مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور عالم اسلام کا اجتماعی ردعمل
--- روما محمود---
اسلام آباد، 4 جون 2026
حال ہی میں قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اعلامیے (دیکھیے: "1000040952.jpg") نے عالم اسلام کی مشترکہ تشویش کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ 2 جون 2026 کو جاری ہونے والے اس بیان میں پاکستان سمیت آٹھ اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف کی تقدس پامال کرنے والے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔
اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی
اس دستاویز میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ زمینی حقائق کی سنگینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخلہ اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرانا، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہیں۔
تاریخی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات منظم اور جاری ہیں۔ الحرم الشریف کا کل رقبہ، جو 144 ڈونم پر مشتمل ہے، مسلمانوں کے لیے عبادت کا خصوصی مقام ہے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اردن کی وزارت اوقاف کے زیر انتظام ’یروشلم انڈومنٹ اینڈ الحرم الشریف افیئرز ڈیپارٹمنٹ‘ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے اس مقام کے نظم و نسق کا حق حاصل ہے۔
ضرورتِ وقت: اتحاد اور سفارتی دباؤ
یہ اعلامیہ مسلم ممالک کے درمیان ایک متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ جب دنیا کے آٹھ اہم ممالک، جن میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان شامل ہیں، ایک زبان ہو کر آواز اٹھاتے ہیں، تو اس کا اثر عالمی رائے عامہ پر پڑتا ہے۔ تاہم، محض مذمت کافی نہیں۔ مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ہاشمی تحویل (Hashemite custodianship) کے کردار کو مستحکم کرنا اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
بطور صحافی اور کالم نگار، میرا ماننا ہے کہ الحرم الشریف کا معاملہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں، یہ پوری امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس معاملے کو اپنی سفارتی ترجیحات میں سرِفہرست رکھیں اور اس تاریخی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن پلیٹ فارم پر آواز اٹھاتے رہںں۔

Comments