Skip to main content

ریاست، بے بسی اور طاقت کا خلا ایک المیہ۔

 


---روما محمود---




​پاکستان آج تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاست کی رٹ (Writ of the State) کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ملک کے ہر کونے میں، چاہے وہ بلوچستان کی شورش ہو، خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہو، یا پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کی یلغار، ہر جگہ سیکیورٹی آپریشنز کے لیے فوج کی طرف دیکھنا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ یہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہماری سول بیوروکرسی اور نظامِ انصاف اپنے فرائض نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں؟



​طاقت کا خلا اور سول انتظامیہ کی بے بسی

​کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں امن و امان کا قیام سول انتظامیہ اور پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اس شعبے کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔ سیاسی مداخلت، ناقص بھرتیوں، اور جدید آلات و تربیت کے فقدان نے پولیس کو ایک ایسی قوت بنا دیا ہے جو اپنے بل بوتے پر بڑے آپریشنز کرنے کے قابل نہیں رہی۔

​نتیجہ یہ نکلا کہ جب بھی کوئی چھوٹا یا بڑا "جتھا" سر اٹھاتا ہے، سڑکیں بند کرتا ہے، یا شہریوں کو یرغمال بناتا ہے، تو مقامی انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ جب پولیس کی ساکھ ختم ہو جائے اور قانونی نظام مجرموں کو سزا دلوانے میں ناکام رہے، تو وہاں ایک "طاقت کا خلا" پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پھر بار بار فوج کو بلانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف فوج پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ سول ادارے مزید غیر فعال ہوتے جاتے ہیں۔

​کیا سول بیوروکرسی ناکام ہو چکی ہے؟

​سول بیوروکرسی کی ناکامی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ افسران کام نہیں کر رہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نظام، جو عوام کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، اب مفلوج ہو چکا ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کا براہِ راست سیاسی تابع ہونا انہیں قانون کے مطابق کام کرنے سے روکتا ہے۔

جرائم پیشہ گروہوں اور شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اکثر انہیں سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔

جب پولیس جان جوکھوں میں ڈال کر کسی مجرم کو پکڑتی بھی ہے، تو طویل اور پیچیدہ عدالتی عمل کے بعد وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل عوام کا نظامِ انصاف سے اعتماد اٹھا دیتا ہے۔

​جب "جتھے" ریاست کو چیلنج کریں۔

​یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کوئی بھی گروہ، مذہبی ہو یا لسانی، یا پھر محض طاقت کے زور پر، ریاست کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ جب ریاست کسی ایک گروہ کے سامنے گھٹنے ٹیکتی ہے، تو وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔ لوگوں کو یرغمال بنانا یا عوامی مقامات کو بند کرنا اب ایک "موثر حکمت عملی" بن چکا ہے کیونکہ یہ طریقہ کار کام کرتا ہے۔
​جب تک ریاست طاقت کے استعمال میں "امتیازی رویہ" ختم نہیں کرے گی اور بلا تفریق قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ہر آپریشن کے بعد ایک وقتی سکون تو مل جاتا ہے، مگر اس جڑ کو ختم نہیں کیا جاتا جس سے یہ گروہ جنم لیتے ہیں۔

​کیا حل ممکن ہے؟

​فوج کو بار بار سیکیورٹی آپریشنز میں لانا ایک عارضی حل ہے، مستقل نہیں۔ مستقل حل کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں۔

پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا، جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کو عالمی معیار کے مطابق بنانا۔

فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تاکہ مجرموں کو قانون کا خوف ہو۔

ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو ان کے اصل اختیارات واپس دینا تاکہ وہ مقامی سطح پر مسائل حل کر سکیں۔

شدت پسندی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے رجحان کے خلاف ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دینا۔

​پاکستان کو اب اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ بندوق کے زور پر ہر مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ سول اداروں کی بحالی کے بغیر فوج کا ہر آپریشن صرف زخموں پر وقتی پٹی باندھنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم نے اپنی سول بیوروکرسی، پولیس اور عدلیہ کو مضبوط نہ کیا، تو ریاست اپنی قانونی حیثیت کھو دے گی اور ملک ایک ایسے انتشار کا شکار ہو جائے گا جہاں امن کا قیام ناممکن ہو جائے گا۔ ریاست کو اب اپنی ذمہ داری کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، ورنہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی۔


​ حکمران اشرافیہ کا "بیک اپ پلان"
​بدقسمتی سے، ہماری سول بیوروکرسی اور سیاسی اشرافیہ کا ایک بڑا حصہ ریاست کو اپنا "مستقل ٹھکانہ" سمجھنے کے بجائے ایک "کمانے کا ذریعہ" سمجھتا ہے۔ بیرونِ ملک جائیدادیں، فلیٹس اور آف شور کمپنیاں دراصل ان کا وہ "سیکیورٹی نیٹ" ہے جو وہ اس وقت استعمال کرنا چاہتے ہیں جب یہاں کے حالات خراب ہوں۔ یہ ذہنیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں کا اپنے ملک کے مستقبل، تعلیمی نظام، اور صحت کے شعبے پر کتنا کم اعتماد ہے۔

احتساب کا فقدان اور 'سفید پوشی' کا لبادہ
​سول بیوروکریٹس کی تنخواہیں اور قانونی مراعات اتنی زیادہ نہیں ہوتیں کہ وہ بیرونِ ملک مہنگی ترین جائیدادیں خرید سکیں۔ یہ دولت یقیناً ان ذرائع سے آتی ہے جو قانونی نہیں ہیں۔

ایک افسر اپنے کیریئر کے دوران اپنے ہر فیصلے کو 'سرمایہ کاری' کے طور پر دیکھتا ہے۔ ٹھیکوں میں کک بیکس، زمینوں کی الاٹمنٹ میں بدعنوانی، اور پالیسیوں میں ہیر پھیر کر کے وہ دولت جمع کرتے ہیں جسے بعد میں قانونی شکل دے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

بیوروکریسی تنہا یہ نہیں کرتی۔ سیاستدانوں اور افسر شاہی کا ایک ایسا گٹھ جوڑ ہے جہاں سیاسی تحفظ کے بدلے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔

کیا یہ صرف جائیدادوں تک محدود ہے؟
​اگر صرف جائیدادوں کی بات ہوتی تو شاید نقصان کم ہوتا۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اس "ذاتی مفاد" کی دوڑ میں پالیسی سازی کا عمل تباہ ہو چکا ہے۔

جب ایک بیوروکریٹ کا دھیان اس بات پر ہو کہ اس کی اگلی قسط لندن یا دبئی کے فلیٹ کی کیسے جانی ہے، تو وہ ملک کے لیے بہتر تعلیمی پالیسی یا معاشی اصلاحات کیسے بنا سکتا ہے؟

ملک کے اہم اداروں کی تباہی کے پیچھے یہی بیوروکریٹک 'لاپرواہی' اور 'مفاد پرستی' کارفرما ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر یہاں سب کچھ ڈوب بھی گیا، تو ان کے پاس "دوسرا گھر" موجود ہے۔

کیا پوری بیوروکرسی ایسی ہے؟

​یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ کہا جائے کہ تمام بیوروکریٹس ایک جیسے نہیں ہیں۔ اب بھی ایسے ایماندار اور مخلص افسران موجود ہیں جو محدود وسائل میں ملک کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن وہ یا تو سسٹم کے دبائو میں ہیں یا انہیں حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ "کرپٹ مافیا" اتنا طاقتور ہے کہ ایماندار افسر کا سروائیو کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک ریاست جس کے محافظ ہی اس سے بھاگ رہے ہوں۔

​جب کسی ملک کی انتظامیہ کا مستقبل اسی ملک سے باہر وابستہ ہو جائے، تو اس ملک کی ترقی کا خواب دیکھنا خود فریبی ہے۔ یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں، یہ 'قومی غداری' کے زمرے میں آتا ہے۔ جس افسر کی اولادیں، اثاثے اور مستقبل بیرونِ ملک ہوں، وہ ملک کے غریب عوام کے لیے دردِ دل کیسے رکھ سکتا ہے؟
​یہ صورتحال تب تک نہیں بدلے گی جب تک
• ​بیرونِ ملک اثاثے رکھنے پر سخت ترین جانچ اور پابندی نہ لگے۔
• ​افسران اور ان کے خاندانوں کے اثاثوں کی 'اوپن ڈیکلیریشن' نہ ہو۔
• ​سیاسی و بیوروکریٹک احتساب کا عمل کسی مصلحت کے بغیر شروع نہ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...