عمل' اور 'امید' کا امتزاج ہے۔ جب ہم اپنی حدود کو تسلیم کر کے، اس سے باہر نکل کر کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہی بے بسی ایک نئی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
بس، ہمت مت ہاریں، کیونکہ جو آج بے بس نظر آتا ہے، کل وہی اپنے حوصلے سے تاریخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Comments