---روما محمود---
ریاست اور اس کے عوام کے درمیان تعلق ایک مقدس معاہدے کی مانند ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ، جسے سیاسی فلسفے میں 'سماجی معاہدہ' (Social Contract) کہا جاتا ہے، اس بنیاد پر قائم ہوتا ہے کہ عوام اپنی کچھ آزادی اور اختیارات ریاست کے سپرد کرتے ہیں، اور بدلے میں ریاست ان کے جان، مال، عزت کی حفاظت، انصاف کی فراہمی، اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری لیتی ہے۔ لیکن جب اس معاہدے کی بنیادوں میں دراڑیں پڑ جائیں، تو معاشرہ 'اعتماد کے بحران' کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں، گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام اور حکمرانوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی ہے، وہ محض سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی زخم بن چکی ہے۔
اعتماد کیوں اٹھ گیا؟
اعتماد ایک ایسی دولت ہے جو برسوں کی کارکردگی اور دیانتداری سے کمائی جاتی ہے، لیکن اسے ضائع کرنے کے لیے ایک غلط فیصلہ یا ایک جھوٹ کافی ہوتا ہے۔ حکمران اشرافیہ نے بارہا عوام کے اعتماد کو آزمایا ہے، اور ہر بار اسے مجروح کیا ہے۔ اس بحران کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔
ہر انتخابی مہم کے دوران، حکمران طبقات ایسے خواب دکھاتے ہیں جو جنت کی نوید معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اقتدار سنبھالتے ہی ان وعدوں کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع، اور سستا انصاف صرف نعروں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ جب عوام بار بار ان نعروں کو زمین بوس ہوتے دیکھتے ہیں، تو ان کا یقین ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ 'امید کا قتل' ہے، جو عوام کو مایوسی اور لاچاری کی طرف دھکیلتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں جب قانون کمزور کے لیے دیوار اور طاقتور کے لیے مکڑی کا جالا بن جائے، تو اعتماد کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ عوام یہ دیکھ کر حیران اور مشتعل ہوتے ہیں کہ حکمران طبقے کے لیے قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ اربوں کے گھپلے کرنے والے آزاد پھرتے ہیں، جبکہ غریب معمولی الزامات پر برسوں جیلوں میں سڑتے ہیں۔ یہ 'امتیازی سلوک' عوام کے دلوں میں حکمرانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی عدم مساوات انتہا پر ہو، وہاں حکمرانوں کا شاہانہ طرز زندگی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتا ہے۔ ایک طرف عوام بجلی، گیس اور آٹے کے لیے ترس رہے ہوں، اور دوسری طرف حکمران اپنی عیاشیوں پر قومی خزانہ لٹا رہے ہوں، تو عوامی غصہ فطری ہے۔ معیشت کو سنبھالنے کے نام پر جو اقدامات کیے جاتے ہیں، ان کا سارا بوجھ عوام پر پڑتا ہے، جبکہ اشرافیہ اپنے مفادات کو ہر صورت محفوظ رکھتی ہے۔
اعتماد کا بحران اور سماجی نفسیات
عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کا یہ ٹوٹا ہوا رشتہ صرف سیاست تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ معاشرے کی اجتماعی نفسیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔
-
- جب عوام کو یقین ہو جائے کہ حکمران ان کے لیے کچھ نہیں کریں گے، تو وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے غلط راستے اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ رشوت ستانی، سفارش، اور بدعنوانی کو ایک 'ضرورت' کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ معاشرتی اخلاقیات زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
-
- ایک بڑا طبقہ، خاص طور پر نوجوان نسل، سیاست سے بالکل لاتعلق ہو چکی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ چاہے کوئی بھی آئے، کچھ نہیں بدلے گا۔ یہ لاتعلقی ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ جب عوام اپنی ریاست کے فیصلوں سے لاتعلق ہو جائیں، تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔
-
- جب حکمران عوام کا اعتماد کھو دیتے ہیں، تو وہ اپنی بقا کے لیے معاشرے کو تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ زبان، نسل، اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم پیدا کی جاتی ہے تاکہ عوام آپس میں لڑتے رہیں اور حکمرانوں پر سوال نہ اٹھائیں۔ یہ 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
کیا اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟
اعتماد کا بحران راتوں رات پیدا نہیں ہوا، اس لیے یہ راتوں رات ختم بھی نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے حکمرانوں کو اپنی سوچ اور عمل میں انقلابی تبدیلی لانی ہوگی۔
سب سے پہلا قدم مکمل شفافیت ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ احتساب کا عمل کسی ایک گروہ کے خلاف نہیں، بلکہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ جب عوام دیکھیں گے کہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، تو اعتماد کی بحالی کا سفر شروع ہوگا۔
نعروں سے اب کام نہیں چلے گا۔ اب صرف اور صرف 'کارکردگی' (Performance) ہی اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ اگر حکمران تعلیم، صحت، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تھوڑی سی بھی بہتری لے آئیں، تو عوام کا رویہ بدلنا شروع ہو جائے گا۔
اعتماد الفاظ سے نہیں، عمل سے پیدا ہوتا ہے
عوام کو محض ووٹ دینے والی مشین نہ سمجھا جائے۔ انہیں پالیسی سازی میں شریک کیا جائے۔ جب عوام کو محسوس ہوگا کہ ان کی رائے کی اہمیت ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ ایک تعلق محسوس کریں گے۔ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی (Devolution of Power) اس بحران کا ایک بڑا حل ہو سکتی ہے۔
عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کا بحران ایک خاموش آگ ہے جو ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ یہ بحران اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک حکمران یہ نہیں سمجھ لیتے کہ اقتدار ان کا حق نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔ اگر اس امانت کا پاس نہیں رکھا گیا، تو تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کا سمندر بپھرتا ہے، تو کوئی بھی طاقت اسے نہیں روک سکتی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران اپنی شاہانہ روش ترک کریں، عوام کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھیں، اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ورنہ، اگر یہ اعتماد کا بحران اسی طرح بڑھتا رہا، تو ہم ایک ایسی دلدل میں دھنس جائیں گے جہاں سے واپسی کا راستہ ناممکن ہوگا۔ ریاست صرف زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں بستی ہے۔ اور اگر ریاست نے عوام کے دلوں میں جگہ کھو دی، تو وہ ریاست کبھی مستحکم نہیں رہ سکتی۔

Comments